پاناما لیکس اسکینڈل اور وزیراعظم نواز شریف کی لندن میں قیام میں توسیع کی وجہ سے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ تاخیر کا شکار ہے اور چین منصوبے کی کامیاب تکمیل کے لیے پاک فوج کو اس میں شامل کرنے کا خواہشمند ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ سی پیک منصوبہ سویلین حکومت اور ملٹری قیادت کے درمیان کشیدگی کا باعث بن رہا ہے۔
ایک سیکیورٹی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ چین نے ہمیشہ سے تجویز دی کہ سی پیک منصوبے کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے پاک فوج کو شامل کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ چین پروجیکٹ کے منتظمین، خاص طور پر کئی وزراء کی شمولیت سے ناخوش ہے، جس کی وجہ سے سی پیک منصوبہ تاخیر کا شکار ہے، چین منصوبے کے لیے الگ ٹیم تشکیل دینا چاہتا تھا تاکہ اس منصوبے کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے۔
سی پیک منصوبے میں ملٹری قیادت کے کردار کے حوالے سے ایک سیکیورٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے اقتصادی اور اسٹریٹجک مفاد میں ہے اس لیے ہم اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ 7 جون کو پاکستان میں چینی سفیرسن وی ڈانگ نے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی تھی، جس کے دوران پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے سمیت دیگر مشترکہ مفادات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے چین نے اس منصوبے کے حوالے سے کئ بار سویلین اور ملٹری قیادت پر غالب آنے کی کوشس کی۔
پاک آرمی پہلے ہی سی پیک منصوبے اور چینی شہریوں کی حفاطت کے لیے ایک اسپیشل سیکیورٹی ٹیم بناچکی ہے۔
واضح رہے کہ 23 جون کو تاشقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کی سائیڈ لائن میں پاکستانی صدر ممنون حسین نے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کی، جس کے بعد صدر مملکت ممنون حسین کا کہنا تھا کہ ’پاکستان سی پیک کے تحت تمام منصوبوں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔‘
گزشتہ ہفتے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے چینی اسٹیٹ سیکیورٹی کے وزیر جینگ ہوئی چنگ سے بھی ملاقات کی تھی اور دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں (سی پیک) منصوبے کو اولین ترجیح اور مقررہ وقت میں تکمیل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔