خواجہ ناظم الدین کی پیدائش
٭19 جولائی 1894ء پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل اور دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی تاریخ پیدائش ہے۔
خواجہ ناظم الدین جدوجہد آزادی کے ممتاز رہنما اور قائد اعظم محمد علی جناح کے بااعتماد ساتھی تھے۔ وہ ڈھاکا میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ نواب سلیم اللہ کے بھانجے تھے جو آل انڈیا مسلم لیگ کے بانیوں میں شمار ہوتے تھے۔ خواجہ ناظم الدین نے مسلم یونیورسٹی‘ علی گڑھ اور کیمبرج یونیورسٹی‘ برطانیہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر سیاسی میدان میں داخل ہوئے۔ وہ ڈھاکا میونسپل کمیٹی کے چیئرمین‘ مجلس دستور ساز بنگال کے رکن اور متحدہ بنگال کے وزیر تعلیم‘ وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ کے مناصب پر فائز رہے۔ 1937ء میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور پھر تاعمر اسی جماعت سے منسلک رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ مشرقی پاکستان کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ 1948ء میں قائد اعظم کی وفات کے بعد انہیں پاکستان کا گورنر جنرل منتخب کیا گیا 1951ء میں جب لیاقت علی خان شہید ہوئے تو وہ پاکستان کے وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے۔
1953ء میں گورنر جنرل غلام محمد نے انہیں غیر آئینی طور پر برطرف کردیا جس کے بعد وہ دلبرداشتہ ہوکر سیاست سے کنارہ کش ہوگئے۔ 1963ء میں ایک مرتبہ پھر سیاست کے میدان میں متحرک ہوئے۔ 1965ء کے صدارتی انتخابات کے لیے وہ بھی ایک ممکنہ امیدوار تھے مگر خود انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کو امیدوار بنائے جانے کے لیے کوشش کی اور کامیاب رہے۔ ابھی یہ صدارتی مہم جاری تھی کہ 22 اکتوبر 1964ء کو حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔
------------------------------------------------------------------------------------------
اسپیشل اولمپکس انٹرنیشنل کے انعقاد پر یادگاری ڈاک ٹکٹوں کا اجرأ
19جولائی 1991ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اسپیشل اولمپکس انٹرنیشنل کے انعقاد پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا ۔ اس ڈاک ٹکٹ پراسپیشل اولمپکس انٹرنیشنل کا لوگو اور انگریزی میں Special Olympics International 1991 کے الفاظ طبع کیے گئے تھے اوراس کا ڈیزائن جناب عادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔
------------------------------------------------------------------------------------------
ساغر صدیقی کی وفات
٭19 جولائی 1974ء کو اردو کے نامور شاعر ساغر صدیقی لاہور میں وفات پاگئے۔ ساغر صدیقی کا اصل نام محمد اختر تھا۔ وہ 1928ء میں انبالہ میں پیدا ہوئے۔ اوائل عمر سے شعر و شاعری سے شغف تھا۔ ابتدا میں ناصر حجازی تخلص کرتے تھے۔ پھر ساغر صدیقی کا قلمی نام اختیار کیا اور اسی نام سے شہرت پائی۔
ساغر صدیقی اعلیٰ پائے کے شاعر تھے۔ بڑے زودگو تھے۔ کئی فلموں کے نغمات بھی لکھے مگر پھر درویشی کو اختیار کیا۔ وہ عموماً کسی قبرستان میں یا کسی مزار پر مجذوبوں کی صورت میں پڑے رہتے تھے۔ اسی ماحول میں انہوں نے گھٹیا نشے بھی کرنا شروع کردیے جس کے باعث ان کی صحت بہت جلد جواب دے گئی اور وہ فقط 46 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔
ساغر صدیقی کی شاعری کے کئی مجموعے بھی شائع ہوئے جن میں خشت میکدہ، لوح جنوں‘ شب آگہی‘ شیشہ دل‘ غم بہار‘ مقتل گلی اور زہر آرزو کے نام شامل ہیں۔ ان کا مدفن لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں ہے ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے:
وہاں اب تک سنا ہے سونے والے چونک اٹھتے ہیں
صدا دیتے ہوئے جن راستوں سے ہم گزر آئے