نسداد دہشت گردی کی عدالت نے دہشت گردوں کے علاج معالجے سے متعلق ڈاکٹر عاصم کیس کے ملزمان نامزد میئر کراچی وسیم اختر ، رؤف صدیقی، قادر پٹیل اور انیس قائم خانی کی ضمانت میں توثیق کی درخواست مسترد کردی ۔
عدالت نے گواہوں کے بیان اور عینی شاہد کے بیان کے بعد ملزمان کی ضمانت میں توثیق کی درخواست مستردکی۔
عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد اے ٹی سی کے گیٹ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی اور کیس کے ملزمان نامزد میئر وسیم اختر، عبدالرئوف صدیقی اور عبدالقادر پٹیل کو احاطہ عدالت سے باہر نہیں جانے دیا گیا، تاہم پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل عدالت سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور اب انکے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہو گئے ہیں
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ سیاست داں ہیں، قادر پٹیل کے وکیل کا کہنا تھا کہ کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے۔تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ گارڈز دئیے جائیں کہ ملزمان کو گرفتار کر سکوں،ملزمان کو باہر نہ جانے دیا جائے
تفتیشی افسر اور وکلاء میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔انسداد دہشت گردی عدالت کے دروازے بند کر دیے گئے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما وسیم اختر نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ عدالت میں پیش ہونے کیلئے کل لندن سے واپس آیاہوں، آج ضمانت منسوخ یا قبول کرنے کی سماعت تھی۔
رہنما پیپلزپارٹی قادرپٹیل کی جیونیوزسےٹیلیفونک گفتگومیں بتایا کہ جب میں عدالت پہنچا تو دروازے بند تھے، سیاسی کارکن ہوں ، حالات جیسے بھی ہوں سامنا کروں گا،بھاگنے والانہیں۔
ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی کا موقف ہے کہ فیصلہ طے شدہ تھا ، سیاسی انتقام کی بد ترین مثال ہے
ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف کرپشن اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزامات پر کراچی کے نارتھ ناظم آباد تھانے میں انسداد دہشت گردی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔
پاسبان پاکستان کے سیکریٹری جنرل عثمان معظم کو رینجرز نے گذشتہ برس 20 جولائی کو حراست میں لیا تھا، جس کے ایک ماہ بعد 28 اگست کو انہیں عدالت میں پیش کیا گیا. رینجرز نے دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان کا 90 روز کا ریمانڈ لیا جس کے بعد 28 نومبر کو ان کو پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا.
عثمان معظم اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت اور کالعدم تنظیم سے روابط کے الزامات میں تحقیقات جاری ہیں۔
ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ایک اور ملزم سلیم شہزاد بیرون ملک ہیں اور انھوں نے ابھی تک ضمانت بھی حاصل نہیں کی، جنھیں مفرور قرار دیا جاچکا ہے۔