ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک سال کے دوران علیحدگی پسندوں کی مسلح مزاحمت میں تیز ہوئی ہے۔
جنوری 2015 سے جنوری 2016 تک 12 مہنیوں کے دوران علیحدگی پسندوں اور ہندوستانی فورسز کے درمیان ہونی والی جھڑپوں میں تقریباً 190 افراد ہلاک ہوئے جن میں 108 مسلح حریت پسند اور 47 فوجی اہلکار شامل ہیں۔
ہندوستانی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کے رہنما اے ایم ساگر کے سوال پر تحریری رپورٹ پیش کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک سال کے دوران 800 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ چار عدالتی تحقیقات کے احکامات جاری کیے گئے۔
محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ کے ساتھ ساتھ کشمیر کی وزیر داخلہ بھی ہیں، انہوں نے ایوان کو بتایا کہ جنوری 2015 سے جنوری 2016 کے درمیان دہشت گردی کے 146 واقعات پیش آئے جن میں 108 دہشت گرد، 39 سیکیورٹی اہلکار اور 22 عام شہری ہلاک ہوئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسی عرصے میں سرحد پر فائرنگ کے 181 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 8 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 22 افراد ہلاک جبکہ 75 افراد زخمی ہوئے۔
محبوبہ مفتی نے بتایا کہ کمشیر کے چار جنوبی اضلاع آننت ناگ، پلوامہ، کلگام اور شوپیاں میں دہشتگردی کے سب سے زیادہ 61 واقعات پیش آئے جن میں 12 سیکیورٹی اہلکار اور 34 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔
اس کے علاوہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ آزاد کشمیر سے متصل تین شمالی اضلاع کپواڑہ، بارہ مولا اور بندی پورہ میں اس طرح کے حملوں میں جنوبی اضلاع کے مقابلے میں دوگنا ہلاکتیں ہوئیں۔
شمالی اضلاع میں مسلح حریت پسندوں کی جانب سے مزاحمت کے 57 واقعات سامنے آئے اور 92 افراد ہلاک ہوئے جن میں 60 حریت پسند اور 21 فوجی اہلکار شامل ہیں۔
محبوبہ مفتی نے کنٹرول لائن کے ذریعے سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد اور تفصیلات نہیں بتائیں۔
سری نگر میں تشدد کے 15 واقعات سامنے آئے جس میں ایک عام شہری ہلاک ہوا جبکہ جموں سمیت کشمیر کے 22 میں سے 7 اضلاع میں تشدد کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
محبوبہ مفتی نے بتایا کہ جموں کے پونچھ سیکٹر میں پانچ مسلح تصادم کے واقعات پیش آئے جن میں چھ دہشتگرد اور ایک فوجی جوان ہلاک ہوا۔
واضح رہے کہ 11 روز قبل حزب المجاہدین کے کمانڈر 21 سالہ برہان وانی کو فورسز نے نشانہ بنایا تھا، برہان وانی کی موت کے بعد کشمیر کی صورتحال بدستور مخدوش ہے اور 11 روز سے کرفیو نافذ ہے، کرفیو کے دوران مظاہروں میں 44 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے