بھارت کے زیرکنٹرول کشمیر میں گزشتہ بارہ روز سے کرفیو نافذ ہے، جس کے وجہ سے وہاں اشیائے خورد و نوش کے ساتھ ساتھ ضروری ادویات کی بھی قلت پیدا ہو گئی ہے۔
کشمیریوں کے مطابق انہیں گھروں میں ’قید‘ کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی سکیورٹی فورسز کے مابین ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد پینتالیس تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ان احتجاجی مظاہروں کا خاتمہ ہے، جن کا آغاز کشمیر کے ایک مشہور نوجوان باغی لیڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہوا تھا۔ وہ اس خطے کے سب سے بڑے علیحدگی پسند گروپ حزب المجاہدین کے کمانڈر تھے
نئی دہلی حکومت کے خلاف حالیہ احتجاجی مظاہرے سن 2010 کے بعد سے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے تھے۔