کراچی میں رینجرز کی مدت میں توسیع کے معاملے پر مزید تاخیر کا امکان ہے، وجہ یہ ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی دبئی واپسی میں تاخیر ہو گئی ہے۔
سندھ حکومت اس حساس معاملے پر کوئی فیصلہ آصف زرداری کے مشورے کے بغیر نہیں کرے گی،آصف زرداری کو آج امریکا سے دبئی پہنچنا تھا، مگر وہ اب دو دن بعد دبئی پہنچیں گے،وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ بھی اب تاخیر سے دبئی جائیں گے۔
سندھ میں رینجرز بے اختیار ہے،جبکہ صوبائی حکومت اختیارات دینے میں ہچکچاہٹ کی شکار ہے، کراچی میں رینجرز اب نہ چھاپا مار سکتی ہے نہ گرفتاریاں کر سکتی ہے، اختیارات کے خاتمے کے بعد رینجرز نے اسنیپ چیکنگ ختم کردی۔
اب سندھ کی سیکیورٹی کا سارا انحصار پولیس پر ہے،اہم تنصیبات سے رینجرز کو ہٹائے جانے کا امکان بھی ہے، وزیر اعلیٰ سندھ کہتے ہیں کہ سندھ حکومت نے رینجرز کو اختیارات صرف کراچی کے لیے دیے تھے، مگر اب فیصلہ پارٹی قیادت دبئی میں کرے گی۔
رینجرز کے خصوصی اختیارات کی مدت پہلے بھی ختم ہوئی، مگر سندھ حکومت نے پرانی تنخواہ پر گزارا کرتے ہوئے مدت بڑھا دی، اس مرتبہ ایسی ہی سمری پر دستخط کی راہ میں یہ مسئلہ حائل ہے کہ رینجرز نے قومی ایکشن پلان کا دائرہ کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر حصوں تک پھیلانے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے،ذرائع کے مطابق یہ مطالبہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں ڈی جی رینجرز نے کیا۔
سندھ حکومت یہ مطالبہ پورا کر دے تو رینجرز ویسے چھاپے بہ آسانی مار سکے گی جیسا اس نے لاڑکانہ میں اسد کھرل کی گرفتاری کے لیے مارا،اس معاملے میں وفاقی حکومت نے بھی اپنا وزن رینجرز کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ رینجرز کی مدت میں توسیع نہ کی گئی تو قومی ایکشن پلان اور آپریشن پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، اس بارے میں آپ خود اپنے اختیارات استعمال کریں ۔