15.10.2026, 09:43am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

فرقہ واریت کا لبادہ اْوڑھنے والوں سے
21.05.2009, 01:01pm , جعمرات (GMT+1)

بشیراحمد خانیاری
ہندوستان پر مسلمانوں نے تقریباً آٹھ سو سال تک حکمرانی کی اور تقریباً دو سو سال تک انگریزوں کے غاصبانہ تسلط کے خاتمے کے لئے برسرپیکار رہے۔ میں جب عظیم مغل شہنشاہ محی الدین اورنگ زیب عالمگیر کا انتقال ہوا تو مرہٹوں ، سکھوں اور جاٹوں نے ہرجگہ مغلوں کی مرکزی حکومت کے خلاف طوفانِ بدتمیزی برپا کیا۔ اس طرح اٹھارویں صدی عیسوی کے شروع ہی سے ہندوستان میں مسلمانوں کے زوال کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

اس کے بعد میں ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی رہی سہی قوت کا خاتمہ ہوا اور ہندوستان پر انگریزوں کی گرفت مضبوط ہوگئی۔ اس طرح ہندوستانی مسلمان چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پسنے لگایعنی ایک طرف وہ نصرانیوں کے غیظ وغضب کا ہدف بنا اور دوسری طرف غیر مسلموںکے ظلم وستم کا شکار ہوا۔

اب ہندوستان میں اسلام دشمن قوتوں نے سراٹھانا شروع کیا ان کی پشت پناہی انگریز کرنے لگے کیونکہ انگریز اچھی طرح جانتا تھاکہ اگر انگریزی اقتدا رکو کوئی خطرہ ہے تو وہ صرف او رصرف مسلمانوں سے ہے ، ہندو?ں سے نہیں۔ہندوستان میں سب سے پہلے جس خونخوار اڑدھے نے اپنا سر اٹھایا وہ ’’راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ‘‘ ہے۔ ’’بھارتیہ جنتا پارٹی ‘‘ اسی بدنام زمانہ جماعت کے سیاسی سٹیج کا کردار آج تک ادا کرتی آرہی ہے۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد مسلم کش فسادات میں اس پارٹی نے ہمیشہ سے ہی کلیدی رول ادا کیا ہے۔

بہرحال ہندوستان کی آزادی کے بعد مسلمانوں کو یہ اعتماد اور بھروسہ دلانے میں نصف صدی سے زیادہ مدت صرف ہوئی کہ ہندوستان یہاں کے رہنے والے مسلمانوں کواتنا ہی عزیز ہے جتنا کسی ہندو کو لیکن 6دسمبر 1992کے روز سیاہ نے یہ ثابت کردیا کہ مرکزی سرکار کے اعلیٰ ذمہ داران ، دستورِ اساس ہند ، ہندوستانی عدلیہ ، افسر شاہی ، حفاظتی انتظامیہ اور ہندوستان کے اکثریتی طبقہ سے وابستہ لیڈران مسلمانوں کی کسی بھی یقین دہانی پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔

سنگھ پریوار ،جو گولوالکر کی وچار دھاراکو اپنا دھرم مانتے ہیں بھارتیہ جنتا پارٹی اور غیر مسلموں کی دیگر فرقہ پرست تنظیمیں اس وچار دھارا کو ایک مو ثر ہتھیار کے طور پر برابر استعمال کرتی آرہی ہیں۔ ویشوہندوپریشد، شیوسینا ، بجرنگ دل ، ہندو مہا سبھا ، راشٹریہ اتسو منڈل،ہندو شیو جینتی سمیتی، رام ججز سنگٹھن ،رام ترن منڈل اور لکشمی سینا وغیرہ جیسی فرقہ پرست پارٹیوں کے نظریوں کی بنیاد ہی مسلم دشمنی پر رکھی گئی ہے اور وہ بھی انتہائی جارحانہ شکل میں۔ جس طرح ’’ہٹلر‘‘ اور ’’نازی پارٹی‘‘ نے لگاتار جھوٹ اور بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے یہودیوں کو قابل نفرت قوم کی شکل میں عوام کے سامنے پیش کیا بالکل اسی تکنیک کو سنگھ پریوارنے سیکولر بھارت میں اپنا لیا ہے۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد یہ جماعتیں فرقہ وارانہ فسادات میں ایک کلیدی رول ادا کرتی آرہی ہیں۔ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی اور شہادت ،مسلم پرسنل لا میں ترمیم اور مسلمانوں کی تذلیل ان کی وچار دھارا کا اہم حصہ ہے۔

بابری مسجد شہادت :کارسیوکوں نے کسی کی نہیں سنی۔(ایڈوانی)

یہ سرخی 11مارچ 2009کے کشمیر کے مو قر روزنامہ ’’کشمیر عظمیٰ‘‘ میں چھپی ہے۔

اخبار لکھتاہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر اور وزیراعظم کے عہدے کے لئے پارٹی کے اْمیدوار ایل کے ایڈوانی نے کہاہے کہ 6دسمبر 1992] کو جب ایودھیا میں پندرہویں صدی کی مسجد کی گنبد پر کارسیوک چڑھ کراوزاروں سے ضرب لگارہے تھے اس وقت کا منظر دیکھ کر وہ دْکھی ہوئے اور کارسیوکوں سے نیچے آنے کی اپیل کی۔ مسٹر ایڈوانی پر بابری مسجد منہدم کرنے کی قیادت کا الزام ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’ میرا دیش میراجنون‘‘ کا ایک اقتباس اپنے ویب سائٹ پر اْردو میں دیاہے جس میں 6دسمبر کے واقعات کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے لکھاہے کہ ’’میرے ساتھ ساتھ اسٹیج پر موجود دیگر لیڈر بھی دیکھ کر حیران تھے، سبھی لوگوں نے محسوس کیا کہ کچھ غلط ہورہاہے۔ وہاں موجود لیڈر مسلسل اپیلیں کررہے تھے کہ کارسیوک فوراً نیچے اْتر آئیں اور منتظمین کے مقرر کردہ ضابطوں پر عمل کریں۔اس کے بعد ہی مسٹر ایڈوانی نے لکھا ہے کہ میرا دل بہت دْکھی ہوگیا تھا۔ کسی طرح میں بول پارہا تھا ‘‘۔

سنگھ کے سینئر افسر وی ایچ ششادری بھی وہاں موجو دتھے۔ وہ کئی زبانوں سے واقف تھے اور سبھی زبانوں میں انہوں نے کارسیوکوں سے نیچے اْترنے کی اپیل کی کیونکہ کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ لوگ کون تھے اور کہاں سے آئے تھے جنہوں نے اس طرح قانون کواپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا۔ ان اپیلوں اور درخواستوں سے یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ جو کچھ ہورہا تھا ، وہ تحریک کے اصولوں اور مقاصد کے برعکس تھا۔ مسٹر ایڈوانی کی کتاب کے اْردو ترجمہ میں ایک جگہ ایودھیا کی منہدم کی گئی عبادت گاہ کو بابری مسجد مانا گیا ہے۔ یہ جملہ کچھ اس طرح ہے ’’6دسمبر1992 کوایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کا واقعہ پیش آیا‘‘۔

سنگھ پریوار اپنے گھناونے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے بعد جس ڈھٹائی اور بناوٹی ہمدردی کا ڈھونگ رچا کر مسلمانوں کویہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ سراسر سفید جھوٹ ہے۔ گولوالکر کا سچابھگت ہونے کے ناطے اور اس کی وچار دھارا کو آگے بڑھانے والے ایڈوانی مسلمانوں کا ہمدرد ہوہی نہیں سکتا۔ بابری مسجد کی شہادت پر جس طرح اور جس انداز میں ایڈوانی نے اپنی لاتعلقی اور معصومیت کا اظہار کیا ہے وہ نہ صرف جھوٹ پرمبنی ہے بلکہ سنگھ پریوار کی دورْخی پالیسی کی آئینہ دارہے۔ بقول شاعر

اس انداز بیاں سے اور چوری کھل گئی دل کی
کہاتھا جس نے تجھ سے جھینپ کر نیچی نظر کرلو

بابری مسجد کی شہادت پر مگرمچھ کے آنسو بہانے او رافسوس کرتے والے ایڈوانی جی آپ نے اپنی گرفتاری سے قبل یہ بیان جاری کیا کہ ’’ ہم نے جو اظہارِ افسوس بابری مسجد کی شہادت کے بارے میں کیا تھاوہ محض رسمی تھا۔ ہم تو درحقیقت اس انہدام بابری مسجد کے واقعہ کواپنا حاصل مانتے ہیں اور اس کے لئے ہمارا ضمیر غیر مطمئن نہیں ہے۔‘‘

واقعات کی اس ترتیب اور حکمت عملی پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتاہے کہ بابری مسجد کی شہادت اچانک چند سرپھرے کارسیوکوں سے واقع نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے سنگھ پریوار کے اعلیٰ قائدین کی منصوبہ بند سازشں کا براہِ راست عمل دخل ہے اور مسجد شریف کے انہدام کے لئے پہلے ہی سے مکمل تیاری کی گئی تھی خود ویشو ہندوپریشد کے ایک مہان نیتا کے بیان کے مطابق کارسیوکوں کو حفاظتی حصارتوڑنے اور پولیس کے ذریعے کھڑی کی گئی رکاوٹوںکوپار کرنے کی بھی پوری پوری تربیت دی گئی تھی۔ ان تربیتی کیمپوں میں اشوک سنگھل، ونے کٹیار ، مورہ پنت پنگلے اور اچاریہ گری راج کشور وغیرہ خصوصی شرکا کی حیثیت سے برابر موجود رہتے تھے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ تخریب کاری کی تربیت کے خصوصی منتظم کارسیکولر بھارت کے ایک ’’مہاویر چکر یافتہ ریٹائرڈ میجر جنرل مہی پت سنگھ رہے تھے۔ اس مکروہ کارروائی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آندھراپردیش ، مہاراشٹر ،مدھیہ پردیش ، راجستھان اور اْتر پردیش کے پانچ سو پچپن  اچھے طاقتور اور مرمٹنے کو تیار کارسیوکوں کی ترتیب بندی کی گئی تھی۔ کارسیوکوں کے اس جنونی گروہ کو ’’ لکشمن سینا‘‘ کا نا م دیا گیا تھا۔

ایڈوانی جی اس فراہم کردہ جانکاری سے آپ کی پریشانی ضرور دور ہوگئی ہوگی کیونکہ آپ کو کچھ بھی پتہ نہیں کہ جو لوگ بابری مسجد کو اوزاروں سے ضرب لگارہے تھے وہ کون تھے اور کہاں سے آئے تھے۔

ایڈوانی جی 6دسمبر1992کو جب آپ کی موجودگی میں بابری مسجد شہید کی جارہی تھی تو اس وقت اسٹیج سے برابر یہ اعلان ہورہا تھاکہ کارسیوکو ایودھیا مارگ ، ٹیڑھی بازار ، نیا گھاٹ ، ودیا کنڈ سبھی راستوں کو مکمل طور پر بند کردو۔پولیس کی پرواہ مت کرو جو خون خرابہ ہورہاہے ایک بار ہو جانے دو۔

ایڈوانی جی بھارت کے سابق صدر شنکر دیال شرما نے بابری مسجد کا فرقہ پرست تخریب کاروں کے ہاتھوں شہید کرنے کو ملک دشمنوں کی کارستانی قرار دیا او راْس وقت کے وزیراعظم نرسمہا را? نے اس کارروائی کو دغابازوں کا فریب قرار دیا اور یہ بھی کہاکہ ’’ یہ بالکل ایسا ہی ہوا جیسے کہ ایک بیٹے نے اپنی ماں کی پیٹھ میںچھراگھونپ دیا ہو‘‘۔

ایڈوانی جی اب بھارت ماتا کی تاریخ کا بریدہ باب 6دسمبر1992مقام ایودھیا بھی ملاحظہ کیجئے تاکہ آپ کو وہ سب کچھ یاد آجائے جو مرض نسیاں کی وجہ سے آ پ اپنی کتاب ’’میرا دیش میرا جیون‘‘ میں شاید لکھنا بھول گئے ہوں گے۔

فیض آباد کے شہر ایودھیا 6دسمبر1992 کی صبح ’’مانس بھون ‘‘ سے منظر بالکل صاف تھا۔سرجوندی کے اوپر کہرا اپنا دم توڑ چکاتھا۔ چار سو تریسٹھ سال پرانی بابری مسجد شریف اپنی خستہ حالی کے باوجود پوری شان وشوکت کے ساتھ کھڑی تھی۔ اسی روز صبح 9بجے لا?ڈ اسپیکر سے اپیل کی گئی کہ ’’کارسیکو! مارگ ورشک منڈل‘‘ کے ممبران کے لئے چبوترہ خالی کرناہے ،جوبس اب آیا ہی چاہتے ہیں۔ جیسے ہی دھارمک کی یہ ہستیاں داخل ہوئیں کوئی قریب ہی سے ویشو پریشد کے دفتر سے ایک میلا کچیلا سا کمبل لے آیا اوراس کمبل کو چبوترے کے ایک کونے پر پھیلا دیا۔پھر اس پر گیندے کے ہار ڈال کر پوجا کی گئی بس یہی وہ مذہبی رسوم تھیں جو اس منحوس دن میں ادا کی گئیں۔

پہلے ہی سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کوتوڑنے کی اوّلین کوشش ایک کلین شیو (Clean Shave) بھکاری نے کی جوچمکدار پیلے کپڑے پہنے اور ہاتھ میں بھالا لئے ہوئے تھا ،متنازعہ جگہ کے اندر گھس گیا۔ تھوڑی ہی دیر بعدایک سادھو جوگندی سفید چادر لپٹے ہوئے تھا ، اندر گھس گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے تخریب کاروں کی بڑی تعداد نے اندر گھسنے کی کوشش کی۔

اس کے بعد ’’سادھوی رتمبرا‘‘اپنے مخصوص نازو انداز میں نمودارہوئی۔ پریشد کے بعض ہستیوں نے رتمبرا کومتنازعہ جگہ کے گرد گھمایا۔ اسی دوران کٹر مسلم دشمن سنیاسن اومابھارتی بھی ان کے ساتھ جاملی۔

ٹھیک 10بجے اشوک سنگھل اور ونے کٹیار بابری مسجد کی بائیں جانب کی تنگ گلی کی طرف بڑھے جونہی وہ متنازعہ جگہ میں داخل ہوئے تو تخریب کاروں کی بھاری تعداد نے ان کے پیچھے چلنے کی کوشش کی جو لوگ ’’بیری کیڈس‘‘ کے اوپر چڑھ گئے تھے۔وہ چند قدم دور رک کر ’’جے شری رام‘‘ کے فلک شگاف نعرے لگانے لگے اور اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کو فحش اور نازیبا گالیوں سے نوازنے لگے۔

11بجتے ہی سیکورٹی سائرن کی آواز یں بلند ہوئیں اور ایڈوانی کے ساتھ مرلی منوہر جوشی کا قافلہ 12فٹ چوڑی سڑک پر پہنچ چکا تھا۔ ایڈوانی جی آپ دونوں کے ساتھ توڑ پھوڑ کے اوزاروں سے لیس ایک جنونی بھیڑ تھی جو ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ دیتی تھی۔ سادھو اور سوامی درختوں کی موٹی موٹی شاخوں پر ’’بکرما دتیہ‘‘ کے بدصورت بھوتوں کی طرح نظر آرہے تھے۔ پولیس والے بڑے جوش وخروش سے طوفانِ بدتمیزی کامنظر دیکھ رہے تھے اور ساتھ ہی تالیاں بھی بجانے لگے تھے۔ سی آر پی ایف کے کمانڈنٹ ’’اے شٹ‘‘ جو مسجد کی حفاظت پر ظاہری طور پر مامور تھا ، اس کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ سخت حکم پہلے ہی سے تھاکہ کارسیوکوں پر کسی حال میں بھی فائرنگ نہ کی جائے۔

ایڈوانی جی !آپ اور منوہر جوشی کی خوشیوں کا اْس وقت کوئی ٹھکانہ نہ تھا جب بجرنگ کے نیتا ’’ونے کٹیار‘‘ نے اعلان کیا کہ ’’ یہ تو ہنومان کی گداچل رہی ہے ‘‘۔ سادھوی رتمبرا فرطِ مسرت سے تانڈو ناچ ناچ رہی تھی۔سنگھل اور کٹیار اِدھراْدھر رقص کررہے تھے۔

ایڈوانی جی !آپ دونوں کے ساتھ جو تخریب کاروں کی بھیڑآئی تھی وہ تیزی کے ساتھ بابری مسجد کی طرف دوڑ پڑی۔ ایک تخریب کار نے ایک رسّی مسجد شریف کے او پر پھینک دی جو داہنی طرف سے گنبد میں پھنس گئی۔ چندمنٹ کے لئے وہ گنبد کے پیچھے چلا گیا اور پھر گنبد کے اوپر چڑھا ہوا دکھائی دیا۔ اس دوران گنبد کے پیچھے سے ایک اور تخریب کار نمودارہواجو بھگوا جھنڈا اپنے سینے پر باندھے ہوئے تھا۔ اس نے پہلے اس جھنڈے کو کھولا اوردھارمک نعروں کے درمیان جھنڈے کو گنبد کے کلش سے باندھ دیا۔

اس دوران مسجد شریف کی باہری دیوار مکمل طور پر منہدم کی گئی تھی ،مسجد شریف کے چاروں طرف لگے تقریباً تمام بیری کیڈس اکھاڑ دئے گئے تھے۔ہر جگہ سے خار دار تار کاٹے جاچکے تھے۔ لا?ڈ اسپیکروں سے صرف رتمبرا اور اومابھارتی کے جوشیلے نعرے ہی سنائی دے رہے تھے۔ اومابھارتی تخریب کاروں کو شاباشی دے رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں ’’ ایک دھکا اور دو بابری مسجد توڑ دو‘‘۔’’اور زور اور زور ‘‘رتمبرا اپنا مشہور آلھا گارہی تھی ’’خون خرابہ ہورہاہے ایک بار ہوجانے دو‘‘۔

ایڈوانی جی! آپ نے ایچ وی ششادری کے حق میں صفائی پیش کی مگر آپ یہ بھول گئے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے نیتا ایچ وی ششادری گرجے اپنے سخت لہجے میں چنگھاڑرہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اگر مرکز نے ہم سے ٹکرانے کے لئے فوجی بھیج دی تو ہم مرکز کو اپنی طاقت دکھادیں گے ، ہم نہیں ہٹیں گے۔

جس وقت بابری مسجد میں زور وشور سے توڑ پھوڑ کی کارروائی جاری تھی۔ اشوک سنگھل کو تشویش لاحق ہوئی اور لا?ڈ اسپیکر پر اعلان کرنے لگا۔ رام جنم بھومی میں داخل ہونے والے کارسیوکوں کے لئے لئے خاص اطلاع ہے کہ گنبد وں سے نیچے اْترآ?۔ وہ آپ کے اوپر گرپڑیں گے۔ اسی قسم کی اپیل ایڈوانی نے بھی کی۔کارسیوکوں کے لئے ایڈوانی اور سنگھل کی تشویش بیجا نہ تھی کیونکہ چار تخریب کار گنبد کے نیچے دفن ہوگئے تھے۔

6 دسمبر 1992کو جب بابری مسجد شہید کی جارہی تھی تو کارسیوکوں نے مسلمانوں کے گھروں کو جلانا اورلوٹنا شروع کیا۔سب سے پہلے دھرم کانٹا کے پاس کی سبھی دکانوں کو لوٹا گیا اور جلایا گیا۔ جوگمٹیاں نما دکانیں تھیں ان کو سڑک کے درمیان لاکر جلا دیا گیا تاکہ اپنوں کی دکانوں کوکسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ اس کے بعد مسلمانوں کے دو آرامشینوں کو جلایا گیا۔ دھرم کانٹا سے ملحق رام نگر اور پانجی ٹولہ کی بہت ساری عبادت خانوں کو شہید کرکے نذرِ آتش کردیا گیا۔ پولیس ان انسانیت سوز نظاروں کو دیکھ کر خوش ہورہی تھی او ران تخریب کاروں سے بھر پور تعاون کررہی تھی۔

ایڈوانی جی !کیا آپ کے سامنے قاضیانہ محلہ سے لے کر ٹیڑھی بازار تک مسلمانوں کے مکانات اور دکانات مکمل طور پر نہیں جلائی گئیں۔یہاں کے مکینوں کو باہر سے زنجیر بندکرکے زندہ جلا یا گیا۔ کیابابری مسجد کے سابق پیش امام مرحوم عبدالغفار کے دو صاحبزادے 55سالہ محمد صابر اور 40سالہ ناظر کو زندہ جلا کر شہید نہیں ہوئے ؟

7دسمبر1992کو بابری مسجد کا کہیں نام ونشان باقی نہ تھا۔ ایودھیا کے لاکھوں فرقہ پرست وہاں جمع ہوچکے تھے جو بہت ہی شاداں وفرحان تھے۔ ویشو اہندو پریشد کے ایک معروف کارکن نے بہ آواز بلند کیا کہ ’’ یہ وہ ہے جو میں چاہتاتھا۔ یہ وہ ہے جوآپ چاہتے تھے ، یہ وہ ہے جو بھارت ماتا کا ہردوست چاہتا تھا۔ یہ سب کچھ ہم سب کے دلوں کی دھڑکن کے عین مطابق ہوا‘‘۔

6دسمبر1992 کی دوپہر تک ایودھیا میں ایک پرشکوہ بابری مسجد ،28قدیم وجدید مساجد ، پچاس بزرگوں کے مزارات ، مسلمانوں کے تقریباً چار سو مکانات اور ساڑھے چار ہزار ایسے بندگانِ خدا جس کی واحد شناخت یہ تھی کہ وہ مسلمان کہلاتے تھے۔

8دسمبر1992 کی صبح ’’آپریشن کلین اَپ‘‘ کے بعد ان میں سے مندرجہ ذیل بچی تھیں :

21:بدن دریدہ لاشیں ، 16عصمت مآب بیٹیوں کو فضا?ں میں گردش کرتی بے بس آوازیں ، تمام جلے ہوئے مکانات کی راکھ منہدم مقابر اور تباہ شدہ مسجدیں۔

ایڈوانی جی ! نہ صرف آپ اور آپ کی پارٹی (بھارتیہ جنتا پارٹی) بلکہ سیکولر بھارت میں پروش پارہی تمام فرقہ پرست جماعتوں کے علاوہ وزیراعظم نرسمہا را? ، مرکزی وزیر داخلہ شنکر را? چوہان ، اْترپردیش کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ، افسر شاہی ،پولیس انتظامیہ اور بھارتی عدلیہ اس پوری منصوبہ بند سازش کے نمایا ں ارکان نظر آتے ہیں۔

مختصراً یہ ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ کا ایک موڑ ہے جہاں شکست خوردگی ہے ، بے وفائی ہے۔گولیوں سے چھلنی بے گناہ نوجوانوںکے سینے ہیں۔ بوڑھوں کی بے رونق ہوتی ہوئی آنکھیں اور عصمت مآب دوشیزا?ں پر ڈھالی گئی قہرسامانیاں ہیں۔ ڈھائی گئی مسجدیں ،مسمار کئے گئے مقابر ،جلتے ہوئے مکانات اور ہندوفرقہ پرستوں کی آنکھوں سے نکلے ہوئے شعلے۔

بس ہندی مسلمانوں کے لئے صرف ایک ہی اْمید کی کرن ہے کہ خالق کائنات ان کو یوں بے یار ومددگار نہیں چھوڑے گا بلکہ فرعون کے لئے موسی?ٰ ضرور اور ضرور پیدا ہوگا۔(یو این این)

:دیگر مضامین
(21.05.2009) ڈگڈگی بجا کے ذرا بندر نچا کے
(15.05.2009) برطانوی وزیروں کی بدعنوانیاں
(13.05.2009) سوات سے رکن اسمبلی کوبات کرنے کی اجازت نہ مل سکی
(12.05.2009) کیا سوات سے پولیس کی بھی ہجرت؟
(10.05.2009) مدرز ڈے کے حوالے سے خصوصی مضمون “ماں “
(09.05.2009) بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
(07.05.2009)  اگلے 39 سال میں فرانس ایک اسلامک ریپبلک ملک بن جائیگا?
(06.05.2009) سرکاری اور غیر سرکاری آنکھیں
(05.05.2009) سویڈن میں تین روز اور کئی برس کی یادیں..پندرھویں اور آخری قسط
(05.05.2009) یہ بھی تو کارٹون ہی ہوا نا۔
(04.05.2009) جج بحال کر دینے سے عدلیہ بحال نہیں ہو جاتی
(03.05.2009) فتحِ الکوثر۔’’ شہادتِ سیدہ خدیجہ بنتِ علی ‘‘
(03.05.2009) دنیا کا ایک منفرد انٹرویو
(01.05.2009) حیدر طباطبائی کی تخلیقات کی رونمائی
(01.05.2009) آئی ٹی میں پاکستان کی ترقی قابل فخر ہے
(29.04.2009) سویڈن میں تین روز اور کئی برس کی یادیں..چودہویں قسط
(20.04.2009) ڈاکٹر نگہت نسیم کے اعزاز میں عشائیہ
(19.04.2009) ترقی کا کوئی ایک راستہ نہیں
(16.04.2009) پھر ایک بار اتحاد کا شور ہے
(13.04.2009) سویڈن میں تین روز اور کئی برس کی یادیں..تیرہویں قسط



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں