14.10.2026, 01:26pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

٭23جولائی 1988ء کو ڈاکٹر جہانگیر خان لاہور میں وفات پاگئے۔
23.07.2016, 04:02am , ہفتہ (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی
پاک فضائیہ کے سربراہ۔ ائیر مارشل محمد اصغر خان

* 20 اپریل 1957ء کو پاک فضائیہ نے اعلان کیا تھا کہ جولائی میں ایر وائس مارشل اے ڈبلیو بی میک ڈونلڈ کے عہدے کی میعاد کے خاتمے کے بعد فضائیہ کے کمانڈر انچیف کا عہدہ ایر وائس مارشل محمد اصغر خان سنبھالیں گے۔ چنانچہ اس اعلان کے مطابق 23 جولائی 1957 کو پاک فضائیہ کے  کمانڈر انچیف کا عہدہ ائیر وائس مارشل محمد اصغر خان نے سنبھال لیا ۔ جنہیں صرف 36 کی عمر میں ایر مارشل کے عہدے پر ترقی دے کر یہ عہدہ سونپا گیا تھا۔
ائیر مارشل محمد اصغر خان 17 جنوری 1921 ء کو پیدا ہوئے تھے اور انھوں نے رائل ایرفورس شمولیت 1940 میں اختیار کی تھی ۔  وہ پاک فضائیہ کے پہلے مسلمان اور پہلے پاکستانی کمانڈر انچیف تھے۔ وہ اپنے اس عہدے پر 22 جولائی 1965 تک فائز رہے۔ پاک فضائیہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پاکستان انٹرنیشنل ایرلائنز کے سربراہ بنے۔ بعد ازاں انھوں نے عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور تحریک استقلال کے نام سے اپنی سیاسی جماعت قائم کی۔ تاہم ان کی یہ جماعت پاکستانی سیاست میں کوئی خاص مقام نہ بنا سکی۔ ائیر مارشل محمد اصغر خان   کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں جن میں دی فرسٹ راونڈ، پاکستان ایٹ دی کراسروڈ، جنرلز ان پولیٹکس، دی لائٹر سایئڈ آف پاور گیمز، وی ہیو لرنٹ نتھنگ فرام ہسٹری، مائی پولیٹیکل اسٹرگل اور مائیل اسٹونز ان اے پولیٹیکل جرنی کے نام سرفہرست ہیں ۔ ان میں سے بعض کتابوں کے اردو ترجمے بھی ہوچکے ہیں ۔
------------------------------------------------------------------------------------------

پاک فضائیہ کے سربراہ۔ ائیر مارشل نور خان

پاکستان فضائیہ کے چھٹے کمانڈر انچیف ایرمارشل نور خان کا تعلق چکوال سے تھا جہاں وہ 22 فروری 1923ء کو پیدا ہوئے تھے۔ ایچی سن کالج لاہور اور ملٹری کالج ، ڈیرہ دون سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے 6 جنوری 1941 کو برٹش انڈین ایر فورس میں کمیشن حاصل کیا اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان ایر فورس کا حصہ بن گئے۔ 23 جولائی 1965 ء سے 31 اگست 1969ء کے دوران انھوں نے پاک فضائیہ کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں ۔ اس دوران 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں ان کی اعلیٰ صلاحیتوں کے اعتراف کے طور پر انیں ہلال جرات کا اعزاز عطا کیا گیا اور انہیں ایر مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔
پاک فضائیہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد ایرمارشل نور خان نے مغربی پاکستان کے گورنر اور پی آئی اے ، پاکستان ہاکی فیڈریشن، پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ اور پاکستان اسکواش فیڈریشن کی سربراہ کے طور پر شاندار خدمات انجام دیں اور ہر جگہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ 1985 ء سے 1988ء کے دوران قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے ۔ نور خان کا انتقال 15 دسمبر 2011ء کو ہوا ۔ ان کے انتقال کے بعد پاکستان فضائیہ کے مصروف ترین ایر بیس چکلالہ کو ان کے نام سے موسوم کردیا گیا اور پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔
------------------------------------------------------------------------------------------

ڈاکٹر جہانگیر خان کی وفات

٭ مشہور ٹیسٹ کرکٹر ڈاکٹر جہانگیر خان یکم فروری 1910ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔
انہیں یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی کرکٹ ٹیم کے رکن تھے۔ اس ٹیم نے اپنا پہلا ٹیسٹ 25 جون 1932ء کو لارڈز کے میدان میں کھیلا تھا۔ اس ٹیم میں ڈاکٹر جہانگیر خان بطور بائولر شامل کئے گئے تھے اور انہوں نے اس میچ میں 4 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ ڈاکٹر جہانگیر خان کا ٹیسٹ کیریئر بہت مختصر رہا۔ انہوں نے کل 4 ٹیسٹ کھیلیں جن میں 5.57 کے اوسط سے 39 رنز اسکور کئے اور 63.75 کی اوسط سے 4 وکٹیں حاصل کیں اور 4 کیچ بھی لئے۔
تاہم ڈاکٹر جہانگیر خان کو دنیائے کرکٹ میں زندہ جاوید کرنے والا واقعہ ایک چڑیا کی ہلاکت کا واقعہ تھا۔ یہ تاریخی واقعہ 4 جولائی 1936ء کو پیش آیا تھا۔ جہانگیر خان کیمبرج یونیورسٹی کی جانب سے ایم سی سی کے خلاف میچ میں حصہ لے رہے تھے۔ ایم سی سی کی ٹیم بیٹنگ کررہی تھی۔ جہانگیر خان نے اسٹرائیکنگ اینڈ پر کھڑے ہوئے بیٹسمین ٹی این پیئرس کو بائولنگ کرانے کے لئے دوڑنا شروع کیا جیسے ہی گیند جہانگیر خان کے ہاتھ سے فضا میں بلند ہوئی ایک چڑیا گیند کے راستے میں آگئی اور اس سے ٹکرا کر وہ چڑیا وہیں ہلاک ہوگئی۔ آج تک وہ تاریخی گیند اور چڑیا کا حنوط شدہ جسم لارڈز گرائونڈ کے لانگ روم میں محفوظ ہے۔
ڈاکٹر جہانگیر خان کے صاحبزادے ماجد خان اور دو بھانجوں جاوید برکی اور عمران خان نے بھی ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور انہیں پاکستان کی کپتانی کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر جہانگیر خان کے پوتے اور ماجد خان کے فرزند بازید خان بھی ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔
٭23جولائی 1988ء کو ڈاکٹر جہانگیر خان لاہور میں وفات پاگئے۔
------------------------------------------------------------------------------------------

بابا ذہین شاہ تاجی کی وفات

٭23 جولائی 1978ء کو پاکستان کی معروف روحانی و علمی شخصیت حضرت بابا ذہین شاہ تاجی نے کراچی میں وفات پائی اور میوہ شاہ قبرستان میں آستانہ تاجیہ میں آسودۂ خاک ہوئے۔
حضرت بابا ذہین شاہ تاجی کا اصل نام محمد طاسین فاروقی تھا اور آپ 1904ء میں قصبہ کھنڈیلہ ضلع توڑاوائی جے پور میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے والد پیرزادہ خواجہ دیدار بخش فاروقی نے آپ کی تعلیم کا بڑا معقول انتظام کیا، چنانچہ بابا ذہین شاہ تاجی عربی، فارسی، اردو، ہندی، سنسکرت اور انگریزی تمام زبانیں جانتے تھے اور متعدد علوم پر حاوی تھے۔ آپ بابا تاج الدین ناگپوریؒ کے خلیفہ حضرت بابا یوسف شاہ تاجی سے بیعت تھے اور ان کے خلیفہ اور سجادہ نشین تھے۔
حضرت بابا ذہین شاہ تاجی نے بابا تاج الدین ناگپوریؒ کا تذکرہ تاج الاولیا کے نام سے مرتب کیا تھا۔ آپ نے منصور حلاج کی کتاب الطواسین کا ترجمہ بھی کیا تھا اور وہابیت اور اسلام کے نام سے ایک وقیع کتاب بھی تحریر کی تھی۔ آپ ایک اچھے شاعر بھی تھے اور آپ کے کئی شعری مجموعے بھی اشاعت پذیر ہوئے تھے۔ آپ کی ایک نعت کا ایک بے مثال شعر ہے :
خوش رہیں تیرے دیکھنے والے
ورنہ کس نے خدا کو دیکھا ہے
--------------------------------

:دیگر مضامین
(22.07.2016) میجر طفیل محمد 22جولائی 1914ء  کو  مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہوئے
(21.07.2016) ٭21 جولائی 1950ء کو ناروے کے کوہ پیمائوں نے  ترچ میر کو سر کرلیا
(20.07.2016) ٭20جولائی 1994ء کو نامور مصورہ لیلیٰ شہزادہ اسلام آباد میں وفات پاگئیں۔
(19.07.2016) ٭19 جولائی 1894ء  خواجہ ناظم الدین کی تاریخ پیدائش ہے
(18.07.2016) مہدی حسن 18 جولائی  1927کوراجستھان کے ایک گاؤں لُونا میں پیدا ہوئے
(17.07.2016) ٭17 جولائی 1991ء کو جدید ٹی 90 ٹینک کی تقریب رونمائی
(16.07.2016)  سولہ جولائی 1990ءکوبدراوّل خلا میں روانہ ہوا
(15.07.2016) پندرہ جولائی 1961ء کو چنبیلی کو ملک کا قومی نشان قرار دے دیا۔
(14.07.2016) ٭14 جولائی 1983ء کو گائیک استاد نزاکت علی خان راولپنڈی میں وفات پاگئے
(13.07.2016) ٭13 جولائی 1969ء کو پاکستان کے نامور ماہر لسانیات ڈاکٹر شہید اللہ ڈھاکا میں وفات پاگئے
(12.07.2016) ریڈیو پاکستان کے سابق سربراہ اور معروف براڈ کاسٹر آغا ناصر انتقال کرگئے
(12.07.2016) ٭12 جولائی 1975ء کوماہر نشریات زیڈ اے بخاری کراچی میں انتقال کرگئے۔
(11.07.2016) ٭11 جولائی 2001ء کو استاد سلامت علی خان لاہور میں وفات پاگئے
(10.07.2016) ٭10جولائی 2006ء کو جناب احمد ندیم قاسمی لاہور میں وفات پاگئے
(09.07.2016) ٭9 جولائی 1967ء کو مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کراچی میں انتقال کرگئیں
(08.07.2016) ٭ اردو کے معروف شاعر سید اقبال عظیم کی تاریخ پیدائش 8جولائی 1913ءہے۔
(07.07.2016) ٭7جولائی 1926ء پاکستان کے نامور مصور احمد پرویز کی تاریخ پیدائش ہے
(06.07.2016) ٭6 جولائی 2003ء کو ڈرامہ نگار حمید کاشمیری کراچی میں وفات پاگئے۔
(05.07.2016) ٭پاکستان جولائی 1977ء پورے ملک میں مارشل لاء نافذ ہوچکا تھا
(04.07.2016) ٭4جولائی 2009ء کو پاکستان کے مشہور فاسٹ بائولر خان محمد لندن میں وفات پاگئے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں