پاک فضائیہ کے سربراہ۔ ائیر مارشل محمد اصغر خان
* 20 اپریل 1957ء کو پاک فضائیہ نے اعلان کیا تھا کہ جولائی میں ایر وائس مارشل اے ڈبلیو بی میک ڈونلڈ کے عہدے کی میعاد کے خاتمے کے بعد فضائیہ کے کمانڈر انچیف کا عہدہ ایر وائس مارشل محمد اصغر خان سنبھالیں گے۔ چنانچہ اس اعلان کے مطابق 23 جولائی 1957 کو پاک فضائیہ کے کمانڈر انچیف کا عہدہ ائیر وائس مارشل محمد اصغر خان نے سنبھال لیا ۔ جنہیں صرف 36 کی عمر میں ایر مارشل کے عہدے پر ترقی دے کر یہ عہدہ سونپا گیا تھا۔
ائیر مارشل محمد اصغر خان 17 جنوری 1921 ء کو پیدا ہوئے تھے اور انھوں نے رائل ایرفورس شمولیت 1940 میں اختیار کی تھی ۔ وہ پاک فضائیہ کے پہلے مسلمان اور پہلے پاکستانی کمانڈر انچیف تھے۔ وہ اپنے اس عہدے پر 22 جولائی 1965 تک فائز رہے۔ پاک فضائیہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پاکستان انٹرنیشنل ایرلائنز کے سربراہ بنے۔ بعد ازاں انھوں نے عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور تحریک استقلال کے نام سے اپنی سیاسی جماعت قائم کی۔ تاہم ان کی یہ جماعت پاکستانی سیاست میں کوئی خاص مقام نہ بنا سکی۔ ائیر مارشل محمد اصغر خان کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں جن میں دی فرسٹ راونڈ، پاکستان ایٹ دی کراسروڈ، جنرلز ان پولیٹکس، دی لائٹر سایئڈ آف پاور گیمز، وی ہیو لرنٹ نتھنگ فرام ہسٹری، مائی پولیٹیکل اسٹرگل اور مائیل اسٹونز ان اے پولیٹیکل جرنی کے نام سرفہرست ہیں ۔ ان میں سے بعض کتابوں کے اردو ترجمے بھی ہوچکے ہیں ۔
------------------------------------------------------------------------------------------
پاک فضائیہ کے سربراہ۔ ائیر مارشل نور خان
پاکستان فضائیہ کے چھٹے کمانڈر انچیف ایرمارشل نور خان کا تعلق چکوال سے تھا جہاں وہ 22 فروری 1923ء کو پیدا ہوئے تھے۔ ایچی سن کالج لاہور اور ملٹری کالج ، ڈیرہ دون سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے 6 جنوری 1941 کو برٹش انڈین ایر فورس میں کمیشن حاصل کیا اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان ایر فورس کا حصہ بن گئے۔ 23 جولائی 1965 ء سے 31 اگست 1969ء کے دوران انھوں نے پاک فضائیہ کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں ۔ اس دوران 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں ان کی اعلیٰ صلاحیتوں کے اعتراف کے طور پر انیں ہلال جرات کا اعزاز عطا کیا گیا اور انہیں ایر مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔
پاک فضائیہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد ایرمارشل نور خان نے مغربی پاکستان کے گورنر اور پی آئی اے ، پاکستان ہاکی فیڈریشن، پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ اور پاکستان اسکواش فیڈریشن کی سربراہ کے طور پر شاندار خدمات انجام دیں اور ہر جگہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ 1985 ء سے 1988ء کے دوران قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے ۔ نور خان کا انتقال 15 دسمبر 2011ء کو ہوا ۔ ان کے انتقال کے بعد پاکستان فضائیہ کے مصروف ترین ایر بیس چکلالہ کو ان کے نام سے موسوم کردیا گیا اور پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔
------------------------------------------------------------------------------------------
ڈاکٹر جہانگیر خان کی وفات
٭ مشہور ٹیسٹ کرکٹر ڈاکٹر جہانگیر خان یکم فروری 1910ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔
انہیں یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی کرکٹ ٹیم کے رکن تھے۔ اس ٹیم نے اپنا پہلا ٹیسٹ 25 جون 1932ء کو لارڈز کے میدان میں کھیلا تھا۔ اس ٹیم میں ڈاکٹر جہانگیر خان بطور بائولر شامل کئے گئے تھے اور انہوں نے اس میچ میں 4 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ ڈاکٹر جہانگیر خان کا ٹیسٹ کیریئر بہت مختصر رہا۔ انہوں نے کل 4 ٹیسٹ کھیلیں جن میں 5.57 کے اوسط سے 39 رنز اسکور کئے اور 63.75 کی اوسط سے 4 وکٹیں حاصل کیں اور 4 کیچ بھی لئے۔
تاہم ڈاکٹر جہانگیر خان کو دنیائے کرکٹ میں زندہ جاوید کرنے والا واقعہ ایک چڑیا کی ہلاکت کا واقعہ تھا۔ یہ تاریخی واقعہ 4 جولائی 1936ء کو پیش آیا تھا۔ جہانگیر خان کیمبرج یونیورسٹی کی جانب سے ایم سی سی کے خلاف میچ میں حصہ لے رہے تھے۔ ایم سی سی کی ٹیم بیٹنگ کررہی تھی۔ جہانگیر خان نے اسٹرائیکنگ اینڈ پر کھڑے ہوئے بیٹسمین ٹی این پیئرس کو بائولنگ کرانے کے لئے دوڑنا شروع کیا جیسے ہی گیند جہانگیر خان کے ہاتھ سے فضا میں بلند ہوئی ایک چڑیا گیند کے راستے میں آگئی اور اس سے ٹکرا کر وہ چڑیا وہیں ہلاک ہوگئی۔ آج تک وہ تاریخی گیند اور چڑیا کا حنوط شدہ جسم لارڈز گرائونڈ کے لانگ روم میں محفوظ ہے۔
ڈاکٹر جہانگیر خان کے صاحبزادے ماجد خان اور دو بھانجوں جاوید برکی اور عمران خان نے بھی ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور انہیں پاکستان کی کپتانی کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر جہانگیر خان کے پوتے اور ماجد خان کے فرزند بازید خان بھی ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔
٭23جولائی 1988ء کو ڈاکٹر جہانگیر خان لاہور میں وفات پاگئے۔
------------------------------------------------------------------------------------------
بابا ذہین شاہ تاجی کی وفات
٭23 جولائی 1978ء کو پاکستان کی معروف روحانی و علمی شخصیت حضرت بابا ذہین شاہ تاجی نے کراچی میں وفات پائی اور میوہ شاہ قبرستان میں آستانہ تاجیہ میں آسودۂ خاک ہوئے۔
حضرت بابا ذہین شاہ تاجی کا اصل نام محمد طاسین فاروقی تھا اور آپ 1904ء میں قصبہ کھنڈیلہ ضلع توڑاوائی جے پور میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے والد پیرزادہ خواجہ دیدار بخش فاروقی نے آپ کی تعلیم کا بڑا معقول انتظام کیا، چنانچہ بابا ذہین شاہ تاجی عربی، فارسی، اردو، ہندی، سنسکرت اور انگریزی تمام زبانیں جانتے تھے اور متعدد علوم پر حاوی تھے۔ آپ بابا تاج الدین ناگپوریؒ کے خلیفہ حضرت بابا یوسف شاہ تاجی سے بیعت تھے اور ان کے خلیفہ اور سجادہ نشین تھے۔
حضرت بابا ذہین شاہ تاجی نے بابا تاج الدین ناگپوریؒ کا تذکرہ تاج الاولیا کے نام سے مرتب کیا تھا۔ آپ نے منصور حلاج کی کتاب الطواسین کا ترجمہ بھی کیا تھا اور وہابیت اور اسلام کے نام سے ایک وقیع کتاب بھی تحریر کی تھی۔ آپ ایک اچھے شاعر بھی تھے اور آپ کے کئی شعری مجموعے بھی اشاعت پذیر ہوئے تھے۔ آپ کی ایک نعت کا ایک بے مثال شعر ہے :
خوش رہیں تیرے دیکھنے والے
ورنہ کس نے خدا کو دیکھا ہے
--------------------------------