14.10.2026, 12:13pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔
امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
 
عالمی خبریں
 

جرمنی میں ایک بم پھٹنے سے کم ازکم 12 افراد زخمی ہو گئے جب کہ یہ بم لے جانے والا شامی پناہ گزین مارا گیا۔
25.07.2016, 06:30am , سوموار (GMT+1)


جرمنی میں ایک بم پھٹنے سے کم ازکم 12 افراد زخمی ہو گئے جب کہ یہ بم لے جانے والا شامی پناہ گزین مارا گیا۔

بویریا کے علاقے انسباخ میں اتوار کو یہ واقعہ موسیقی ایک تہوار کے قریب پیش آیا اور حکام کے مطابق یہ دھماکا "دانستہ طور" پر کیا گیا۔

حکام نے بتایا کہ اس شخص کی گزشتہ سال پناہ کی درخواست مسترد کردی گئی لیکن اسے جرمنی میں عارضی طور پر رہنے کی اجازت دے دی گئی اور یہ شامی شخص اتوار کے دھماکے سے قبل متعدد بار خودکشی کی کوشش بھی کر چکا تھا۔

دھماکے کے باعث موسیقی کے تہوار کے لیے جمع دو ہزار سے زائد افراد کو یہاں سے منتقل کرنا پڑا۔

اتوار کو ہی ایک شامی پناہ گزین نے تلوار سے حملہ کر کے ایک خاتون کو ہلاک اور دو افراد کو زخمی کردیا۔

یہ واقعہ جنوب مشرقی شہر سٹٹگارڈ کے قریب پیش آیا۔

جرمنی میں رواں ماہ ایسے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں پناہ گزین یا تارکین وطن ملوث رہے اور اس بنا پر ملک میں تارکین وطن سے متعلق حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا سامنا ہے۔

گزشتہ ہفتہ میونخ میں ایک 18 سالہ ایرانی نژاد جرمن شہری نے فائرنگ کر کے نو لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا جب کہ اس سے چند روز قبل ہی ایک ریل گاڑی میں کلہاڑی سے حملہ کر کے لوگوں کو زخمی کرنے والے کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ بھی جرمنی میں آباد تارکین وطن میں سے ایک تھا۔
.............
.............
جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ہفتے کے روز برلن میں چانسلر دفتر سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ میونخ میں حملوں کے بعد اس شہر کو ایک ’ہیبت ناک رات‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
 
میرکل نے یہ بات جمعے کی شب جنوبی جرمن صوبے باویریا کے دارالحکومت میونخ کے اولمپیا شاپنگ سینٹر میں ہونے والی فائرنگ کے واقعے کے تناظر میں کہی۔ میرکل نے اس دہشت گردانہ واقعے کے بعد اپنے پہلے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا،’’میونخ کے لوگوں کو ایک بھیانک رات سے گزرنا پڑا ہے۔‘‘ میرکل کا مزید کہنا تھا،’’ ایک ایسی رات کو برداشت کرنا ہم سب ہی کے لیے بہت مشکل ہے۔‘
میرکل نے جمعے کو میونخ شاپنگ مال میں ہونے والے اس دہشت گردانہ واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’حکومت کی طرف سے کہہ رہی ہوں، ہم سب بوجھل دل سے اُن افراد کے سوگ میں شریک ہیں جو اب کبھی اپنے خاندان والوں کے پاس نہیں لوٹیں گے۔‘‘

جرمن چانسلر نے میونخ کے اُن شہریوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے فائرنگ کے دہشت گردانہ واقعے کے موقع پر اپنی جان بچا کر فرار ہونے والوں کے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے تھے۔ ان میں سے بہت سے افراد نے اس پیش کش کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا تھا۔ میرکل کے بقول، ’’ان افراد کے اس عمل نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ ہم ایک آزاد معاشرے میں رہ رہے ہیں اور یہ رویہ انسانیت ظاہر کرتا ہے۔‘‘ چانسلر میرکل نے یہ بھی کہا کہ، ’’ہماری سب سے بڑی طاقت ان اقدار میں مضمر ہیں۔‘
گزشتہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں جرمن شہر میونخ میں ہونے والے دہشت گردی کے دو واقعات کے تناظر میں میرکل نے مزید کہا، ’’جرمنی کے تمام افراد کی سلامتی اور آزادی کی حفاظت کے لیے ملک کی سکیورٹی سروسز ہر ممکن کوششیں کریں گی۔

برلن میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے میرکل کا کہنا تھا، ’’گزشتہ پیر کی شب کو ایک مقامی ٹرین میں اور جمعے کی شام شاپنگ مال میں ہونے والی مہلک جنونی دہشت گردانہ کارروائیاں ایسے مقامات پر کی گئیں جہاں ہم سے کوئی بھی موجود ہو سکتا تھا۔ ان واقعات نے جرمن باشندوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے کہ آخر کون سے مقامات اب محفوظ رہ گئے ہیں؟‘‘

میرکل نے اس موقوع پر فرانسیسی شہر نیس میں حال ہی میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعے کو بھی یورپ بھر میں تشویش اور ہیبت کا سبب بننے والے سلسلہ وار واقعات کی کڑی قرار دیا۔
اُدھر فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے جمعے کے روز میونخ میں ہونے والے فائرنگ کے خون ریز واقعے کی مذمت کرتے ہوئے جرمنی کو فرانس کی دوستی اور تعاون کا بھرپور یقین دلایا۔ ساتھ ہی اولانڈ نے بھی ہفتے کو پیرس حکومت کے وزراء کا ایک اجلاس طلب کیا جس میں 14 جولائی کو نیس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے اثرات اور سکیورٹی سے متعلق آئندہ کی حکمت عملی پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
..............
جرمنی کے شہر میونخ کے ایک شاپنگ سینٹر میں فائرنگ کے واقعے میں حملہ آور سمیت 9 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔

میونخ کے پولیس چیف ہوبرٹس اینڈرئی کے مطابق میونخ کے اولمپیا شاپنگ سینٹر میں حملہ کرنے والا 18 سالہ نوجوان ایرانی نژاد جرمن تھا، جس نے حملے کے بعد خودکشی کرلی۔

اس سے قبل پولیس نے بتایا تھا کہ وہ حملہ آور کے 3 ساتھیوں کو تلاش کر رہے ہیں۔

تاہم بعدازاں حکام نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ حملہ آور اکیلا تھا، جس نے شاپنگ سینٹر میں فائرنگ سے قبل ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں بھی فائرنگ کی۔

پولیس چیف ہوبرٹس اینڈرئی کے مطابق بچوں سمیت 16 افراد واقعے میں زخمی ہوئے، جن میں سے 3 کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔

دوسری جانب فائرنگ کے واقعے کے تقریباً 7 گھنٹے بعد پولیس نے شاپنگ سینٹرکو کلیئر قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ کالے کپڑوں میں ملبوس ایک شخص مکڈونلڈز ریسٹورنٹ سے فائرنگ کرتے ہوئے نکلا جبکہ لوگوں کو بھی بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔

'ورلڈ آن الرٹ' کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر حملے کی ویڈیو میں ایک حملہ آور کو شاپنگ سینٹر کی چھت پر شہریوں پر فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔


جرمنی کے وزیر خارجہ فرانک-والٹر اسٹینمیئر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ابھی تک واقعے کے اصل محرکات کے حوالے سے کچھ علم نہیں ہوسکا۔

دوسری جانب واقعے کی ذمہ داری بھی کسی کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔

امریکی انٹیلی جنس عہدیداران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق جرمن پولیس کو حملہ آور کے شدت پسند تنظیم داعش یا کسی اور عسکریت پسند گروپ سے تعلق کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

جبکہ 18 سالہ حملہ آور، جس کی لاش شاپنگ مال کے قریب سڑک سے ملی، کی شناخت نام سے ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی وہ پولیس کو اس سے قبل کسی کیس میں مطلوب تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جرمن ٹرین پر حملہ کرنے والا پاکستانی ہوسکتا ہے، انتظامیہ

واقعے کے بعد میونخ کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک جام ہوگیا جبکہ ریسکیو، پولیس وینز اور ایمبولنس جائے وقوع کی جانب روانہ ہوئیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں ایک نو عمر نے جرمنی کی مقامی ٹرین میں چاقو اور کلہاڑی کے وار سے 5 افراد کو زخمی کردیا تھا، مذکورہ حملہ آور کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ ایک 'نو عمر پناہ گزین' تھا۔

گذشتہ کچھ سالوں سے یورپ کے مختلف ممالک میں دہشت گردی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، گذشتہ ہفتے فرانس کے شہر نائس میں ایک شخص نے یوم آزادی کی تقریبات میں شریک افراد کو ٹرک کے نیچے کچل دیا تھا،جس کے نتیجے میں 84 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

'قاتلانہ حملے' کی مذمت
میونخ کے شاپنگ سینٹر میں فائرنگ کے واقعے کے بعد مختلف سربراہان مملکت نے اس کی مذمت کی۔

جرمنی کے صدر جوکھم گواک نے اسے 'خوفناک' اور 'قاتلانہ حملہ' قرار دیا۔

فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے اسے 'مضحکہ خیز دہشت گردی کا حملہ' قرار دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ 'میونخ کے شاپنگ سینٹر میں دہشت گردی کا حملہ مضحکہ خیز ہے جس کا مقصد دیگر ممالک کے بعد جرمنی میں خوف پھیلانا ہے'۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ 'جرمنی اس کی مزاحمت کرے گا اور اسے فرانس کی دوستی اور تعاون حاصل رہے گا'۔

امریکی صدر براک اوباما نے بھی اپنے قریبی اتحادی جرمنی کے حق میں آواز اٹھائی۔

اوباما کا کہنا تھا، 'ہمارے دل ان کے ساتھ ہیں، جو واقعے میں زخمی ہوئے، ہم اپنے قریبی اتحادی جرمنی کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہیں'۔

دوسری جانب آسٹریا کا کہنا تھا کہ اس نے جرمنی سے منسلک اپنی سرحدوں پر سیکیورٹی میں مزید اضافہ کردیا ہے اور اپنی ایلیٹ کوبرا پولیس فورس کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔
.......................
.......................
چانسلر میرکل کے چیف آف اسٹاف پیٹر آلٹمائر نے اپنے بیان میں میونخ میں فائرنگ کے واقعے میں 9 افراد کی ہلاکت کی تصدیق
 کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
 
میونخ کے دہشت گردانہ حملے کے بعد جرمن دارالحکومت میں چانسلر آفس کے اندر ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اجلاس چانسلر انگیلا میرکل کی غیر حاضری میں منعقد ہوا۔
دریں اثناء چانسلر میرکل کے چیف آف اسٹاف پیٹر آلٹمائر نے اپنے بیان میں میونخ میں فائرنگ کے واقعے میں 9 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

میونخ کی پولیس کے مطابق میونخ اولمپیا شاپنگ سینٹر OEZ میں پیش 9 افراد ہلاک ہوئے جن میں وقوعہ سے برآمد ہونے والی ایک لاش بھی شامل ہے۔ پولیس اس بارے میں تفتیش کر رہی ہے کہ آیا یہ لاش کسی دہشت گرد کی تو نہیں۔ میرکل کے چیف آف اسٹاف پیٹر آلٹمائر نے تاہم اپنے بیان میں کہا،’’میونخ حملوں میں گرچہ دہشت گردانہ عناصر کے ملوث ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن فی الحال اس بات کی تصدیق بھی نہیں کی جا سکتی۔‘‘
پیٹر آلٹمائر نے کہا ہے کہ اس بارے میں سکیورٹی کابینہ کا ایک اجلاس ہفتے کی دوپہر برلن میں چانسلر میرکل کی سربراہی میں منعقد ہوگا۔

میونخ کے دہشت گردانہ حملے کے بعد جرمن دارالحکومت میں چانسلر آفس کے اندر جمعے کی شام ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جو اب تک جاری ہے۔ اس اجلاس میں میرکل موجود نہیں ہیں تاہم پیٹر آلٹمائر کے مطابق انہیں حالات سے مسلسل باخبر رکھا جا رہا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائیر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میونخ کی پولیس انسانی جانوں کو تحفظ فراہم کرنے اور مزید دہشت گردانہ حملوں سے بچاؤ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ جرمن وزیر نے تاہم کہا ہے کہ میونخ کے دہشت گردانہ واقعے سے متعلق ہنوز متضاد شواہد برآمد ہو رہے ہیں۔

میونخ پولیس نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام کے ذریعے تصدیق کی ہے کہ جمعے کی شب ہونے والے فائرنگ کے واقعے میں دس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

 جرمن پولیس کو فائرنگ حملے کی جگہ سے چند سو میٹر دور جس شخص کی لاش ملی ہے اس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ مبینہ حملہ آور کی بھی ہو سکتی ہے۔ پولیس ربورٹس کی مدد سے اس شخص کے پاس موجود بیگ کا جائزہ لے رہی ہے۔

 جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے چیف آف اسٹاف پیٹر آلٹمائر کا کہنا ہے کہ میونخ حملوں میں دہشت گردانہ عناصر کے ملوث ہونا خارج از امکان نہیں ہے تاہم فی الحال اس بات کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
 میونخ پولیس کے ترجمان مارکوس مارٹینز کا کہنا ہے پولیس کو جائے واردات سے ایک اور شخص کی لاش ملی ہے۔ پولیس اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ کہیں یہ لاش کسی مبینہ حملہ آور کی تو نہیں۔ 
 میونخ پولیس کے مطابق شہر میں ہونے والے فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد نو ہو چکی ہے۔

 جرمنی میں انسداد دہشت گردی کی ایلیٹ فورس میونخ کے اولمپیا شاپنگ مال کی طرف روانہ ہوگئی ہے۔ اسی مال میں مبینہ طور پر تین حملہ آوروں نے حملہ کیا تھا۔

 جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر اپنی تعطیلات منسوخ کر کے وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔ وہ چھٹیوں پر بروز جمعہ ہی امریکا روانہ ہوئے تھے۔

 امریکی صدر باراک اوباما نے میونخ میں ہوئے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس مشکل وقت میں واشنگٹن حکومت جرمنی کے ساتھ ہے۔ اس کارروائی میں چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔


:دیگر مضامین
(25.07.2016) سعودی وفد کا دورہ اسرائیل، حکومتی نمائندوں سے ملاقاتیں
(25.07.2016) جنوب مغربی جرمنی میں ایک ’شامی مہاجر‘ نے چاقو سے ایک خاتون کو ہلاک کر دیا
(24.07.2016) مقبوضہ کشمیر میں شٹر ڈاؤن ، احتجاج مزید شدت اختیار کرگیا
(24.07.2016) کابل خود کُش حملہ: 80 سے زائد افراد ہلاک، داعش ذمہ دار
(23.07.2016) 'ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھیں گے
(23.07.2016) نیس حملہ آور کئی ماہ سے حملے کی 'منصوبہ بندی' کر رہا تھا: استغاثہ
(22.07.2016) میونخ میں ایک شاپنگ سینٹر پر فائرنگ، متعدد ہلاک
(22.07.2016)  قندیل بلوچ کے قتل کی بازگشت برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں
(22.07.2016) بھارت میں مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھانے پر اسکول پرنسپل کیخلاف بغاوت کا مقدمہ
(21.07.2016) جرمن ٹرین پر حملہ کرنے والا پاکستانی ہوسکتا ہے، انتظامیہ
(21.07.2016) داعش کے خلاف جنگ، تیس ممالک کے وزراء کا اجلاس
(20.07.2016) لندن :پولیس اہلکارسمیت 3 افرادکو چاقو سےزخمی کردیاگیا
(20.07.2016) کشمیر: کرفیو کا بارہواں روز، ادویات کی قلت
(19.07.2016) کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی کارروائیاں تیز
(19.07.2016) جرمن میں افغان مہاجر کا حملہ، چار افراد شدید زخمی
(19.07.2016) جرمنی میں ’جسم فروش‘ کا قتل، حملہ آور کی خودکشی
(18.07.2016) امریکا: ری پبلکن پارٹی کا نیشنل کنونشن آج شروع ہو گا
(18.07.2016) امور مملکت سنبھالنے پر شاہ سلمان کی ایردوآن کو مبارک باد
(18.07.2016) لوئزیانا میں مسلح شخص کی فائرنگ کے نتیجے میں تین پولیس اہل کار ہلاک
(17.07.2016) طیب اردوان امریکا سے فتح اللہ گولن کی حوالگی کا مطالبہ کریں گے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں