آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ کو فرانس کی سب سے بڑی اپیل کورٹ نے عدالت میں پیشی کا حکم دیا ہے۔ لاگارڈ پر الزام ہے کہ انہوں نے فرانس کی وزیر معیشت کی حیثیت سے ایک تاجر کو بے تحاشا سرکاری رقوم کی ادائیگی کی تھی۔
اس معاملے نے ان کے شاندار سیاسی کیریر کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ فرانس کی ایک اعلیٰ ترین عدالت نے ایک تاجر برناغ ٹیپی اور سرکاری بینک کے مابین تنازعے میں غفلت برتنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف لاگارڈ کے اعتراض کو مسترد کر دیا ہے۔ ٹیپی کو سن 2008 میں تلافی کے معاوضے کے طور پر چار سو چار ملین یورو ادا کیے گئے تھے۔ یہ ادائیگی لاگارڈ کے اس فیصلے کے بعد کی گئی تھی جس میں اس نے کھیل کے کپڑے بنانے والی کمپنی ادیداس کی فروخت کے معاملے کو ثالثی سے طے کرنے کا حکم دیا تھا۔ جمعے کے روز اس عدالتی حکم کا مطلب یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی ساٹھ سالہ سربراہ کو اس خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہونا ہو گا جو ان حکومتی وزراء کے خلاف مقدموں کی سماعت کرتی ہے، جن پر اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران بد عنوانی کا الزام ہوتا ہے۔ یہ عدالتی حکم لاگارڈ کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں کیوں کہ ان کو کافی عرصے سے مستقبل کی ممکنہ فرانسیسی صدر کی حیثیت سے پیش کیا جاتا رہا ہے۔
لاگارڈ کا موقف ہے کہ انہوں نے جو بھی کیا فرانس کے بہترین مفاد میں کیا۔ اس بات کی تصدیق ہونے کہ بعد کہ لاگارڈ کو ہر صورت مقدمے کا سامنا کرنا ہو گا، آئی ایم ایف نے ان کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے۔