سبطین فضلی کی وفات
٭25 جولائی 1985ء کو پاکستان کے مشہور فلمی ہدایت کار سبطین فضلی دنیا سے رخصت ہوئے۔
سبطین فضلی9 جولائی 1914ء کو بہرائچ (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز اپنے بڑے بھائی حسنین فضلی (1957ء۔1912ء) کی معاونت سے کیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پاکستان کی کلاسیک فلم ’’دوپٹہ‘‘ کی ہدایات دیں۔ اس کے بعد انہوں نے ’’آنکھ کا نشہ‘‘ اور ’’دو تصویریں‘‘ نامی فلمیں بنائیں۔ یہ دونوں فلمیں کامیاب نہیں ہوئیں مگر ان کی صرف ایک فلم ’’دوپٹہ‘‘ ہی ان کا نام پاکستان کی فلمی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لئے کافی ہے۔سبطین فضلی لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
------------------------------------------------------------------------------------------
فلسطین سے یک جہتی کے لیے یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرأ
مئی 1976ء میں استنبول میں منعقد ہونے والی اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں فیصلہ ہوا تھا کہ تمام اسلامی ممالک فلسطین سے یکجہتی کے طور پر ایک ایک ڈاک ٹکٹ جاری کریں گے جس کی فروخت سے ہونے والی آمدنی فلسطینی مجاہدین اور ان کے شہدأ کے خاندانوں کی کفالت پر خرچ کی جائے گی ۔ 25جولائی 1981ء کو پاکستان نے یہ ڈاک ٹکٹ جاری کردیا۔دو روپے مالیت والے اس ڈاک ٹکٹ پر مسجد اقصیٰ کی خوب صورت تصویر بنی تھی اور
FOR THE WELFARE OF THE FAMILIES OF MARTYRS AND FREEDOM FIGHTERS OF PALESTINE
کے الفاظ تحریر تھے ۔ یہ ڈاک ٹکٹ جناب عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا۔
------------------------------------------------------------------------------------------
آبادی کے عالمی دن کے موقع پر یادگاری ڈاک ٹکٹوں کا اجرأ
* 25جولائی 1992ء کو آبادی کے عالمی دن کے حوالے سے پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت چھ روپے تھی اوراسے سید علی افسرنے ڈیزائن کیا تھا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر اردو میں ’’چھوٹا خاندان خوشحال پاکستان‘‘ اور انگریزی میں
POPULATION DAY
کے الفاظ تحریر تھے۔