14.10.2026, 03:23pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا
 

میونخ حملہ: اسلحے سے متعلق قوانین میں سختی کا امکان
06.08.2016, 10:20am , ہفتہ (GMT+1)

جرمن حکومت نے عہد کیا ہے کہ اس بات کو ممکن بنایا جائے گا کہ میونخ حملے کی طرز کا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔ اس صورت حال کے پیش نظر اسلحے سے متعلق قوانین کو مزید سخت بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
 
جرمنی کے جنوبی شہر میونخ میں ہونے والے خون ریز حملے کے بعد ملک میں یہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ کس طور اس طرح کے واقعے کو دوبارہ ہونے سے روکا جا سکے۔ چوں کہ اس حملے کے پیچھے مذہبی انتہا پسندی کا عمل دخل نہیں تھا، اور ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ ایک جنونی کی کارروائی تھی، برلن میں جرمن حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اسلحے سے متعلق قوانین میں مزید سختی لائی جائے۔

واضح رہے کہ جرمنی کے اسلحے سے متعلق قوانین پہلے ہی اچھے خاصے سخت ہیں۔ جرمنی میں صورت حال امریکا سے بہت مختلف ہے۔ امریکا میں جنونی افراد کی فائرنگ سے ہلاکتوں کے واقعات اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں، تاہم جرمنی میں ایسا شاذ و نادر ہی دیکھا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جرمنی میں اسلحے سے متعلق قوانین کو مزید سخت کر بھی دیا جائے تو غیر قانونی ذرائع سے اسلحہ حاصل کرنے والوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

جرمن وزیر داخلہ ٹوماس ڈے میزیئر نے ’بِلڈ ام زونٹاگ‘ جریدے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ کس طرح قوانین کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
نائب چانسلر زیگمار گابریئل نے بھی اس طرح کے خیالات کا اظہار کیا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ جرمنی میں اسلحے سے متعلق قوانین اتنے سخت ہیں کہ قانون سازوں کے لیے مزید کچھ کرنے کے لیےاب کیا ہے؟
جرمنی میں اسلحہ رکھنا اتنا آسان نہیں ہے۔ اس کو حاصل کرنے کے لیے شہریوں کو کئی امتحانات میں شرکت کرنا پڑتی ہے، اور کئی مراحل سے گزر کر ہی حکومتی عہدے دار اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ شہری کو اسلحہ دیا جائے یا نہیں۔

میونخ میں حملہ کرنے والے ایرانی نژاد جرمن کی ملکیت میں غیر قانونی اسلحہ تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس ضمن میں کوئی بھی کارروائی کرنے کے لیے جرمن حکومت کو غیر قانونی اسلحہ مارکیٹ کے گرد بھی گھیرا تنگ کرنا ہوگا۔ محض اسلحے سے متعلق پہلے ہی سے سخت قوانین کو مزید سخت کرنے سے مسئلہ شاید اس طور حل نہ ہو پائے جس طرح حکومتی اہل کاروں کی خواہش ہے۔

:دیگر مضامین
(05.08.2016) جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی عوامی مقبولیت میں رواں ماہ کمی ہوئی ہے
(04.08.2016) اٹلی میں ترک صدر کے بیٹے کے خلاف تحقیقات
(03.08.2016) مقتول فرانسیسی پادری کی آخری رسومات میں ہزاروں افراد کی شرکت
(02.08.2016) جرمن شہر کولون میں ترک صدر کی حمایت میں ریلی نکالی گئی
(01.08.2016) ائیر فرانس کے عملے کی ہڑتال سے ڈیڑھ لاکھ مسافر متاثر ہو چکے ہیں
(31.07.2016) بیلجیم، دہشت گردی کے الزامات کے تحت نور الدین پر فرد جرم عائد
(30.07.2016) پاکستانی اور الجزائر کے دو شہری فرانس کے حوالے کر دیے، آسٹریا
(29.07.2016) فرانس میں نیشنل گارڈز کے قیام کا اعلان
(28.07.2016) پیرس حملوں کا مشتبہ پاکستانی فرانس کے حوالے کیا جائے گا، آسٹریا
(27.07.2016) ڈاکٹر کوہلاک کرنے کے بعد مریض نے خود کو بھی گولی مار لی
(26.07.2016)  انسباخ میں خود کُش حملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا  گیا 
(24.07.2016) ’میونخ حملہ ایک جنونی کارروائی تھی‘، جرمن تفتیش کار
(23.07.2016) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم
(22.07.2016) ورز برگ کی دہشت گردی کے امکانات ہیں، بی کے اے
(22.07.2016) برطانیہ کی نئی وزیر اعظم ٹریزا مے نے اپنا اولین سرکاری دورہ جرمنی کا کیا
(21.07.2016) برطانیہ کی بجائے یورپی یونین کی شمشماہی سربراہی ایسٹونیا کے پاس
(20.07.2016) داعش نے جرمنی میں ٹرین میں ہوئے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی 
(19.07.2016) لندن میں منگل کو درجہ حرارت 36 ڈگری تک جا پہنچا ہے
(19.07.2016) سزائے موت کی بحالی پر جرمنی کا ترکی کو انتباہ
(18.07.2016) ترکی سے یونان پہنچنے والے آٹھ فوجی افسران پر ایتھنز میں مقدمہ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں