14.10.2026, 09:18am , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » محمد عظیم اعظم
 

اشرف غنی سچ بولو .!!کس کی زبان بول رہے ہو ؟
25.07.2016, 04:02am , سوموار (GMT+1)

محمداعظم عظیم اعظم
افغانستان کے موجودہ صدر اشرف غنی ابوالمنافق نے پاکستان کے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویودیتے ہوئے کہا ہے کہ ” القاعدہ اور طالبان سے بڑاخطرہ پاکستان سے ریاستی تعلقات ہیں“اِن کے اِس کہے پر جہاں اور بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں تو وہیں ایک سوال یہ بھی ہے کہ اشرف غنی ابوالمنافق کی ذہنی کیفیات کو بھی پرکھاجائے کہیں یہ پاگل تو نہیں ہوگئے ہیں؟؟ اور اِس کے ساتھ مسٹرغنی کیا یہ بتاسکتے ہیں کہ وہ اپنے منہ میں کس کی زبان لگاکر یہ کچھ کہہ رہے ہیں؟؟ اور یہ کس کے الفاظ اپنے کانوں میں ٹھونس کر اپنی زبانِ منافق سے پاکستان کے بارے میں اپنے خیالات کا یوں اظہار کیا ہے کہ آج ہر پاکستانی کو اِن کے اور افغانیوں کے منافق ہونے کا یقین ہوگیاہے ، اوراِسی کے ساتھ ہی کیا وہ اِس بات کوبھی ایک پکے اور سچے مسلمان اور اصول پسند نڈر افغانی ہونے کے ناطے ایک اللہ ،ایک رسول اللہﷺ اور ایک قرآن کی قسم کھا کر حلفیہ کہہ سکتے ہیں کہ آج وہ افغانستان کے پاکستان سے ریاستی تعلقات سے متعلق جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ اِن کی اپنی خالص سوچ ہے اوراَب یہ اِس پر ہمیشہ قائم بھی رہیں گے اور وہ یہ بھی واضح کردیں کہ اپنی اِس بات اور جملے کوکھلے عام باربار دہراتے بھی رہیں گے کہ میں نے پاکستان سے متعلق جو کچھ کہا ہے وہ سب سچ ہے ورنہ اِس سے متعلق جب تک اشرف غنی کی طرف سے کسی قسم کا کوئی جواب نہیں آجاتاہے اِس بات پر اِدھرہر پاکستانی اشرف غنی ابوالمنافق سے بار بار ایک یہی سوال کرتا رہے گا کہ” کیاواقعی القاعدہ اور طالبان سے بڑاخطرہ پاکستان سے ریاستی تعلقات ہیں؟؟

بہر حا ل، آج ہم پاکستانیوں کو اپنی اِس غلطی کا بڑی شدد سے احساس ہورہاہے کہ جب ہم نے روس افغان جنگ میں افغانیوں کو اپنی زمین پر پناہ دی تھی اِن کی مہمان نوازی کی اور اپنا تن من دھن سب کچھ لوٹاکر اِنہیں اپنے دامن میں چھپائے رکھا ،خود بھوکے رہے مگر اِن منافقوں کا پیٹ بھررکھا،ہم خود ننگے رہے مگر اشرف غنی جیسے بکے ہوو ¿ں کا تن ڈھانپا، ہم خود بے گھر رہے مگر اِن گرمی سردی بارش اور دھوپ سے چھپانے کے لئے اپنی مقدس زمین پر گھر بناکردیئے اور آج یہی افغانی ہیں جوکہ اَب اپنے دیس میں جانے کے بعد اپنی حکومتیں قائم کرلینے کے بعد بھارتی عیاراور مکارحکمرانوں کی گودوں میں بیٹھ گئے ہیں اُنہیں بھی مزے دے رہے ہیں اور خود بھی مزے لوٹ رہے ہیں بھارت تو تھاہی پاکستان کا دُشمن مگر آج افغانی بھی بھارت کے اُکسانے پر بھارت سے زیادہ پاکستان کے خطرناک دُشمن کا روپ اپناچکے ہیں اور بھارت کی گود میں بیٹھے افغان صدر اپنی ساری ٹیم اور حکومتی اراکین کے ساتھ مفاد پرستی کی لولی پاپ چاٹتے چاٹتے پاکستان کی دُشمنی میں اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ آج وہ اپنی منافقوں والی زبان سے بھارتی محبت اور دوستی کا دم بھرتے ہوئے بڑی دیدہ دلیری اور ہٹ دھرمی سے پاکستان سے یہ کہہ رہے ہیں کہ”بھارت ہمارادوست ہے، پاکستان ہاتھ بڑھائے توہم بھی ہاتھ بڑھائیں گے“ورنہ...؟؟ فی الحال توموجودہ حالات اور واقعات کی روشنی میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ القاعدہ اور طالبان سے بڑاخطرہ پاکستان سے ریاستی تعلقات ہیں؟بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج افغان صدر اشرف غنی ماضی و حال اور مستقبل میں پاکستان کی جانب سے دوستی اور محبت کے تمام بڑھائے جانے والے خلوص کے وعدوں اور معاہدوںکو بھول چکے ہیںاور آج افغانستان سے بھارتی مفادات کی آنکھوں پر چڑھی پٹی کواُتار پھینکنے کی بھی زحمت گواراکئے بغیر ہی افغان صدر اشرف غنی ابوالمنافق پاکستان دُشمنی کی نئی نئی مثالیں قائم کرنے پرتُلے بیٹھے ہیں اورآج ہماری ہی آستینوں کے سانپ ثابت ہورہے ہیںافغانی یہ بات یاد رکھیں پاکستان کل بھی افغانیوں کا بے لوث دوست تھااور آج بھی ہے ۔

اِس پراَب ہم پاکستانی سِوائے کفِ افسوس ملنے کہ کچھ بھی نہیں کر پارہے ہیں، اور اُدھر ہم افغانستان میں بیٹھے احسان فراموش اور ابولمنافق شرف غنی اور کرزئی جیسے حکمرانوں اور وہاں کے عوام کے منافق رویوں کو دیکھ رہے ہیں تواِدھرہم اپنے اُس وقت کے آمر جنرل ضیاءالحق مرحوم جیسے بہت سے اپنے کرتادھرتاو ¿ں کے قول و فعل پربھی سوائے سوالات اور انگلیاں اُٹھانے کے کچھ بھی نہیں کر پارہے ہیں اور پچھتاوے اور دُکھ بھرے لہجے کے ساتھ یہ کہتے نہیں تھک رہے ہیں کاش کہ ضیاءالحق اپنے ساتھیوں کے ہمراہ امریکیوں کے کہنے پر افغانستان کے کرزئی اور اشرف غنی جیسے افغانیوں کو سرزمینِ پاکستان پر پناہ نہ دیتے تو آج کم ازکم پاکستان اِس طرح دہشت گردی و نارگی اور لاقانونیت کا شکار ہرگز نہ ہوتاجیسا کہ افغانیوں کی وجہ سے آج کل پاکستان ہوگیاہے اور افغانستان سے ملنے والی سرحدوں اور اپنے شہروں میں آباد افغان بستیوںکی وجہ سے تاریخ کی بدترین دہشت گردی اور ناسور جیسی بہت سی بُرائیوں میں دھنس چکاہے ۔اِس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ آج پاکستان میں کلاشنکوف اور ہیروئین کلچر کا عام ہونااور ایسے بہت سی بُرائیوں کا معاشرے میں سراہیت کرجانا بھی روس افغان جنگ کے باعث پاکستان میں پناہ لینے والے افغان باشندوں کا ہی کارنامہ ہے ورنہ عین ممکن تھاکہ پاکستان اِن شیطان صفت بُرائیوںسے محفوظ رہتاہے یہاں ایک اور سوال جو ساری پاکستانی قوم ابوالمنافق افغان صدر شرف غنی سے کرناچاہتی ہے وہ یہ ہے کہ تب بھارت کہا ں تھا جب افغان روس جنگ میں افغانی مارے جارہے تھے اور اِنہیںبھارت جیساکوئی بھی مُلک پناہ دینے کو تیار نہ تھااور اُس وقت بھارت کااِنہی افغانیوںسے متعلق کہے ہوئے یہ الفاظ آج بھی تاریخ کا حصہ ہیںکہ”ہم پہاڑوں میںرہنے والے قدیم رسم وروایت اور بات بات پر غصہ کرنے اورلڑنے مرنے والی افغان قوم کو اپنے یہاں جگہہ نہیں دے سکتے ہیں، اِس سے بھی زیادہ یہ کہ یہ ہیروئین جیسی دیگر نشہ کی عادی قوم ہے بھارت ایسی قوم کے افراد کو اپنی زمین پر پناہ دے کر اپنی قوم کا مستقبل اور ترقی و خوشحالی داو ¿پر نہیں لگاسکتاہے“اور آج یہی بھارت ہے کہ جو خطے میں اپنی چوہدراہٹ قائم کرنے اور پاکستان کے خلاف افغانیوںکو استعمال کرکے اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے افغانیوں کا دوست بن گیاہے اور عقل کے اندھے افغانی بھی اِس کے دوست 

:دیگر مضامین
(21.07.2016) فتح اللہ گولن فوجی گولوں سے ترکی فتح کرنے چلا تھا؟
(11.07.2016) عبدالستار ایدھی کے نام سے ایوارڈ کا اجراکیاجائے۔محمداعظم عظیم اعظم 
(08.07.2016) پاکستان فوبیا میں مبتلا مودی کا مذاکرات سے راہِ فرار؛از:‌ محمداعظم عظیم اعظم 
(01.07.2016) ماہِ رمضان کی روانگی.. جمعتہ الوداع ۔از:‌محمد اعظم عظیم اعظم
(23.06.2016) حکمرانوں وسیاستدانوں کا اساسِ مُلک و ملت . از؛ محمداعظم عظیم اعظم
(15.06.2016) ڈرون جیسے سِفلی کی ہنڈیا ۔ محمداعظم عظیم اعظم
(10.06.2016) پاک چین دوستی , بھارت امریکا بڑھتے تعلقات
(10.06.2016) پاکستان کی آبادی میں یومیہ 10ہزار109افرادکا اضاضہ ؛از:‌محمداعظم عظیم اعظم
(07.06.2016) بجٹ میں بے لگام مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ سے عوام زندہ درگور
(01.06.2016) راہدری منصوبہ اور پاکستان...؟؟از:‌محمداعظم عظیم اعظم
(01.06.2016) سندھ حکومت تھرپارکرکو توکراچی جیسا نہ بنا سکی
(23.05.2016) لمحہ فکریہ برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی ۔ ممتازملک. پیرس
(16.05.2016) بڑامنصب بڑامنہ اور بڑی بات، پانامالیکس قدرت کی لاٹھی
(12.05.2016) مشتاق رئیسانی کی کرپشن اور لوٹ مار میں مشتاقی توبہ توبہ . . .!!! 
(02.05.2016) حکمرانوں کی بودی سیاست اورغیر مُلکی قرضے۔از:‌محمداعظم عظیم اعظم
(25.04.2016) جنرل راحیل نے فوج سے احتسابی عمل شروع کردیاہے
(06.04.2016)  تہلکہ خیز انکشافات اور وزیراعظم اور بچوں کی آف شور کمپنیاں۔از؛ محمداعظم عظیم اعظم
(26.03.2016) ماضی اور حال کے مصطفی کمال اورکراچی کے عوام ۔از؛ محمداعظم عظیم اعظم
(18.03.2016)  متحدہ کی کراچی میں صفائی مہم اور سندھ حکومت ۔از؛ محمداعظم عظیم اعظم
(28.02.2016) اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ کا احساسِ محرومی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں