جاپانی دارالحکومت ٹوکیو کے قریب ایک شخص نے معذور افراد کے ایک رہائشی مرکز میں کم از کم اُنیس افراد کو چاقو کے وار کرتے ہوئے ہلاک اور تقریباً پچیس کو زخمی کر دیا، جن میں سے کئی ایک کی حالت نازک ہے۔
چھبیس سالہ حملہ آور نے اس واردات کے فوراً بعد ایک تھانے میں جا کر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس شخص نے پولیس کو بتایا کہ وہ معذور افراد کے اس رہائشی مرکز میں کام کر چکا ہے اور معذور افراد سے نفرت کرتا ہے۔
واقعے کے بعد ایمبولینسز، پولیس کی گاڑیاں اور فائر ٹرک جائے وقوع کی جانب روانہ ہوئے۔ جاپانی نیوز ایجنسی یوڈو (Kyodo) کے مطابق حملہ آور کی شناخت ستوشی ایماٹسو (Satoshi Uematsu) کے نام سے کی گئی، جسے گرفتار کیا جاچکا ہے۔
پولیس کے مطابق انھیں رات ڈھائی بجے کے قریب مذکورہ سینٹر سے ایک کال موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ چاقو سے مسلح ایک شخص سینٹر میں داخل ہوگیا ہے۔جاپانی ٹی وی 'این ایچ کے' کے مطابق حملہ آور نے عمارت کی پہلی منزل کا شیشے کا دروازہ توڑا اور اندر داخل ہوکر لوگوں پر چاقو سے حملہ کردیا۔
مزید بتایا گیا کہ پولیس نے حملہ آور کے بیگ سے متعدد چاقو بھی برآمد کیے، جن میں سے کئی پر خون لگا ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور نے رات 3 بجے خود کو پولیس کے حوالے کردیا اور اعتراف کیا کہ اس نے معذوروں کے سینٹر پر حملہ کیا ہے۔
اگرچہ جاپان میں پرتشدد حملوں کی شرح دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے، لیکن یہاں اس سے قبل بھی چاقو سے حملوں کے کچھ واقعات پیش آچکے ہیں، جنھیں غیر معمولی تصور کیا جاتا ہے۔
2001 میں اوساکا کے ایک پرائمری اسکول میں چاقو سے حملے کے نتیجے میں 8 بچے ہلاک ہوگئے تھے۔
2008 میں ایک شخص نے ٹوکیو کے مصروف اکیہابارا ڈسٹرکٹ میں ایک ہجوم پر ٹرک چڑھا دیا تھا، اس سے قبل حملہ آور نے راہگیروں پر چاقو سے حملہ بھی کیا تھا، ان واقعات میں 7 افراد ہلاک اور دیگر 10 زخمی ہوگئے تھے۔
اس واقعے کے بعد جاپان میں 5.5 سینٹی میٹر (2 انچ) سے زائد لمبائی والے دو دھاری چاقو یا چھریاں رکھنے پر پابندی عائد کردی گئی، جس کی خلاف ورزی پر 3 سال قید کی سزا رکھی گئی۔