وفاقی جرمن دفترِ استغاثہ نے جرمن شہر انسباخ میں کیے جانے والے خود کُش حملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ان تحقیقات کا مقصد یہ پتہ چلانا ہے کہ آیا حملہ آور کے درحقیقت دہشت گرد ملیشیا ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ساتھ روابط تھے۔
تفتیش کاروں کو ستائیس سالہ حملہ آور کے موبائل فون سے ایک ایسا اعترافی ویڈیو پیغام ملا تھا، جس میں اُس نے اللہ کے نام پر جرمنوں کے خلاف دہشت گردانہ حملے کی دھمکی دی تھی اور داعش کے قائد ابوبکر البغدادی کے ساتھ وفاداری کا اعلان کیا تھا۔ داعش کی ترجمانی کرنے والی میڈیا ایجنسی اعماق نے دعویٰ کیا تھا کہ حملہ آور داعش کا ایک سپاہی تھا۔ اس خود کُش کارروائی سے کچھ ہی پہلے اس شامی مہاجر کی جرمنی میں پناہ کی درخواست رَد کر دی گئی تھی اور اُسے واپس بلغاریہ بھیجنے کا فیصلہ سنایا گیا تھا۔