پاکستان کا سب سے بڑا عسکری اعزاز نشان حیدر حاصل کرنے والے پہلے سپوت کیپٹن محمد سرور 10 نومبر 1910ء کو موضع

سنگھوری، تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ 1944ء میں وہ فوج میں شامل ہوئے۔ 1948ء میں جب وہ پنجاب رجمنٹ کی سیکنڈ بٹالین میں کمپنی کمانڈر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے، انہیں کشمیر آپریشن پر مامور کیا گیا۔
یہ 27 جولائی 1948ء کا واقعہ ہے جب ان کی بٹالین نے اڑی سیکٹر میں دشمن کی ایک اہم پوزیشن پر حملہ کیا۔ اس حملے کے دوران انہوں نے غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جان شہادت نوش کیا۔
1956ء میں جب پاکستان میں عسکری اور شہری اعزازات کا آغاز ہوا تو انہیں حکومت پاکستان کا سب سے بڑا عسکری اعزاز نشان حیدر دیئے جانے کا فیصلہ ہوا۔ 3 جنوری 1961ء کو یہ اعزاز ان کی بیوہ محترمہ کرم جان نے صدر پاکستان محمد ایو ب خان کے ہاتھوں وصول کیا۔
٭ پاکستان کا سب سے بڑا عسکری اعزاز نشان حیدر حاصل کرنے والے پہلے سپوت کیپٹن محمد سرور کا یوم شہادت 27جولائی 1948ء ہے۔
-----------------------------------------------------------
٭27 جولائی 1942ء پاکستان کے نامور قوال عزیز میاں کی تاریخ پیدائش ہے۔
عزیز میاں یوپی کے شہر بلند شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ قوالی گانے میں اپنا ایک منفرد انداز رکھتے تھے۔ ان کی مشہور قوالیوں میں … میں شرابی میں شرابی… تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے…اللہ ہی جانے کون بشر ہے …سرفہرست ہیں۔ مزید برآں ان کی ایک نعتیہ قوالی ’’یا نبی یا نبی‘‘ نے بہت مقبولیت حاصل کی۔
حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ عزیز میاں 6 دسمبر 2000ء کو ایران کے شہر تہران میں وفات پاگئے اور ملتان میں احاطہ مزار بابا ناظر حسین (شہتوتاں والی سرکار) سیتل ماڑی میں آسودۂ خاک ہوئے۔
-----------------------------------------------------------
٭27 جولائی 1983ء کو پاکستان کے ایک سابق ٹیسٹ کرکٹر مفسرالحق کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ 16 اگست 1944ء کو کرنال میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے 1964-65ء میں صرف ایک ٹیسٹ میچ کھیلا اور اس ٹیسٹ میچ میں8 رنز اسکور کئے۔ اس میچ میں انہوں نے 3 وکٹیں بھی حاصل کی اور ایک کیچ بھی پکڑا۔ یہ ٹیسٹ میچ نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ کے میدان میں کھیلا گیاتھا۔ مفسرالحق ایک طویل عرصہ تک کراچی کرکٹ ایسوسی ایشن سے بطور سلیکٹر اور کوچ کے طور پر منسلک رہے۔ وہ کراچی میں سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔