اس سال کے امریکی صدارتی انتخابات میں ووٹروں کی پسند طے ہونے کا دارومدار نسبتاً آسان لگتا ہے۔
کیا وہ ری پبلیکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی تبدیلی کی نوید پر یقین کریں یا پھر استحکام اور مزاج کا معاملہ جس کی نمائندگی ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کرتی ہیں؟
فی الوقت، رائے عامہ کے جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکیوں کی زیادہ تر تعداد بعد والی ترجیح کی طرف مائل سی لگتی ہے۔
تبدیلی اور مزاج کے معاملوں کو انتخابی مہم کے دوران اٹھایا گیا، جب کہ کلنٹن نے ٹرمپ کے کردار اور صدر کے طور پر اُن کی موزونیت کا معاملہ اٹھایا ہے۔
پینسلوانیا کے شہر اسکرینٹن میں ہونے والی ایک حالیہ ریلی کے دوران اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کلنٹن نے کہا کہ ’’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ مزاجاً غیر موزوں ہیں اور امریکی صدر اور کمانڈر اِن چیف بننے کے لیے بالکل ہی نامناسب ہیں‘‘۔
پنسلوانیا کئی ایک فیصلہ کُن ریاستوں میں سے ایک ہے، جہاں کے حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں ٹرمپ بہت پیچھے ہیں۔
کلنٹن کی ریلی میں نائب صدر جو بائیڈن شامل تھے، جن کا اسکرینٹن سے آبائی تعلق ہے، جنھوں نے کہا کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے لیے’’بالکل ہی نااہل ہے‘‘۔
مزاج کا مسئلہ
حالیہ جائزہ رپورٹوں میں کلنٹن کو برتری ملی ہے جس کا سبب کسی حد تک ووٹروں میں ٹرمپ کے مزاج کا معاملہ ہے۔ ’بلوم برگ‘ کے ایک حالیہ سیاسی جائزے سے پتا چلتا ہے کہ سروے میں شامل 56 فی صد شرکا خیال کرتے ہیں کہ کلنٹن مناسب مزاج کی مالک ہیں، جب کہ اس ضمن میں محض 31 فی صد نے ٹرمپ کا نام لیا۔
مون ماؤتھ یونیورسٹی کے سروے کے بھی یہی نتائج تھے، جس جائزے میں 27 فی صد نے بتایا کہ ٹرمپ کا مزاج درست ہے، جب کہ 67 فی صد نے نفی میں جواب دیا۔ اِسی جائزہ رپورٹ میں، 61 فی صد نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کلنٹن کا مزاج مناسب ہے، جب کہ 34 فی صد نے اُن کے خلاف رائے دی۔
لیکن، اُنہی جائزوں سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ متعدد ووٹر اب بھی کلنٹن کو بداعتمادی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مون ماؤتھ کے مطابق، جائزے میں شامل لوگوں میں سے صرف 27 فی صد کا خیال ہے کہ وزیر خارجہ کی حیثیت سے نجی اِی میل سرور کے استعمال کے معاملے پر اپنے مؤقف میں کلنٹن سچی ہیں، جب کہ 64 ایسا نہیں سمجھتے۔
کلنٹن پر ملبہ گرانے کی کوشش
ٹرمپ کی انتخابی مہم خوب جانتی ہے کہ کلنٹن اُنھیں نااہل ثابت کرنے پر تُلی ہوئی ہیں، اس لیے ٹرمپ کی کوشش ہے کہ ملبہ کلنٹن ہی پر گرے۔
اوہائیو میں خارجہ پالیسی کے عنوان پر اپنے ایک حالیہ خطاب میں اُنھوں نے کہا کہ ’’ایک کے بعد ایک واقعات سے یہ پتا چلتا ہے کہ کلنٹن میں قوتِ فیصلہ کی کمی ہے، جس طرح برنی سینڈرز نے کہا تھا کہ ہمارے ملک کی سربراہی کے لیے استحکام، مزاج اور اخلاقی کردار کی ضرورت ہے‘‘۔
کلنٹن کی طرح، ٹرمپ بھی اپنی بات منوانے کے لیے ساتھی کی مدد پر انحصار کرتے ہیں، جن میں نیو یارک سٹی کے سابق میئر، روڈی جوُلیانی شامل ہیں۔
اوہائیو میں ٹرمپ کی ریلی میں جولیانی نے کہا کہ ’’جس بھی شعبے کی بات کی جائے، آج حالات ابتر ہیں اُس وقت کے مقابلے میں جب ہیلری کلنٹن نے محکمہٴ خارجہ میں قدم رکھا تھا‘‘۔
.....................
تقریباً تین ماہ بعد امریکی صدارتی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں، لیکن متعدد تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ 80 فی صد سے زائد امکان ہے کہ سابق امریکی وزیر خارجہ اور ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن ری پبلیکن پارٹی کے ڈونالڈ ٹرمپ کو شکست دیں گی، جو جائیداد کے نامور کاروباری شخص ہیں اور پہلی بار کسی منتخب عہدے کے لیے میدان میں ہیں۔
آٹھ نومبر کو ہونے والے انتخاب کے لیے 12 ہفتے کی انتخابی مہم باقی ہے، جب جیتنے والا صدر براک اوباما کی جگہ لے گا جو آئندہ جنوری میں اپنی میعاد مکمل کرنے والے ہیں؛ جب کہ ستمبر اور اکتوبر میں کلنٹن اور ٹرمپ کے مابین تین مباحثے ہونے والے ہیں جن سے کسی بھی امیدوار کی قسمت بدل سکتی ہے۔
تاہم، تجزیہ کاروں کی رائے میں اس دوڑ میں، فی الوقت، کلنٹن کو کافی سبقت حاصل ہے، اور رائے عامہ کے قومی جائزوں کے مطابق، اُنھیں سات فی صد کی برتری برقرار ہے، جب کہ کانٹے کے مقابلے والی ریاستیں جن کے بل بوتے پر امریکی صدارتی انتخابات کا فیصلہ ہوگا وہاں بھی اُنھیں سبقت دکھائی دیتی ہے۔
چار سالہ امریکی صدارتی انتخاب کا دارومدار قومی مقبولیت پر مبنی رائے دہی نہیں ہے، بلکہ 50 ریاستوں میں ووٹنگ کے نتائج پر ہوتا ہے؛ جب کہ اِن ریاستوں کی اہمیت ’الیکٹورل کالج‘ میں اُن کی پوزیشن پر منحصر ہے، جو آبادی کی بنیاد پر اور کانگریس میں سینیٹروں اور نمائندگان کے عدد کے اعتبار سے طے ہوتا ہے۔
چالیس ریاستوں میں ووٹروں نے پچھلے انتخابات میں ڈیموکریٹس اور ری پبلیکنز کا ساتھ دیا ہے، جب کہ دیگر 10 ریاستوں میں جہاں سیاسی اتحاد جوڑ توڑ سے کام نہیں لیتے، وہاں ہمدردیاں ایک سے دوسری پارٹی کی جانب بدلتی رہتی ہیں، جن کا انحصار امیدوار کی شخصیت یا پھر درپیش سیاسی مسائل پر ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اِنہی سخت مقابلے والی ریاستوں میں کلنٹن کو پہلے ہی 538 پر مشتمل ’الیکٹورل کالج‘ کی 270 کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے، جن کی مدد سے وہ ملک کی پینتالیسویں صدر اور پہلی خاتون کمانڈر اِن چیف بن سکتی ہیں۔
’نیویارک ٹائمز‘ کی ’’538‘‘ ویب سائٹ کی الیکشن پیش گوئی، اور ’پرنسٹن الیکشن کنسورشئم‘ اور ’پرڈکٹ وائز‘ نے کہا ہے کہ کلنٹن کی جیت کا 80 فی صد امکان ہے؛ جب کہ سیاسی تجزیہ کار چارلی کوک، لیری سباتو اور اسٹوئرٹ روتھن برگ اور نتھن گونزالیز سبھی یہی کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کا پلڑا اُنہی کی طرف بھاری ہے۔
سیاسی جائزوں کے مطابق، ٹرمپ جس نے نامور ری پبلیکن عہدے داروں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پارٹی کی صدارتی نامزدگی حاصل کی، اور کلنٹن جو سابق صدر بِل کلنٹن کی بیوی ہیں کو گذشتہ ماہ ری پبلیکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے قومی کنوینشن کے بعد نئی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ ری پبلیکن کنویشن کے بعد، ٹرمپ کی کلنٹن کے ساتھ برابر کی مقبولیت کی باتیں سامنے آئیں، لیکن ڈیموکریٹک کنوینشن کے بعد کلنٹن کو فوری طور پر سبقت حاصل ہوگئی؛ اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اس وقت اُنھیں متفقہ طور پر برتری حاصل ہے۔
طویل مدت سے میدان کے سیاسی گرو رہنے والے، کوک نے بتایا ہے کہ دونوں سیاسی کنوینشنز کے بعد قومی دوڑ ابھی ختم نہیں ہوئی، لیکن ’’یہ بھرپور طور پر جاری ہے‘‘۔
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’متعدد مبصرین نے توجہ دلائی ہے کہ جدید صدارتی پولنگ کے گذشتہ چھ عشروں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دیکھا یہ گیا ہے کہ جس امیدوار کو آخری کنویشن کے دوسرے ہفتے کے بعد کیے گئے رائے عامہ کے جائزوں میں برتری ہوتی ہے، وہی فتحیاب ہوتا ہے۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اِس بات کا قوی امکان ہے کہ ہیلری کلنٹن ڈونالڈ ٹرمپ پر حاوی ہیں، چونکہ اُنھیں خاصی سبقت حاصل ہے جو بڑھ رہی ہے‘‘۔
رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ امریکی دونوں امیدواروں کو منفی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن کلنٹن کے مقابلے میں وہ ٹرمپ کو زیادہ منفی خیال کرتے ہیں۔ سرویز میں دکھائی دیتا ہے کہ اب فیصلہ اِس بات پر ہے کہ وہ کس امیدوار کو زیادہ برا خیال کرتے ہیں اُنھیں ووٹ نہ دیا جائے بجائے ٹرمپ اور کلنٹن نام پر ووٹ دینے کے۔
................
ڈیموکریٹ نائب صدارتی امیدوار ٹم کین نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹیکس ریٹرن جاری نہ کرنے پر آڑے ہاتھوں لے لیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ اپنی متعصب اور غیر ذمہ دارانا سیاست کے باعث 4 اہم امریکی ریاستیں ٹرمپ کے ہاتھوں سے نکل رہی ہیں۔
امریکی ریاست نیو ہیمپشائر کے شہر مانچسٹر میں ٹم کین کا نے اپنے حامیوں سے خطاب میں کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا اور نہ ہی ٹرمپ نے کبھی کسی کی پرواہ نہیں کی، جبکہ ہلیری کلنٹن کا ایک سیاسی پس منظر ہے اور وہ امریکی عوام سے محبت کرتی ہیں۔
ہلیری کلنٹن نے گزشتہ 40سال کے ٹیکس ریٹرن جاری کرے امریکی صدر کے انتخاب کو نہایت آسان کردیا ہے، جبکہ ٹرمپ مختلف حیلے بہانے بنا کر ٹیکس ریٹرن جاری کرنے سے بھاگ رہے ہیں۔
دوسری جانب درجنوں ریپبلکنز نے ریپبلکن نیشنل کمیٹی پر زور دیا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے فنڈز روک دے، آر این سی کے پولز کے مطابق ہلیری کلنٹن کو ٹرمپ پر6 اشاریہ8 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔
ٹرمپ اپنی منفی سیاست کی وجہ سے عوامی اور سیاسی سطح پر تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں، سی آئی اے کے سابق سربراہ نے ان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے، جبکہ امریکی قومی سلامتی کے 50ماہرین نے بھی ٹرمپ کو امریکی صدر کے منصب کے لیے نااہل کہا ہے۔
ایک معروف دستاویزی فلم ساز مائیکل مور نے ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانا ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں مشورہ دیا ہے کہ ان کے والد کی طعبیت دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے، ٹرمپ کو مدد کی ضرورت ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے پولز کے مطابق 4 اہم امریکی ریاستوں فلوریڈا، نارتھ کیلورینا، ورجیانا اور کولوراڈو میں بھی ریپبلکن صدارتی امیدوار کی مقبولیت میں مسلسل کمی آرہی ہے
.................
بقول پیٹر منصور، ’’ٹرمپ اس عہدے کے لیے بالکل ہی غیر موزوں ہیں۔ اُن کا انداز، اُن کی انا پرستی، الفاظ پر کنٹرول نہ ہونے کی عادت، یہ تمام باتیں ایسی ہیں جن کے باعث کسی بھی صدر کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے‘‘
واشنگٹن —
پیٹر منصور ری پبلیکن پارٹی کے خودساختہ عمر بھر کے حامی اور امور خارجہ پالیسی پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
وہ امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل ہیں جو ووٹنگ کے اپنے قدامت پسندانہ سوچ میں پختہ ہیں۔ منصور کے بقول، ’’ریگن سے رومنی تک میں نے ہر ری پبلیکن صدارتی امیدوار کو ووٹ دیا ہے‘‘۔ عراق جنگ کے دوران وہ سابق جنرل ڈیوڈ پیٹریس کے قریبی ساتھی رہے ہیں۔
تاہم، اس سال، ڈونالڈ ٹرمپ کو پارٹی کی طرف سے نامزدگی دیے جانے پر، اُن کی سوچ ڈاواں ڈول سی لگتی ہے۔ منصور نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’ٹرمپ اس عہدے کے لیے بالکل ہی غیر موزوں ہیں۔ اُن کا انداز، اُن کی انا پرستی، الفاظ پر کنٹرول نہ کرنے کی عادت، یہ تمام باتیں ایسی ہیں جن کے باعث کسی بھی صدر کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے‘‘۔
منصور اُن ری پبلیکنز میں سے ہیں جن کی تعداد بڑھ رہی ہے، خاص طور پر قومی سلامتی کی اسٹیبلشمنٹ میں، جو ٹرمپ کی مخالفت کرتے ہیں۔ منصور کی طرح کے کئی لوگ، نہ صرف یہ کہ وہ ری پبلیکن پارٹی کے نامزد امیدوار کی مذمت کرتے ہیں بلکہ وہ اُن کی ڈیموکریٹک حریف ہیلری کلنٹن کی حمایت کا غیر معمولی قدم تک اٹھا رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’’کئی پالیسیوں پر میں ہیلری کلنٹن سے اتفاق نہیں کرتا۔ لیکن، بحیثیتِ انسان اُن میں صدر بننے کی اہلیت ہے۔ وہ چست ہیں۔ وہ نپی تُلی بات کرتی ہیں۔ وہ اپنے مشیروں کی نصیحت کو قبول کرتی ہیں۔ وہ تجربہ کار ہیں‘‘۔
منصور اور دیگر خارجہ پالیسی کے شاہینوں کے بیانات سے پتا چلتا ہے کہ دنیا کے بارے میں وہ کلنٹن کی سوچ کے حامی ہیں، جنھوں نے امریکی سینیٹر اور وزیر خارجہ کے طور پر عراق، لیبیا سے یوکرین تک مداخلتی پالیسیوں کی حمایت اور نگہبانی کی ہے۔
امور خارجہ کے شعبے میں ٹرمپ کے مقابلے میں کلنٹن کے خیالات مختلف ہیں، حالانکہ ایسا بھی ہے کہ کبھی کبھار اُن کا ریکارڈ انتہائی متضاد رہا ہے (واضح ٹیلیفون گفتگو سےلے کر مشرق وسطیٰ کے ملکوں کو فتح کرنا اُن پر قبضہ جمانا، ’’تیل حاصل کرنے‘‘ کے بدلے امریکہ کی جانب سے دنیا میں وسیع تر فوجی برداشت کی تجاویز کا لحاظ کرنا شامل ہے)۔
ابھی یہ واضح نہیں آیا امریکی خارجہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ ٹرمپ کو ووٹ دے گی یا کلنٹن کو۔
تاہم، اگر ’’شاہین‘‘ بڑی تعداد میں کلنٹن کی حمایت کرتے ہیں تو ایک گروپ کی جانب سے ہمدردیاں تبدیل کرنے کا یہ ایک اہم معاملہ ہوگا جو عشروں تک ری پبلیکن پارٹی کے ساتھ رہے ہیں۔
اس ہفتے، خارجہ پالیسی کے نمایاں لوگ جو کلنٹن کے حامی بنے ہیں اُن کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اُن میں اب متعدد مشہور شخصیات شامل ہوگئی ہیں جن میں سابق معاون وزیر خارجہ رچرڈ ارمیٹیج ؛ نیشنل انٹیلی جنگ کے سابق سربراہ جان نیگروپونٹے؛ اور ’سی آئی اے‘ کے سابق سربراہ، مائیکل موریل شامل ہیں، جنھوں نے حالیہ دِنوں ’نیویارک ٹائمز‘ میں شائع اپنی تحریر میں کہا ہے کہ ٹرمپ ’’ہماری قومی سلامتی کی پالیسی کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں‘‘۔
بشکریہ وائس آف امریکہ
...........
...........
ریپبلکن جماعت کے اہم رہنماؤں کے ایک اور گروپ نے کہا ہے کہ وہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت نہیں کریں گے۔ یہ رواں ہفتے دوسرا موقع ہے جب کہ اس سے قبل اس جماعت کے سکیورٹی و سلامتی اور تجارتی ماہرین بھی ٹرمپ سے متعلق ایسی ہی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔
جماعت کے 70 سے زائد ارکان جن میں سابق کانگریس اراکین، ریگن اور دونوں بش صدور کی انتظامیہ میں شامل رہنے والے سینیئر ارکان بھی شام ہیں، نے ریپبلکن نیشنل کمیٹی "آر این سی" کے چیئرمین کے نام خط لکھا ہے۔
یہ ممبران چاہتے ہیں کہ ’آر این سی‘ ٹرمپ کی حمایت کے لیے ریپبلکن کا پیسہ، وقت، کارکنان اور تشہیر بند کرے اور اس کی بجائے یہ وسائل ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے امیدواروں پر صرف کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ نومبر میں ٹرمپ کے جیتنے کے امکانات دن بہ دن ختم ہوتے جا رہے ہیں۔
بعض دیگر وجوہات کے علاوہ معترض اراکین کے پیش نظر ٹرمپ اور عراق میں جان دینے والے مسلمان امریکی فوجی کے والدین کے درمیان ہونے والی بیان بازی اور "مختلف چھوٹے بڑے امور پر ٹرمپ کی طرف سے دروغ گوئی"بھی شامل ہے۔
ریپبلکن کمیونیکیشنز کے عہدیدار اینڈریو وائن سٹئین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ "اگر آر این سی فوری طور پر اپنی توجہ منتقل نہیں کرتی تو نومبر میں ٹرمپ کا معاملہ کانگریس میں ہماری اکثریت کو بھی تباہ کر سکتا ہے۔ ہم اور زیادہ انتظار کے متحمل نہیں ہو سکتے کہ ہم اپنے وسائل وہاں صرف کریں جہاں ہم جیت سکتے ہیں بجائے اس کے اور زیادہ پیسہ کامیاب نہ ہو سکنے والے صدارتی امیدوار پر لگائیں۔"
تاحال اس بارے میں ٹرمپ کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
پیر کو ریپبلکن جماعت کے 50 رہنماوں نے بھی ایک خط میں کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کی حمایت نہیں کریں گے کیونکہ ان کے نزدیک ٹرمپ صدارت کے اہل نہیں ہیں۔
..........
...........
رواں ہفتے امریکی رائے دہندگان کے ہونے والے جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اپنی حریف ڈیموکریٹک ہلری کلنٹن سے ایک واضح فرق کے ساتھ پیچھے ہیں۔
میکلاچی میرسٹ پول کے تازہ ترین جائزے کے مطابق ہلری کلنٹن 48 فیصد اور ٹرمپ 33 فیصد پسندیدگی کی شرح پر ہیں۔ گزشتہ ماہ میں کیے گئے سروے میں یہ فرق 42 اور 39 فیصد تھا۔
میرسٹ کالج پولنگ گروپ کے ڈائریکٹر لی میرینگوف کہتے ہیں کہ ووٹرز کی تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی پسندیدگی ظاہر کرتی ہے کہ "ٹرمپ کی صدارتی امیدواری خطرے میں ہے۔"
یہ جائزہ رواں ہفتے پیر سے بدھ کے درمیان کیا گیا اور میرینگوف کے مطابق ٹرمپ کی طرف سے "غلطیوں کی ایک طویل فہرست بشمول ڈیموکریٹ قومی کنونشن میں شریک مسلمان جوڑے پر تنقید" نے کلنٹن کا پلڑہ بھاری کرنے میں کردار ادا کیا۔
لیکن سروے میں کئی اور اشاریے ایسے بھی ہیں جو سابق وزیرخارجہ ہلری کلنٹن کے لیے مثبت نہیں۔ میرسٹ پول کے مطابق 40 فیصد رجسٹرڈ ووٹر کہتے ہیں کہ وہ ہلری کلنٹن کی حمایت صرف اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ وہ ٹرمپ کے مخالف ہیں۔
55 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز کا کہنا تھا کہ وہ ہلری کلنٹن کے بارے میں موافق رائے نہیں رکھتے۔ تاہم ناموافق رائے کی شرح ٹرمپ کے لیے 66 فیصد ہے۔
میکلاچی اور جینفورورڈ کی طرف سے کیے گئے جائزوں کے مطابق 18 سے 30 سال کے 25 فیصد ووٹرز ٹرمپ کے بارے میں موافق رائے رکھتے ہیں۔
میکلاچی کے سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ 23 فیصد ووٹرز ایک تیسری جماعت لبرٹیرین کے صدارتی امیدوار گیری جانسن کو ووٹ دیں گے جب کہ جینفورورڈ کے مطابق دس میں سے سات ووٹرز یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ جانسن کے بارے اتنا نہیں جانتے کہ انھیں ووٹ دیں۔
گرین پارٹی کی امیدوار جل اسٹئین کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے اور میکلاچی کے جائزے کے مطابق 16 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ انھیں ووٹ دیں گے۔
...........
............
امریکہ میں سابق فوجیوں کی طرف سے ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی مذمت کرتے ہوئے کیپٹل ہل میں درخواستیں دائر کی جا رہی ہیں جن میں سینیٹر جان مکین اور دیگر ریپبلکن رہنماؤں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی جماعت کی طرف سے ٹرمپ کی نامزدگی کی تائید واپس لیں۔
سابق میرین اہلکار الیگزینڈر مکوئے کا کہنا ہے کہ "دنیا میں امریکی ذمہ داریوں سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل لاعلمی سے میں اندر تک ہل کر رہ گیا ہوں۔۔۔ہم نے انھیں سنا کہ وہ وحشی آمروں کی تعریف کر رہے ہیں، ہم نے انھیں ہمارے انتہائی باوفا اتحادیوں کو چھوڑنے کی دھمکیاں دیں۔۔۔میں نے جتنا سننا تھا سن لیا اب بس۔"
انھوں نے مزید کہا کہ "ہم ڈونلڈ ٹرمپ کے بطور کمانڈر انچیف کردار کے متحمل نہیں ہوسکتے۔"
بحریہ کے ایک مسلمان سابق اہلکار نیٹ ٹیرانی کہتے ہیں کہ "ڈونلڈ ٹرمپ کی نفرت انگیز تقریر، تعصب اور اقلیتوں بشمول مسلمانوں کے خلاف کھلے عام تشدد کی ترغیب یہ سب آزادی اور مساوات کی ان اقدار کے منافی ہے جن کے تحفظ کی ہم نے قسم کھائی تھی۔"
انھوں نے مزید کہا کہ "یہ سینیٹر مکین جیسے قانون سازوں کا اولین فرض ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مذمت کریں اور ان کی تائید واپس لیں۔"
عراق میں 2004ء میں اپنی جان دینے والے مسلمان امریکی فوجی ہمایوں خان کے والد خضر خان اور والدہ غزالہ خان سے متعلق بیانات پر ڈونلڈ ٹرمپ کو نمایاں ریپبلکنز سمیت سابق فوجیوں کی طرف سے خاصی تنقید کا سامنا رہا ہے۔
رواں ہفتے کے اوائل میں ہی سینیٹر مکین نے خود کو ٹرمپ سے فاصلے پر رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مکین بھی ایک سابق فوجی ہیں جب کہ 2008ء میں ریپبلکن کی طرف سے صدارتی امیدوار بھی رہ چکے ہیں۔
اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ "ڈونلڈ ٹرمپ نے جان دینے والے ایک فوجی کے والدین کا احترام نہیں کیا، وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ (خضر خان کے) بیٹے جیسے لوگوں کو امریکہ میں آنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ میں یہ نہیں بتا سکتا کہ میں مسٹر ٹرمپ کے بیان سے کس حد تک اختلاف کرتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بیانات ہماری ریپبلکن پارٹی کی سوچ کی ترجمانی نہیں کرتے۔"
تاہم مکین نے سینیٹ کی اپنی نشست دوبارہ حاصل کرنے کی مہم کے دوران ایسا کوئی بیان نہیں دیا کہ ٹرمپ کی تائید سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
دریں اثناء بعض ریپبلکن خان فیملی سے متعلق ٹرمپ کے بیانات پر ان کا ساتھ دیتے بھی نظر آتے ہیں۔
صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں ٹرمپ کے سابق حریف نیورو سرجن بین کارسن کا کہنا تھا کہ خان اور ٹرمپ دونوں کو ایک دوسرے سے معذرت کرنی چاہیے۔
...................
ری پبلیکن پارٹی کے رہنما حالیہ دِنوں ہونے والی قومی اور فیصلہ کُن ریاستوں میں ووٹنگ پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں جس میں ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ پر سبقت حاصل کی ہے۔
نیو ہیمپشائر، مشی گن اور پنسلوانیا کی فیصلہ کُن ریاستوں میں ہونے والے رائے عامہ کے جائزوں میں کلنٹن کو ٹرمپ پر واضح سبقت حاصل ہوگئی ہے۔ اس سے قبل ’سی این این‘ اور ’این بی سی نیوز‘ نے سروے کرائے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ کم از کم آٹھ پوائنٹ سے پیچھے ہیں۔
رائے عامہ کے یہ جائزے گذشتہ ہفتے منعقد ہونے والے ڈیموکریٹک نیشنل کنوینشن کے بعد سامنے آئے ہیں، جہاں ایسا لگتا ہے کہ کلنٹن کو پانچ سے چھ پوائنٹ کا فائدہ ہوا ہے، جو پارٹی کے کسی کنویشن کے بعد عام سی بات ہے۔
لیکن، یہ اِس بات کی بھی غماز ہے کہ ٹرمپ تواتر سے متنازع معاملات سے دوچار رہے ہیں، جن کے باعث نہ صرف ڈیموکریٹس کی جانب سے منفی ردِ عمل سامنے آیا ہے بلکہ اس میں چند معروف ری پبلیکن رہنما بھی شامل ہیں۔
’’ہم بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں‘‘: ٹرمپ
اپنی انتخابی مہم کو جاری رکھتے ہوئے، ٹرمپ نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا ہے، حالانکہ ری پبلیکن پارٹی کے رہمناؤں نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔
جیکسن ویل میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا ہے کہ اُن کی انتخابی مہم بہتر طور پر چل رہی ہے اور نومبر میں کامیابی کے حصول کی جانب جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے تالیوں کی گونج میں کہا کہ ’’اس لیے، میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ انتخابی مہم بہتر چل رہی ہے۔ یہ کبھی اتنی متحد نہیں تھی‘‘۔
......................
ہلری کلنٹن نے ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار کی نامزدگی قبول کرتے ہوئے امریکی قوم کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متحد ہونے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
جمعرات کو دیر گئے پینسلوینیا کے شہر فلاڈیلفیا میں اپنی جماعت کے قومی کنونشن کے اختتام پر اپنے خطاب میں ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ "یہ ہم پر منحصر ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم مل کر کام کریں گے تاکہ ہم دوبارہ اکٹھے آگے بڑھ سکیں۔"
68 سالہ ہلری کلنٹن کسی بھی بڑی جماعت کی طرف سے منصب صدارت کے لیے نامزدگی حاصل کرنے والی پہلی امریکی خاتون ہیں۔
انھوں نے اپنے ورمونٹ سے سینیٹر برنی سینڈرز کو پرائمری اور کاکس کے ہونے والے انتخاب میں شکست دے کر یہ نامزدگی حاصل کی۔
سینڈرز بھی اس کنونشن میں اپنی تقریر کے دوران ان کی حمایت کر چکے ہیں لیکن ان کے بعض حامی گروپوں نے ہلری کلنٹن کی حمایت نہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے جو کہ خاتون امیدوار کے لیے نومبر میں ہونے والے انتخاب میں ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔
ہلری کلنٹن نے جمعرات کو اپنی تقریر میں سینڈر کی طرف سے ان کی حمایت کو سراہتے ہوئے نوجوانوں کو ووٹ ڈالنے، اقتصادی ترقی اور سماجی انصاف پر آواز بلند کرنے کو اجاگر کیا۔ انھوں نے کہا کہ "میں آپ کو بتایا چاہتی ہوں کہ میں نے آپ کو سنا ہے، آپ کا مقصد ہمارا مقصد ہے۔"
نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ان کا مقابلہ ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے ہوگا۔
................
...............
ہیلری کلنٹن، جنھوں نے امریکی سیاست کی ایک پوری نسل پر واضح اثرات ڈالے ہیں، ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی نامزدگی قبول کریں گی، جس کے بعد وہ امریکیوں کو بتائیں گی کہ جنوری میں جب صدر براک اوباما اپنا عہدہٴ صدارت مکمل کریں گے، تو نئی امریکی سربراہ کے طور پر اُن پر اعتماد کا اظہار کیوں ضروری ہے۔
کلنٹن کسی اہم سیاسی پارٹی کی جانب سے نامزد ہونے والی پہلی خاتون ہیں، ’گیلپ‘ کے مطابق، اُنھیں میں زیادہ تر عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
تاہم، ساتھ ہی، امریکی ووٹروں کی اکثریت نے رائے عامہ کا جائزہ لینے والے اہل کاروں کو بتایا ہے کہ وہ اُن پر اعتماد نہیں کرتے، جن متضاد باتوں کے باعث ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ اُن کا مقابلہ سخت ہوگیا ہے، جو وائٹ ہاؤس کے چار سالہ عہدے کے لیے مدِ مقابل ہیں۔
اڑسٹھ برس کی ہیلری کلنٹن سنہ 2009 سے 2013ء تک امریکی وزیر خارجہ رہ چکی ہیں۔ وہ بدھ کے روز کچھ دیر تک پینسلوانیا کے شہر فلاڈیلفیا میں منعقدہ ’ڈیموکریٹک نیشنل کنویشن‘ میں نطر آئیں، جس سے قبل صدر اوباما نے جانشین کے طور پر اُن کی حمایت کا اعلان کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اب تک صدارت سنبھالنے والے اُن کے مقابلے میں اتنے اہل نہیں تھے، جن میں وہ خود اور اُن کے شوہر، سابق صدر بِل کلنٹن شامل ہیں۔
جمعرات کے روز، کلنٹن اپنا کیس پیش کریں گی۔ اُن کے خطاب سے قبل، انتخابی مہم کی منیجر روبی موک نے کہا ہے کہ کلنٹن آٹھ نومبر کو ووٹ ڈالنے کے لیے ’’ووٹروں کے پاس ایک بہت ہی واضح انتخاب‘‘ موجود ہے۔
موک نے ’سی بی ایس دِس مارننگ‘ شو میں تسلیم کیا کہ ٹرمپ، جو جائیداد کے نامور کاروباری شخص ہیں، پہلی بار کسی منتخب عہدے کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ وہ ’’بہت بڑے دعوے کر رہے ہیں جو کچھ لوگوں کے لیے انتہائی پُر کشش ہیں‘‘۔
موک کے بقول، ’’انتخابی مہم کے سلسلے میں جو بات ہمیں کرنی ہے اُس کا دارومدار ہیلری کی آج کی تقریر سے ہے؛ اور اس کنویشن میں اب تک اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ لوگوں کو حقائق سے آگاہ کیا جائے‘‘۔
اُنھوں نے ٹرمپ کو ’’ایسا شخص قرار دیا جنھوں نے پوری زندگی پیسہ بنانے کی فکر کی ہے، اور وہ محنت کشوں کا حق مار کر امیر بنے ہیں، جو بات لوگوں کو سمجھنی ہوگی‘‘۔
کلنٹن نے متعدد بار کہا ہے کہ اُنھیں ووٹروں کا اعتماد جیتنے کی ضرورت ہوگی، جنھیں اُن کی جانب سے نجی اِی میل سرور کے استعمال سے کسی حد تک دھچکہ پہنچا ہے، جب وہ اوباما کے پہلے عہدہٴ صدارت کے دوران ملک کی اعلیٰ ترین سفارت کار تھیں۔
اُنھوں نے بتایا کہ اُنھوں نے زیادہ محفوظ سرکاری سرور کی جگہ نجی سرور اس لیے استعمال کیا کیونکہ اُن کے لیے یہ زیادہ سہل تھا۔ امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن حالیہ دِنوں اِس نتیجے پر پہنچا ہے کہ محکمہٴ خارجہ کی اِی میلز جو ایک صیغہٴ راز کا معاملہ ہوتا ہے، وہ ’’انتہائی لاپرواہ‘‘ ثابت ہوئیں۔ لیکن، یہ کہ، اُن پر مقدمہ دائر نہیں ہوسکتا۔
موک نے کہا ہے کہ اس چار سالہ ڈیموکریٹک کنویشن کے نتیجے میں اُن کی نامزدگی مزید پختہ ہوئی ہے، جس سے لوگوں کو اُن کے بارے میں معلومات بڑھی ہے، اور وہ جانتے ہیں کہ ہیلری پر اعتماد کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اُنھوں نے کبھی اُنھیں مایوس نہیں کیا‘‘۔
بدھ کی رات اُن کے اہم حامیوں میں اوباما بھی شامل تھے، جن کے خطاب کے دوران کنوینشن میں موجود ہزاروں ڈیلیگیٹس میں جوش و جذبہ دیکھا گیا۔
.................
.................
امریکہ کے صدر براک اوباما نے ڈیموکریٹک قومی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مرد یا خاتون عہدہ صدارت کے لیے اتنا قابل نہیں رہا جتنا کہ ہلری کلنٹن ہیں۔
پینسلوینیا کے شہر فلاڈیلفیا میں جاری کنونشن میں صدر نے اپنی انتظامیہ کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے علاوہ یہ وضاحت بھی کی کہ بطور امیدوار ہلری کلنٹن منصب صدارت کے لیے کس طرح موزوں ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ملک اس وقت ہی بہتر ہو سکتا ہے جب تمام لوگ مل کر آگے بڑھیں۔
"اس سال، انتخاب میں، میں آپ سے کہوں گا کہ آپ مایوسی اور خوف کے خلاف میرا ساتھ دیں اور ہم میں موجود بہترین کو آواز دیں اور ہلری کلنٹن کو امریکہ کی آئندہ صدر منتخب کریں، اور دنیا کو دکھائیں کہ اب بھی اس عظیم قوم کے عزم پر یقین رکھتے ہیں۔"
انھوں نے ہلری کلنٹن کے بطور وزیرخارجہ اپنے ساتھ کام کرنے کے تجربات کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ صدر بننے کے لیے کسی بھی شخص کی اس زیادہ بہتر تربیت نہیں ہوسکتی۔
"جب تک آپ کام پر نہ بیٹھیں، آپ کو یہ معلوم نہیں ہو سکتا ہے کہ عالمی بحران سے کیسے نمٹنا ہے، یا نوجوان لوگوں کو کس طرح جنگ پر بھیجنا ہے۔ لیکن ہلری (اس کام میں رہی ہیں)، ایسے فیصلوں میں شریک رہی ہیں۔ وہ جانتی ہیں ایسے فیصلے کرتے ہوئے ہماری حکومت کا کیا کچھ داؤ پر ہوتا ہے، کام کرنے والے خاندانوں کو کیا کچھ داؤ پر ہوتا ہے، بزرگ شہریوں، چھوٹے کاروبار کرنے والوں کا (کیا داؤ پر لگا ہوتا ہے۔)"
صدر نے ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابانی مہم کو بھی اپنی تقریر میں تنقید کا نشانہ بنایا۔
"وہ (ٹرمپ) صرف نعرے پیش کر رہے ہیں، خوف پیش کر رہے ہیں، وہ یہ کر رہے ہیں کہ لوگوں کو جتنا زیادہ خوفزدہ کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ وہ اتنے ووٹ لے لیں کہ انتخاب میں کامیاب ہو جائیں۔"
اوباما نے ٹرمپ کی طرف سے نیٹو اتحادیوں کے لیے دیے گئے اس پیغام کا حوالہ بھی دیا کہ جس میں ان کا اصرار تھا کہ اس کے پہلے کہ امریکہ ان کی مدد کو آئے وہ اس بات کو یقینی بنائیں انھوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔
"وہ (ٹرمپ) پوٹن سے گرمجوشی دکھا رہے ہیں، صدام حسین کی تعریف کرتے ہیں، ہمارے نیٹو اتحادیوں کو جو کہ 9/11 کے بعد ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے، سے یہ کہہ رہے ہیں کہ انھیں اگر ہماری مدد چاہیے تو اس کے لیے انھیں پہلے قیمت ادا کرنا ہوگی۔ امریکہ کا عزم قیمت کی پرچی کے ساتھ نہیں ہوتا۔"
....................
....................
منگل کی شام پنسلنوانیا کے شہر، فلاڈیلفیا میں ڈیموکریٹک قومی ڈیلیگیٹس کے ’ووٹ کاؤنٹ‘ میں ہیلری کلنٹن کو 2842 اور سینیٹر برنی سینڈرز کو 1865 ووٹ پڑے؛ اور یوں، کلنٹن امریکہ کی پہلی خاتون امیدوار بن گئی ہیں، جنھیں پارٹی نے صدارتی امیدوار نامزد کیا ہے۔
مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ڈیلیگیٹس نے ’رول کال‘ کے طریقہٴ کار کے تحت بلند آواز میں ووٹ دیے، ایسے میں جب کنوینشن ہال میں اپنی بیگم کے ہمراہ، سینیٹر برنی سینڈرز نہ صرف موجود تھے بلکہ رول کال کے اختتام پر، سینڈرز نے تجویز دی کہ ’’ضابطہٴ کار کو بالائے طاق رکھ کر اور مزید وقت ضائع کیے بغیر، ہیلری کلنٹن کی نامزدگی کا اعلان کیا جائے۔‘‘
امریکی صدارتی نامزدگی کی کنوینشن اور اسٹیٹ ڈیلیگیٹس کی قدیم روایت کو مد منظر رکھتے ہوئے، فلاڈیلفیا میں ڈیموکریٹک پارٹی کا چار سالہ اجتماع جاری رہا، جس میں باضابطہ رائے دہی کے ذریعے، کلنٹن کو نامزد کیا گیا۔ ذرائع ابلاغ پر براہ راست دکھائی جانے والی اس رول کال کارروائی میں دلچسپی رکھنے والوں کی نگاہیں امریکی سیاسی منظرنامے پر لگی رہیں۔
پیر کی شام گئے کنوینشن کے پہلے روز اپنے خطاب میں، انتخابی مہم کے دوران کئی ماہ تک کلنٹن کے مدِ مقابل رہنے والے ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرز نے اپنے حامیوں سے کہا کہ اُنھیں ووٹ دیا جائے، ’’لیکن، میں ہیلری کے ساتھ ہی کھڑا ہوں‘‘۔ اپنی تقریر میں اُنھوں نے جوش و جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلنٹن کی حمایت کا اعلان کیا، جس سے یہ بات واضح ہوئی کہ پارٹی متحد ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کا ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ سے مقابلہ ہے۔ جائیداد کے نامور ارب پتی کاروباری فرد، ٹرمپ کو گذشتہ ہفتے اُن کی پارٹی نے باضابطہ طور پر امیدوار نامزد کیا۔
پیر کی شام ہیلری کی نامزدگی پختہ ہونے کے بعد، اُن کے شوہر بِل کلنٹن، جو 1990ء کی دہائی میں امریکہ کی قیادت کرتے رہے ہیں، منگل کی شام گئے کنوینشن سے خطاب کریں گے جس میں وہ امریکیوں کو بتائیں گے کہ آٹھ نومبر کے قومی انتخاب میں ہیلری کو ووٹ دینا کیوں ضروری ہے۔
اپنی بیوی کی حمایت کا حصول پیچیدہ معاملہ ہے؛ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کا ترقی پسند حلقہ جو سینڈرز کا حامی ہے وہ بیالیسویں صدر کی کامیابیوں کو نہیں مانتا، جن میں آزاد تجارت کی حمایت اور سنگین جرائم کے سلسلے میں نظام انصاف میں اصلاحات کا معاملہ شامل ہے، جب کہ نوے کے عشرے میں تشکیل پانے والی پالیسیوں کے نتیجے میں متعدد افراد، جن میں خاص طور پر نسلی اقلیتیں شامل ہیں، بڑے عرصے تک قید و بند کاٹتی رہیں۔
ہیلری کلنٹن کو ٹرمپ کے ساتھ کانٹے کے مقابلے کا سامنا ہوگا۔ رائے عامہ کی کئی جائزہ رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ فی الوقت ٹرمپ کو اُن کے مقابلے میں تھوڑی سی سبقت حاصل ہے، جس کا سبب ری پبلیکن کے حالیہ کنوینشن کے دوران چار راتوں کی تقاریر میں کلنٹن کو ہدفِ تنقید بنایا جانا بتایا جاتا ہے۔
اور، اِس ہفتے، ڈیموکریٹس کی باری ہے۔ اُن کے کنوینشن میں، بغیر وقت ضائع کیے، پیر کے روز ٹرمپ کو ہدفِ تنقید بنایا گیا۔ خطاب کرنے والوں نے اُن پر ’’غیر حساس، اور میرا کاروبار سب سے پہلے‘‘ کا انداز اپنانے کا الزام دیا گیا؛ اور امریکی سربراہ کے طور پر اُن کے ’’غیر موزون ہونے‘‘ کے دعوے کیے گئے۔
خاتونِ اول مشیل اوباما نے ٹرمپ کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’میں آج یہاں کھڑی ہوں چونکہ اس انتخاب میں صرف ایک ہی شخص ہے جن پر مجھے اعتماد ہے کہ وہ یہ ذمہ داری نبھا سکتی ہیں؛ میرے خیال میں صرف ایک ہی شخص ہے جو امریکہ کی صدر بننے کی لائق ہیں، اور وہ ہیں میری دوست، ہیلری کلنٹن‘‘۔
نام لیے بغیر، خاتونِ اول نے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے نعرے کے لیے ناپسندیدگی کا اظہار کیا: ’میک امریکہ گریٹ اگین‘۔
اُن کے الفاظ میں: ’’کوئی بھی کبھی یہ نہ کہے کہ ملک عظیم نہیں، یا یہ کہ ہمیں اسے پھر سے عظیم بنانے کی ضرورت ہے۔۔ کیونکہ، اِس وقت کرہٴ ارض پر ہمارا ملک ہی عظیم ترین ہے‘‘۔
سینڈرز نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’لگی لپٹی نہ رکھنے والا کوئی بھی مبصر یہی کہے گا کہ خیالات اور قیادت کے اعتبار سے ہیلری کلنٹن کو ہی امریکہ کا اگلا صدر ہونا چاہیئے۔ اِن کے مقابلے کا کوئی دوسرا امیدوار نہیں‘‘۔
بشکریہ۔ وائس آف امریکہ