14.10.2026, 02:38pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

٭28 جولائی 1994ء کو منور الزماں کراچی میں  وفات پاگئے۔
28.07.2016, 01:50am , جعمرات (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی

منور الزماں کی وفات

٭ پاکستان کے ہاکی کے نامور کھلاڑی منور الزماں  2 جولائی1951ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ 1971ء میں انہوں نے بارسلونا میں منعقد ہونے والے عالمی کپ ہاکی ٹورنامنٹ سے اپنے ہاکی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے 1980ء میں کراچی میں منعقد ہونے والے چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ تک مسلسل  دس برس پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا۔ اس دوران انہوں نے 119 بین الاقوامی میچوں میں مجموعی طور پر 44 گول اسکور کئے۔
منور الزماں نے 24 میچوں میں پاکستان کی قیادت کا فریضہ بھی انجام دیا۔ ان 24 میچوں میں پاکستان نے تمام میچوں میں کامیابی حاصل کی۔ ان میچوں میں پاکستانی ٹیم نے مجموعی طور پر 100 گول اسکور کئے جبکہ اس کے خلاف صرف 21 گول اسکور کئے جاسکے۔
منورالزماں نے عالمی کپ، ایشیائی کھیل اور چیمپئنز ٹرافی میں طلائی تمغے حاصل کئے تھے۔ 1980ء میں اگر پاکستان ماسکو اولمپکس کا بائیکاٹ نہ کرتا تو اس ٹورنامنٹ میں بھی پاکستان کے طلائی تمغہ حاصل کرنے کا امکان سو فیصد تھا اور یوں منورالزماں ان معدودے چند کھلاڑیوں میں شامل ہوسکتے تھے جنہوں نے ہاکی کے ہر بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں طلائی تمغے حاصل کئے ہیں۔
٭28 جولائی 1994ء کو منور الزماں کراچی میں حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے وفات پاگئے۔
------------------------------------------------------------------------------------------

کنور آفتاب احمد کی پیدائش

٭ پاکستان ٹیلی وژن کے معماروں میں سے ایک کنور آفتاب احمد ہیں۔
کنور آفتاب احمد 28 جولائی 1929ء کو مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے لندن اسکول آف فلم ٹیکنیک سے تعلیم حاصل کی اور بطور فلم ساز و ہدایت کار 1958ء کے لگ بھگ اپنی پہلی فلم جھلک تیار کی، تاہم یہ فلم کامیاب نہ ہوسکی۔ 1964ء میں جب پاکستان ٹیلی وژن کا آغاز ہوا تو وہ اس سے وابستہ ہوگئے جہاں انہوں نے اسلم اظہر، آغا ناصر اور فضل کمال کے دوش بدوش ٹیلی وژن ڈرامہ کو اس کے نقطہ عروج پر پہنچا دیا۔
کنور آفتاب احمد کی مشہور ٹیلی وژن سیریلز اور سیریز میں نئی منزلیں نئے راستے، زندگی اے زندگی، منٹو راما اور شہ زوری کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کے انفرادی ڈراموں خواب جاگتے ہیں، نجات، یانصیب کلینک، اکھاڑا، سونے کی چڑیا، روبی کس کی بیٹی ہے، میں پاگل ہوں اور نشان حیدر سیریز کا ڈرامہ کیپٹن سرور شہید خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
کنور آفتاب احمد کو دستاویزی پروگرام سازی پر بھی عبور تھا اور سیالکوٹ کی فٹ بال انڈسٹری پر ان کی بنائی ہوئی دستاویزی فلم Ball Named Tango A نے کئی بین الاقوامی فلمی میلوں میں ایوارڈ حاصل کیے تھے۔ وہ دستاویزی معلومات کو ڈرامے کے لیے استعمال کرنے کا فن بھی جانتے تھے اور پاکستان ٹیلی وژن میں ڈاکیو ڈرامہ کو متعارف کروانے کا سہرا بھی انہی کے سر ہے۔ آزادی کے مجرم نامی سلسلے میں محمد علی جوہر کا ڈرامہ، جس میں منور سعید نے مرکزی کردار ادا کیا تھا، ان کا ایسا ہی یادگار ڈرامہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
٭10 ستمبر 2010ء کو کنور آفتاب احمد لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔
------------------------------------------------------------------------------------------

پھیرے ریلیز ہوئی

٭28جولائی 1949ء کو عیدالفطر کے موقع پر لاہور کے پیلس سینما میں پاکستان کی پہلی پنجابی فلم ’’پھیرے‘‘ ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے فلم ساز نذیر‘ ہدایت کار مجید‘ موسیقار جی اے چشتی ‘ مکالمے اور نغمہ نگار بابا عالم سیاہ پوش اور جی اے چشتی ،عکاس بھائیا حمید اور مصنفہ رانی ممتاز تھیں۔ یہ فلم صرف دو ماہ کے دورانیہ میں مکمل ہوئی اور موسیقار جی اے چشتی نے اس کے تمام نغمے صرف ایک دن میں ریکارڈ کیے جو تمام کے تمام بے حد مقبول ہوئے۔
پھیرے 1945ء میں بننے والی نذیر کی اردو فلم ’’گائوں کی گوری‘‘ کا ری میک تھی۔پھیرے میں اداکار نذیر اور ان کی بیوی سورن لتا نے مرکزی کردار ادا کیے تھے جب کہ دیگر اداکاروں میں ایم اسماعیل‘ زینت‘ مایا دیوی‘ نذر‘ باباعالم سیاہ پوش اور علائو الدین شامل تھے۔ اس فلم نے لاہورمیں سلورجوبلی منائی اور یوں پاکستان کی ڈگمگاتی فلمی صنعت کو سہارا دیا۔ کراچی میں یہ فلم تاج محل سینما میں 7 اپریل 1950ء کو ریلیز ہوئی جہاں اس نے پانچ ہفتے مکمل کیے۔پھیرے کی بے مثال کامیابی کے بعد پاکستان میں پنجابی فلموں کا راستہ ہموار ہوگیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب اردو زبان سے زیادہ پنجابی زبان میں فلمیں بنائی جانے لگیں۔

:دیگر مضامین
(27.07.2016)  نشان حیدر حاصل کرنے والے کیپٹن محمد سرور کا یوم شہادت 27جولائی 1948ء ہے۔
(26.07.2016) چھبیس جولائی 1967ء کومینار پاکستان کی تعمیر مکمل ہوئی
(25.07.2016) ٭25 جولائی 1985ء کو مشہور فلمی ہدایت کار سبطین فضلی دنیا سے رخصت ہوئے
(24.07.2016) ٭24 جولائی 1986ء کو قدرت اللہ شہاب اسلام آباد میں وفات پاگئے
(23.07.2016) ٭23جولائی 1988ء کو ڈاکٹر جہانگیر خان لاہور میں وفات پاگئے۔
(22.07.2016) میجر طفیل محمد 22جولائی 1914ء  کو  مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہوئے
(21.07.2016) ٭21 جولائی 1950ء کو ناروے کے کوہ پیمائوں نے  ترچ میر کو سر کرلیا
(20.07.2016) ٭20جولائی 1994ء کو نامور مصورہ لیلیٰ شہزادہ اسلام آباد میں وفات پاگئیں۔
(19.07.2016) ٭19 جولائی 1894ء  خواجہ ناظم الدین کی تاریخ پیدائش ہے
(18.07.2016) مہدی حسن 18 جولائی  1927کوراجستھان کے ایک گاؤں لُونا میں پیدا ہوئے
(17.07.2016) ٭17 جولائی 1991ء کو جدید ٹی 90 ٹینک کی تقریب رونمائی
(16.07.2016)  سولہ جولائی 1990ءکوبدراوّل خلا میں روانہ ہوا
(15.07.2016) پندرہ جولائی 1961ء کو چنبیلی کو ملک کا قومی نشان قرار دے دیا۔
(14.07.2016) ٭14 جولائی 1983ء کو گائیک استاد نزاکت علی خان راولپنڈی میں وفات پاگئے
(13.07.2016) ٭13 جولائی 1969ء کو پاکستان کے نامور ماہر لسانیات ڈاکٹر شہید اللہ ڈھاکا میں وفات پاگئے
(12.07.2016) ریڈیو پاکستان کے سابق سربراہ اور معروف براڈ کاسٹر آغا ناصر انتقال کرگئے
(12.07.2016) ٭12 جولائی 1975ء کوماہر نشریات زیڈ اے بخاری کراچی میں انتقال کرگئے۔
(11.07.2016) ٭11 جولائی 2001ء کو استاد سلامت علی خان لاہور میں وفات پاگئے
(10.07.2016) ٭10جولائی 2006ء کو جناب احمد ندیم قاسمی لاہور میں وفات پاگئے
(09.07.2016) ٭9 جولائی 1967ء کو مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کراچی میں انتقال کرگئیں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں