منور الزماں کی وفات
٭ پاکستان کے ہاکی کے نامور کھلاڑی منور الزماں 2 جولائی1951ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ 1971ء میں انہوں نے بارسلونا میں

منعقد ہونے والے عالمی کپ ہاکی ٹورنامنٹ سے اپنے ہاکی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے 1980ء میں کراچی میں منعقد ہونے والے چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ تک مسلسل دس برس پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا۔ اس دوران انہوں نے 119 بین الاقوامی میچوں میں مجموعی طور پر 44 گول اسکور کئے۔
منور الزماں نے 24 میچوں میں پاکستان کی قیادت کا فریضہ بھی انجام دیا۔ ان 24 میچوں میں پاکستان نے تمام میچوں میں کامیابی حاصل کی۔ ان میچوں میں پاکستانی ٹیم نے مجموعی طور پر 100 گول اسکور کئے جبکہ اس کے خلاف صرف 21 گول اسکور کئے جاسکے۔
منورالزماں نے عالمی کپ، ایشیائی کھیل اور چیمپئنز ٹرافی میں طلائی تمغے حاصل کئے تھے۔ 1980ء میں اگر پاکستان ماسکو اولمپکس کا بائیکاٹ نہ کرتا تو اس ٹورنامنٹ میں بھی پاکستان کے طلائی تمغہ حاصل کرنے کا امکان سو فیصد تھا اور یوں منورالزماں ان معدودے چند کھلاڑیوں میں شامل ہوسکتے تھے جنہوں نے ہاکی کے ہر بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں طلائی تمغے حاصل کئے ہیں۔
٭28 جولائی 1994ء کو منور الزماں کراچی میں حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے وفات پاگئے۔
------------------------------------------------------------------------------------------
کنور آفتاب احمد کی پیدائش
٭ پاکستان ٹیلی وژن کے معماروں میں سے ایک کنور آفتاب احمد ہیں۔
کنور آفتاب احمد 28 جولائی 1929ء کو مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے لندن اسکول آف فلم ٹیکنیک سے تعلیم حاصل کی اور بطور فلم ساز و ہدایت کار 1958ء کے لگ بھگ اپنی پہلی فلم جھلک تیار کی، تاہم یہ فلم کامیاب نہ ہوسکی۔ 1964ء میں جب پاکستان ٹیلی وژن کا آغاز ہوا تو وہ اس سے وابستہ ہوگئے جہاں انہوں نے اسلم اظہر، آغا ناصر اور فضل کمال کے دوش بدوش ٹیلی وژن ڈرامہ کو اس کے نقطہ عروج پر پہنچا دیا۔
کنور آفتاب احمد کی مشہور ٹیلی وژن سیریلز اور سیریز میں نئی منزلیں نئے راستے، زندگی اے زندگی، منٹو راما اور شہ زوری کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کے انفرادی ڈراموں خواب جاگتے ہیں، نجات، یانصیب کلینک، اکھاڑا، سونے کی چڑیا، روبی کس کی بیٹی ہے، میں پاگل ہوں اور نشان حیدر سیریز کا ڈرامہ کیپٹن سرور شہید خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
کنور آفتاب احمد کو دستاویزی پروگرام سازی پر بھی عبور تھا اور سیالکوٹ کی فٹ بال انڈسٹری پر ان کی بنائی ہوئی دستاویزی فلم Ball Named Tango A نے کئی بین الاقوامی فلمی میلوں میں ایوارڈ حاصل کیے تھے۔ وہ دستاویزی معلومات کو ڈرامے کے لیے استعمال کرنے کا فن بھی جانتے تھے اور پاکستان ٹیلی وژن میں ڈاکیو ڈرامہ کو متعارف کروانے کا سہرا بھی انہی کے سر ہے۔ آزادی کے مجرم نامی سلسلے میں محمد علی جوہر کا ڈرامہ، جس میں منور سعید نے مرکزی کردار ادا کیا تھا، ان کا ایسا ہی یادگار ڈرامہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
٭10 ستمبر 2010ء کو کنور آفتاب احمد لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔
------------------------------------------------------------------------------------------
پھیرے ریلیز ہوئی
٭28جولائی 1949ء کو عیدالفطر کے موقع پر لاہور کے پیلس سینما میں پاکستان کی پہلی پنجابی فلم ’’پھیرے‘‘ ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے فلم ساز نذیر‘ ہدایت کار مجید‘ موسیقار جی اے چشتی ‘ مکالمے اور نغمہ نگار بابا عالم سیاہ پوش اور جی اے چشتی ،عکاس بھائیا حمید اور مصنفہ رانی ممتاز تھیں۔ یہ فلم صرف دو ماہ کے دورانیہ میں مکمل ہوئی اور موسیقار جی اے چشتی نے اس کے تمام نغمے صرف ایک دن میں ریکارڈ کیے جو تمام کے تمام بے حد مقبول ہوئے۔
پھیرے 1945ء میں بننے والی نذیر کی اردو فلم ’’گائوں کی گوری‘‘ کا ری میک تھی۔پھیرے میں اداکار نذیر اور ان کی بیوی سورن لتا نے مرکزی کردار ادا کیے تھے جب کہ دیگر اداکاروں میں ایم اسماعیل‘ زینت‘ مایا دیوی‘ نذر‘ باباعالم سیاہ پوش اور علائو الدین شامل تھے۔ اس فلم نے لاہورمیں سلورجوبلی منائی اور یوں پاکستان کی ڈگمگاتی فلمی صنعت کو سہارا دیا۔ کراچی میں یہ فلم تاج محل سینما میں 7 اپریل 1950ء کو ریلیز ہوئی جہاں اس نے پانچ ہفتے مکمل کیے۔پھیرے کی بے مثال کامیابی کے بعد پاکستان میں پنجابی فلموں کا راستہ ہموار ہوگیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب اردو زبان سے زیادہ پنجابی زبان میں فلمیں بنائی جانے لگیں۔