مصطفیٰ علی ہمدانی کی پیدائش

٭ پاکستان کے نامور براڈ کاسٹر مصطفی علی ہمدانی کی تاریخ پیدائش 29 جولائی1909ء ہے۔
اورتیرہ اور چودہ اگست، رات کو ٹھیک 12 بجے، جس براڈ کاسٹر کی آواز نے برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کی نوید سنائی اور یہ تاریخی اعلان کیا۔
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام و علیکم
تیرہ اور چودہ اگست 1947ء کی درمیانی شب، رات کے 12 بجے ہیں
پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس طلوع صبح آزادی‘‘
اس براڈ کاسٹر کا نام تھا مصطفی علی ہمدانی۔
مصطفی علی ہمدانی کا تعلق لاہور کے ایک معزز گھرانے سے تھا۔ ان کا بچپن اردو کے مایہ ناز انشا پرداز مولانا محمد حسین آزاد کے گھر میں گزرا۔ 1939ء میں وہ لاہور ریڈیو اسٹیشن سے بطور براڈ کاسٹر وابستہ ہوئے اور آواز کا یہ سفر 1969ء میں ان کی ریٹائرمنٹ کے باوجود 1973ء تک کسی نہ کسی طور پر قائم رہا۔
مصطفی علی ہمدانی کو قیام پاکستان کے اعلان کے علاوہ لاہور سے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی وفات کی جانکاہ خبر کے اعلان کا موقع بھی ملا۔ انہوں نے اس درد ناک خبر کی ابتدا اپنے خاص انداز میں اس طرح کی۔ ’’جب احمد مرسل نہ رہے کون رہے گا‘‘۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں لاہور کے عوام میں اور سرحدوں پر آپ کی آواز عزم و حوصلے کے چراغ روشن کرتی رہی۔
مصطفی علی ہمدانی کو اردو کے علاوہ عربی اور فارسی زبانوں کے تلفظ کے سلسلے میں بھی سند تسلیم کیا جاتا تھا ۔وہ ایک اچھے شاعر بھی تھے اور اردو کے علاوہ فارسی میں بھی مشق سخن کرتے تھے۔ مصطفی علی ہمدانی کا انتقال 21 اپریل 1980ء کو ہوا۔
------------------------------------------------------------------------------------------
عظیم حفیظ کی پیدائش
٭29 جولائی 1963ء پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر عظیم حفیظ کی تاریخ پیدائش ہے۔
عظیم حفیظ جہلم کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ عظیم حفیظ بائیں ہاتھ سے بائولنگ کروانے والے فاسٹ بائولر تھے۔ انہوں نے 1983ء سے 1985ء کے دوران 18 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور مجموعی طور پر 63 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے 15 ایک روزہ بین الاقوامی میچ بھی کھیلے اور ان میں 15 وکٹیں بھی حاصل کیں۔
------------------------------------------------------------------------------------------
ڈاکٹر عندلیب شادانی کی وفات
٭29 جولائی 1969ء کو اردو کے نامور شاعر‘ ادیب‘ نقاد‘ محقق اور مترجم ڈاکٹر عندلیب شادانی نے ڈھاکا میں وفات پائی اور ڈھاکا ہی میں آسودۂ خاک ہوئے۔ ڈاکٹر عندلیب شادانی یکم مارچ 1904ء کو رام پور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا مجموعہ کلام ’’نشاط رفتہ اردو‘‘ کے اہم شعری مجموعوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کی دیگر تصانیف میں نقش بدیع‘ تحقیق کی روشنی میں‘ نوش و نیش‘ سچی کہانیاں‘ شرح رباعیات‘ بابا طاہر اور دور حاضر اور اردو غزل گوئی کے نام شامل ہیں۔ ڈاکٹر عندلیب شادانی ڈھاکا یونیورسٹی میں شعبہ اردو اور فارسی کے سربراہ اور آرٹس فیکلٹی کے ڈین کے منصب پر فائز رہے تھے اور اسی سال 30 جون کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ حکومت پاکستان نے ڈاکٹر عندلیب شادانی کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔
جناب عندلیب شادانی کے دو اشعار ملاحظہ ہوں:
جھوٹ ہے سب تاریخ ہمیشہ اپنے کو دہراتی ہے
اچھا میرا خواب جوانی تھوڑا سا دہرائے تو
……
گزاری تھیں خوشی کی چند گھڑیاں
انہی کی یاد میں میری زندگی ہے
--------------------------------