ہمارے یہاں دو قسم کے لوگ ہیں؟ ایک تو وہ ہیں جنہیں بدعت کی فکر پچھلی صدی سے کھائے جارہی ہے، نتیجہ کے طور پر جن کی شدت پسندی پوری ملت کے انتشار کا باعث بنی؟ دو سرے وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ عمل کی ضرورت ہی نہیں ہے بس نبی (ص) سے محبت رکھو؟ باقی رہی بخشش وہ خود حضور (ص) کرالیں گے؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ قرآن میں فرما رہا ہےکہ“ تمہارے لیے تمہارے نبی (ص) کااسوہ حسنہ کافی ہے؟ اور نبی (ص)فرمارہے ہیں کہ “ میرا (ص) ہی راستہ صحیح ہے اور وہی صراط مستقیم ہے اس پر سیدھے چلتے رہو محفوظ اور مامون رہو گے، اس کے دونوں طرف تمہیں دروازے نظر آئیں گے جن پر پردے پڑے ہوئے ہیں ان پردوں کو اٹھاکر بھی مت دیکھنا ورنہ گمراہ ہو جا ؤگے“ جبکہ ہماری حالت یہ ہے کہ ہم نقش ِقدم تو ڈھوندتے ہیں مگر صرف ان کی زیارت کر نے اور چومنے کے لیے ،لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق عمل کر نے کے لیے نہیں؟ جبکہ عمل کے لیے وہی دروازے منتخب کرتے ہیں جوراستے کے دونوں طرف ہیں اور ان پر حضور (ص) کے ارشادات کے مطابق “ پردے پڑے ہوئے ہیں، اور جو صراط مستقیم کے دونوں طرف ہیں “ آج ہم صرف دو حدیثوں پر بات کریں گے جو بہت ہی مشہور ہیں اور جن پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہم قعر مذلت میں پڑے ، سسک رہے ہیں ؟ پہلی تو یہ ہے کہ “ ۔۔۔۔۔۔ جھوٹا مسلمان نہیں ہو سکتا “ دوسری حدیث یہ ہے کہ جو اپنے لیے چاہو وہی اپنے بھائی کے لیے بھی چاہو“
ان میں سے آئیے اب جائزہ لیتے ہیں کہ ہم ان پر کتنے عامل ہیں ۔ ہم نے چند دن پہلے دیکھا اور پڑھا کہ ایک صاحب جو مسلمان ہیں ؟ جب عدالت میں تھے اور ضمانت رد ہو جانے کی وجہ سے جیل بھیجے جارہے تھے تو اپنی صاحبزادی کو دیکھ کر روہانسو ہو گئے، یہ قدرتی امر ہے کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے؟ مگر ہمارے لیے اچنبے کی بات یہ تھی کہ ہم نے اسوقت انہیں روہانسو ہوتے ہوئے نہیں دیکھا جب وہ لوگوں کو نہتے شہریوں پر گولیا ں بر سانے کا حکم دے رہے تھے؟ انہیں اس وقت قوم کی کسی بیٹی پر ترس نہیں آیا؟ جبکہ اس حکم کے نتیجے میں کتنی ہی بیٹیاں یتیم ہو ئیں، صرف اسلیے کہ انہیں اوپر سے حکم تھاکہ“ تمہیں یہ جلوس ناکام بنا نا ہے “ چاہیں جتنے بھی آدمی مارے جائیں؟ جو کہ انصاف کے قتل پر احتجاج کرنے کے لیے دوسرے دن نکلنے والا تھا؟ جبکہ سب سے زیادہ عدل کا حکم اسلام دیتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ بھلائی کے کاموں میں مدد کرو اور برائی کے کاموں میں نہیں؟ ایسا کیوں ہوایہ صرف اس وجہ سے کہ وہ شخص خود کو مہاجر کہتا تھا؟ جبکہ ان کا لیڈر اور یہ خود مہاجروں کے نما ئندے کہلاتے تھے۔ حالانکہ اسلام کے معیار پر تینوں ہی نہیں اتر تے تھے۔ ایک تو حضور (ص) کے بجائے کمال اتاترک کاپیرو تھا، جس کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسے بھی جانے دیجئے اس کے عمل کو دیکھئے وہ گھڑوں کے حساب سے شراب پینے اور اپنے دور میں اپنے وزراء کوکھلی چھوٹ دینے والا شخص تھا، جو جلسے گاہوں میں شراب کی بوتیں ایک دوسرے سے ٹکرا کرنعرے لگا رہے تھے کہ یہ ہے ماڈرن اسلام؟ اللہ اپنے دین کا محافظ ہے اس نے اپنا دین اس کے ہاتھ سے محفوظ رکھا اور اسے ناکام اور نامراد دیش نکالا عطا فرمایا ۔ یہ سب کیوں ہوا اور اس نے کیسے کیا؟ اس کی وجہ سورہ زخرف کی آیت نمبر 36دیکھئے جواب مل جا ئے گا، جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ “ جو کوئی گمرا ہ ہونا چاہے اس پر وہ شیطان مسلط کردیتا ہے اور وہ جب تک اس کے ساتھ دوست بن کر اس کے ساتھ رہتا ہے جب تک کے اسے جہنم میں ابدی طور پر نہ ڈالدیا جائے؟
پھر سورہ جاثیہ کی آیات ملا حظہ فرمائیں ۔ جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ “ ظالموں کے دوست ظالم ہوتے ہیں، مومنوں کا دوست اللہ ہے وہ صرف اسی پر یقین کرتے ہیں “ جبکہ ہم ہمیشہ ظالموں کے ساتھی رہتے ہیں، طالموں کا ساتھ دیتے ہیں؟ کیا ہم ان آیات کے دائرے میں نہیں آتے؟ جواب قارئین پر چھوڑتا ہوں؟ یہ وہ ہیں جن کے سامنے ترجیحات وہ نہیں ہیں جو اللہ اور اس کے رسول (ص) چاہتے ہیں۔ پھر بھی ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم ان (ص) کے ہیں ؟ جبکہ رسول (ص) لا تعلقی فرمارہے ہیں یہ فرماکرکے کہ “ جھوٹا ہم میں سے نہیں ، خائن ہم میں سے نہیں ، کم تولنے والا ہم میں سے نہیں، ۔۔۔ الخ۔ جبکہ اللہ سحانہ تعالیٰ ایک آیت میں فرمارہا ہے کہ “ حضور(ص) کچھ امتیوں کو جہنم میں جاتے ہوئے دیکھ کر فرما ئیں گے یہ میرے امتی ہیں؟ انہیں کہاں لے جارہے تو جواب ملے گا کہ یہ آپ (ص) کے امتی نہیں ہیں، آپ کے بعد انہوں نے جو کیا آپ اس سے نا واقف ہیں“ ایک اور آیت میں حضور (ص) کا اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خودسے شکایت کرنا بھی بیان فرما یا ہے۔ کہ “ میری امت نے قر آن چھوڑ دیا ہے“ قر آن کیا ہے؟ یوں سمجھ لیجئے کہ اسے کئی جگہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے نور سے تشبیہ دی ہے۔ اور مومن کی تعریف یہ فرمائی ہے کہ وہ ہر جگہ اس کے نور سے راہنمائی حاصل کرتا ہوا جنت مں پہونچے گا۔حتٰی کہ پل صراط پر سے وہی گزر سکیں گے جن کے آگے آگے نور چل رہا ہوگا؟ دوسرے کچھ دور ساتھ چل کر جب روشنی ان کی بجھ جا ئیگی توا پنے ہم سفروں سے کہیں گے کہ تم ہمیں اپنی تھوڑی سے روشنی دیدو تاکہ ہم بھی تمہارے ساتھ چل سکیں؟ وہ کہیں گے کہ ہماری روشنی تمہارے کام نہیں آسکتی؟ تم واپس جا ؤ اور روشنی یہاں سے نہیں ملتی، اپنے لیے وہیں سے لیکر آؤ؟ میرا اس تفصیل میں جانے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو جو یہاں کی زندگی میں اتنے مگن ہیں اور سب کچھ بھولے ہوئے ہیں۔ اس قول کو بھی یادرکھنا چاہیے جو کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ماننے والوں میں بھی بہت مشہور ہے کہ “ ایمان کے بغیر عمل کوئی چیز نہیں ہے اور عمل کے بغیر ایمان کوئی چیز نہیں ہے “ اور یہ ہی اس بحث کاما حاصل بھی ہے؟
شاید ان کو اللہ تعالیٰ معاف کردے جو غیر ملکوں میں ہیں۔ اس لیے کہ وہ مجبور تھے اور انہیں وہاں کے احکمات کی پابندی کا حکم بھی تھا؟ مگر جو لوگ مسلمان ملکوں میں رہ رہے ہیں ،یابغا وت کرکے خود مختار ٹکڑیاں قائم کرلی ہیں اور وہاں یہ سب کچھ کر رہے ہیں؟ وہ اب بھی سدھر جا ئیں تاکہ وہاں کسی سے روشنی انہیں نہ مامگنا پڑے ، اعمالِ صالح مانگنا پڑیں؟ کیونکہ یہ چیزیں انہیں وہاں کوئی نہیں دے گا کس سے نہیں ملیں گی؟ اس لیے کہ سب اس دن تنگی کا شکار ہونگے ؟ اورجو کچھ زادِ راہ لےکر گئے ہونگے وہ بھی اس کی رحمت کے امیدوار ہونگے ، جو خالی ہاتھ نا فرمانیوں کے ساتھ گئے ہوں گے ان کی طرح پر امید نہیں ہونگے، کیونکہ کوئی ممتحن سادے پرچے پر کبھی پاس نہیں کرتا؟ رعایتی نمبراسی حد تک ملتے ہیں جہاں کچھ نمبروں کی کمی ہو؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ بار، بار فرماچکا ہے کہ “ تم کیا سمجھتے ہو کہ تم ان کے برابر ہوسکتے ہو ، جو میرے متقی بندے ہیں ؟ یہ ناممکن ہے“ لوگوں کی اس غفلت پر وہ لوگ پریشان ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی عمریں قرآن سمجھنے اور سمجھانے میں صرف کردیں؟ا یک صاحب جو تقریبا ً پچیس سال سے میرے ساتھی ہیں ہمیشہ آخر میں ان کا مجھ سے یہ ہی سوال ہو تا ہے؟ کہ یہ جو لوں کو قتل کر رہیں ، لوگوں کےمال غصب کر رہے کیا انہیں ان احکامات کا علم نہیں ہے؟ ان کے لیے میں سورہ جاثیہ کی آیت کا مفہوم سنا دیتا ہوں؟ کہ ہاں یہ جانتے انہوں نے پڑھا ہے۔
لیکن یہ اس پر یقین رکھتے ہیں ؟اگر رکھتے ہوتے تو تو کبھی ایسا نہیں کرتے ؟ کیونکہ انہیں اللہ کا ان پر نگراں، حاضر ناظر، سمیع اور بصیر ہونے پر یقین ہوتا؟ تو ان کے ہاتھ ان کے پاؤں تمام برائیوں سے رک جاتے؟