لاہورمیں مال روڈ پر ہوٹل میں ہلاک ہونیوالی لڑکی رابعہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کرکے لاش ورثا کے حوالے کردی گئی ہے ۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق رابعہ کی موت سر میں لگنے والی گولی سے ہوئی ۔
باٹا پور لاہور کی رہائشی 22 سالہ رابعہ نصیر گزشتہ روز رکشے میں ہوٹل پہنچی اور وہ مین گیٹ کی بجائے عقبی حصے سے ہوٹل میں داخل ہوئی تھی ۔
پولیس کے مطابق وہ لابی سے سیدھی واش روم میں گئی جہاں سے فائر کی آواز آئی اور ہوٹل انتظامیہ نے واش روم کا دروازہ توڑ کر رابعہ کو باہر نکال کر اسپتال پہنچایا تھا مگراسپتال پہنچنے سے قبل اس کی موت واقع ہوچکی تھی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق رابعہ کی موت سر میں لگنے والی گولی سے ہوئی۔ پولیس نے رابعہ کے معدے کے نمونے فورنزک لیب بھجوادئیے ہیں جبکہ پولیس نے رابعہ کے موبائل کا ڈیٹا حاصل کرنے کےلیے موبائل فون کمپنی کو درخواست بھجوادی ہے تاکہ یہ پتا چل سکے کہ وہ کس سے ملنے اور کیوں ہوٹل آئی تھی۔
رابعہ کی موت نے ہوٹل کی سیکورٹی پر بھی کئی سوالیہ نشان کھڑے کردئیے ہیں ۔
پولیس نے لڑکی کے بھائی کی درخواست پر مقدمہ تو درج کرلیا ہے لیکن پولیس کی اب تک کی تحقیقات میں خود کشی کو عنصر غالب ہے ۔