سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا نے ہندوستان کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) میں شامل کرنے کے لیے ایک بار پھر اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔
این ایس جی گروپ کا آئندہ اجلاس اکتوبر میں ہونے جا رہا ہے جس میں 48 رکن ممالک کے اسپیشل سیشن میں نئے ملک کو جوہری کلب کی رکنیت دینے کا معاملہ زیر بحث آنے کی توقع ہے۔
خیال رہے کہ جون میں ہونے والے سیئول این ایس جی اجلاس میں امریکا سمیت مغربی ممالک کی بھرپور حمایت کے باوجود ہندوستان کی جوہری کلب میں شمولیت کے معاملے پر متفقہ فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔
امریکا، ہندوستان کی این ایس جی گروپ میں شمولیت کا سب سے بڑا حامی ہے اور ہندوستان کو جوہری کلب کی رکنیت دلانے میں پرعزم ہے۔
امریکا میں صدارتی الیکشن نومبر میں ہورہا ہے اور اوباما انتظامیہ انتخابات سے قبل ہندوستان سے کیا گیا وعدہ پورا کرنا چاہتی ہے۔
اس حوالے سے پاکستان کے سینیئر عہدیدار ظاہر کاظمی نے اسٹریٹجک ویژن انسٹیوٹ (ایس وی آئی) کے تحت ہونے والے سیمینار 'امریکا-ہندوستان جوہری معاہدہ، این ایس جی کی سیاست اور پاکستان پر اس کے اثرات' کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'ہندوستان کو این ایس جی کی رکنیت اتنی جلدی نہیں مل سکتی، پڑوسی ملک کو جوہری کلب میں شمولیت کے لیے 6 ماہ یا ایک سال مزید محنت کرنی ہوگی'۔
ظاہر کاظمی پرامید ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کو ایک ساتھ این ایس جی گروپ کی رکنیت دی جائے گی۔
دوسری جانب چین جوہری عدم پھیلاؤ یعنی این پی ٹی معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک کو این ایس جی کی رکینت دینے کے حق میں ہے اور این پی ٹی معاہدے پر دستخط نہ کرنے والے ملک ہندوستان کا سخت مخالف ہے۔
چین کا موقف تھا کہ ہندوستان نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط نہیں کیے، اس لیے اسے این ایس جی کی رکنیت نہیں مل سکتی، کیونکہ رکنیت کے لیے یہ ایک بنیادی شرط ہے۔