آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی 49 نشستوں کے انتخاب کیلئے 8 مخصوص نشستوں پر پولنگ کا آخری مرحلہ بھی مکمل ہو گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق خواتین کی 5 مخصوص نشستوں کے انتخاب میں مسلم لیگ نواز 03 جبکہ جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے حصے میں ایک ایک نشست آئی۔
مسلم کانفرنس اور پی ٹی آئی کی اتحادی امیدوار کو 5 جبکہ جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کی امیدوار کے حصے میں صرف ایک ووٹ آیا۔ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی، علماء و مشائخ کی سیٹ پر پیر علی رضا بخاری اور اوور سیز کی سیٹ پر راجہ جاوید پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔
دوسری طرف مخصوص نشستوں کے انتخابی نتائج پر سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر اور صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے اپنی اتحادی جماعت پی ٹی آئی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوارن ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا درپردہ گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آ گیا ہے، پاکستان کی طرح آزاد کشمیر میں بھی میثاق جمہوریت، یعنی مک مکا کی سیاست کی ابتداء کر دی گئی ہے، جو ایک غیرجمہوری عمل ہے اور ایوان کے تقدس کو پامال کرنے کے مترادف ہے