گزشتہ قسط میں ہم فتح مکہ کے با رے میں با ت کر رہے تھے اور یہا ں تک پہنچے تھے کہ اللہ سبحانہ تعا لیٰ نے اپنے نبی (ص) کی نصرت کچھ اس طر ح فر ما ئی کہ بغیر کسی بڑے کشت اور خون کے مکہ فتح ہو گیا ۔اللہ سبحا نہ تعا لیٰ نے اپنے حبیب (ص) سے فتح مبین کا جو وعدہ فر ما یا تھا وہ پو را فر ما دیا ۔اب جو نبی (ص) کا اصل کا م تھا وہ شروع ہوا کہ آپ نے سب سے پہلے کعبہ کا طواف کیا۔یہا ں بعض مو رخین نے جن میں ابن ِ ہشا م (رح) بھی شا مل ہیں مستند روایا ت کے سا تھ یہ لکھا ہے کہ حضور (ص) سوار ہو ئے اور طواف کرتے ہو ئے کعبہ کے چا روں طرف جو سیسے کے بت استا دہ تھے ،ان کو گرا نا شروع کیا جب کو ئی بت سا منے آتا تو آپ فرماتے”جاءالحق و زھق البا طل ان البا طل کان زھوقا“۔(یعنی حق آگیا اور با طل چلا گیا،بے شک باطل جانے والااور زائل ہو نے والا ہی تھا) اس کے بعد جس بت کے سر کی طرف اپنی قمچی سے اشا رہ فر ما تے وہ گدی کی طرف جھک کر گر جا تا اور جس کی گدی کی طر ف اشا را فر ما تے وہ سر کے بل جھک کر گر جا تا ۔جو کل تک لوگ انہیں پو جتے تھے وہ ان بتوں کو حضور (ص) کے حکم کی تعمیل میں گر تے ہو ئے دیکھ رہے تھے۔ اس طر ح ایک جم ِ غفیر جمع ہو گیا۔ اس کے بعد حضو ر (ص) نے لو گو ں سے فر ما یا تم میرے با رے میں کیا سوچتے ہو میں اب تمہا رے سا تھ کیا کر نے والا ہو ں ؟لو گو ں نے یک زبا ن ہو کر کہا کہ ہم آپ سے بھلا ئی کی امید رکھتے ہیں کیو نکہ آپ اچھے با پ کے بیٹے اور اچھے بھا ئی ہیں ۔اس پر حضو ر (ص) نے فر ما یا کہ ”جا ؤ اب تم آزاد ہو “۔ پھر خانہ کعبہ کے اندر داخل ہو نے سے پہلے یہ خطبہ ارشا د فر ما یا جس کا ہم با محا ورہ اردو ترجمہ پیش کر رہے ہیں۔ ”اللہ کے سوا کو ئی معبود نہیں ہے اور نہ کو ئی اس کا شریک ہے۔ اس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھا یااور اپنے بندے (ص) کو اپنی نصرت سے نوازااورصرف اسی نے ہی تمام باطل گرو ہوں کو شکست دی۔سن لو ! آج کے بعدہر مو رثی بر تری ،تمام خون اور مال (ما ضی کے ) جن کا دعوی ٰ کیا جا ئے، میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہیں( میں انہیں ساقط کر تا ہوں) ۔ سوائے خدمت ِ کعبہ اور حجا ج کو پا نی پلا نے کے حق کے ۔ (متنبہ ہو)جو خطا سے قتل ہوا وہ (بھی )کو ڑے اور لا ٹھی سے قتل ہوا، عمد اً قتل کیئے جانے والے کے مما ثل ہے۔ پس اس پر دیت مغلظہ ہے ۔جو کہ سو اونٹ ،جن میں سے چا لیس ایسے ہو نگے جو حا ملہ ہو نگے ۔اے گروہ قریش ! اللہ نے تم سے جہا لیت کی نخوت اورآباؤ اجداد پر تفا خر صلب کر لیاہے،سب انسان آدم سے (پیدا ہو ئے )اور آدم مٹی سے“ ۔ اس کے بعدآیت نمبر 49: 13 تلا وت فر ما ئی۔جس کا ترجمعہ درج ذیل ہے ”اے لو گو ! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا۔اور گروہ یا قبا ئل میں اس لئے تقسیم کیا کہ تمہا ری شنا خت ( آسان )ہو۔لیکن اللہ تعا لیٰ کے نزدیک ( تم میں سے ) سب سے بہتر وہ ہے جو متقی ہو۔بے شک اللہ تعا لیٰ علیم اور خبیر ہے “۔ دوسرے مورخین نے بھی تقریبا ً یہ ہی وقعات بیان کیئے ہیں ۔مگر ابن ِ اسحا ق (رح) نے تحریر کیا ہے کہ وہ بت کعبہ کے اندر تھے جو حضو ر (ص) نے تو ڑے تھے اور اس کو امام احمد (رح) نے بھی بیا ن فر ما یا ہے ۔اصل میں بت دو نوں ہی جگہ پرتھے اور مختلف لو گوں نے مختلف جگہ پر روایا ت بیان کی ہیں اور ان میں یکجا ئی اور تسلسل نہ ہو نے کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ۔ورنہ واقعا ت دو نوں ہی وقوع پزیر ہو ئے ہیں۔جن کی تفصیل ہم آگے پیش کر رہے ہیں۔ ابن ِ اسحاق (رح) نے تحریر کیا ہے کہ ان سے محمد بن جعفر بن زبیر (رض) نے کئی دیگر حوالوںکے ساتھ بیا ن کیا ہے کہ پہلے حضور (ص) نے حجر ِ اسود سے طواف شروع کر کے سا ت مرتبہ طواف فر مایا ۔پھر کعبہ کے کلید بردار عثما ن بن طلحہ کو طلب فر ما یا اور ان سے کعبہ کی چا بی لیکر دروازہ کھلوا یا۔ جب آپ بیت اللہ میں داخل ہو ئے تو سامنے سب سے پہلے جو چیز نظر آئی وہ کبو تر کی شکل کے لکڑی کے بنے ہو ئے دو بت تھے ۔لہذا حضور (ص) نے خو د اپنے دست ِ مبا رک سے ان کوتو ڑکر پھینک د یا۔ پھر آگے بڑھے تو دیکھا کہ کعبہ کی دیواروں پر تصویر یں بنی ہو ئی ہیں جس میں حضرت ابرا ہیم (ع)کو ازلام والے تیر تقسیم کر تے ہو ئے دکھا یا گیا ہے اس پر حضور (ص) نے فر ما یا اللہ ان کو غا رت کرے، انہو ں نے ہما رے بزر گوں کو بھی نہیں بخشا اور ان کو یہ فال کے تیر تقسیم کر تے ہو ئے دکھا یا ہے ۔جبکہ اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے کہ ”ماکان ابراہیم یہودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفاً مسلماً وما کان من المشرکین ہ“۔ترجمہ با محاورہ اور تشر یح ۔ ”ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی (کیو نکہ یہ مذا ہب ان کے بعد کی پیداوار ہیں ) بلکہ وہ مسلمان تھے اور دین حنیف پر قائم نیز وہ مشرکوں میں سے نہ تھے “۔ اس کے بعد حضور (ص)نے تمام بتوں کو تو ڑنے کا حکم دیا جو کہ آنا ً فا ً تو ڑ دیئے گئے اور دیوار یں بھی تصا ویر سے پاک کر دی گئیں ۔ امام احمد (رح) فرما تے ہیں کہ تصا ویر مٹا نے کا کا م حضرت عمر (رض) نے سر انجا م دیا تھا ۔ اس کے بعد حضور (ص) نے بعض مورخین کے مطا بق اندر دو سجدے اور بعض کے مطا بق دو نفل ادا فر ما ئے ۔وہ جگہ بعض روایا ت کے مطا بق ابن ِ عمر (رض) کو معلو م تھی اور وہ وہیں نوا فل ادا کیا کر تے تھے ۔ حضور (ص) جب بیت اللہ میں تشریف فر ما ہو ئے تو حضرت علی پا س آکر کھڑے ہو ئے اور عرض کیا کہ یا رسول (ص)اللہ ہما رے لیئے کو ئی حجاب کی جگہ کا بندو بست فر ما ئیے۔اور اسکے سا تھ ہی سقایہ کا حکم بھی صا در فر ما ئیے۔حضور (ص) نے فر ما یہ عثما ن بن طلحہ کہا ں ہیں؟ جب وہ حا ضر ہو ئے تو ان سے فر ما یا کہ ”کعبہ کی کلید برداری کا کچھ کرشمہ دکھا ؤ آج نیکی اور وفا کا دن ہے “ اور علی (رض) سے فر ما یا کہ ”پا نی کا انتظا م تم کرو “لیکن اسی واقعہ کو ابن ِ ہشا م (رح) نے با لکل مختلف طریقے سے روایت کیا ہے ۔اس میں انہو ں نے تحریر کیا ہے کہ جب حضو ر (ص) بیت اللہ میں تشریف فر ما ہو ئے تو “ علی (رض) نے در خو ست کی کہ کعبہ کی کلید برداری اور سقایہ مجھے عطا فر ما ئیں “جس پر انہوں نے کعبہ کی چا بی عثما ن بن طلحہ کو اور سقا یہ علی (رض) کو عطا فر ما یا ۔اس میں کئی قبا حتیں ہیں ۔پہلے تو حضو ر (ص)کا وہ خطبہ جو کہ ہم اوپر پیش کر چکے ہیں ۔اس میں قطعی وا ضح ہے کہ حضو ر (ص) نے ان دو نو ں خدمات کو اسی طر ح جا ر ی ر کھا یعنی یہ شرف اپنی جگہ رہا ۔جس کے پا س سقا یہ تھا سقا یہ رہا اور جس کے پا س کلید ِ کعبہ تھی اس کے پا س کلید رہی۔ اس کے مزید ثبو ت ہر مر حلے پر بھی حضو ر (ص) نے اپنے عمل سے بھی ثابت فر ما ئے کہ بطو ر کلید بر دار کعبہ ہر مر حلہ پر عثمان بن طلحہ کو یا د فر ما یا ۔اس کے علاوہ بھی تا ریخ میں کہیں یہ ثبو ت نہیں ملتا کہ اس کے بعد سقا یہ حضرت علی (رض)یا ان کی اولا د کے پا س رہا ہو ۔لہذا وہ اس قسم کا وقتی انتظا م ہو گا جو اب بھی کچھ عرصے پہلے تک حج کے موقعہ پر را ئج تھا کہ حجا ج کے لئے ٹا ٹ کے پردے لٹکا کر عا رضی بیت الخلا ءبنا دیئے جاتے تھے۔ خصو صا ً مد لفہ کے قیام کے دوران راقم الحروف نے بھی یہ انتظام دیکھا تھا ۔ اب معلو م نہیں کیا شکل ہے ۔ یہ ہی اہتما م یہا ں لشکر ِ اسلام کے لیئے کیا گیا ہو گا ۔جس کی حضرت علی (رض) نے در خواست پیش کی تھی ۔کیو نکہ اتنے بڑے لشکر کا یہ انتظا م اولیت کا حا مل تھا۔اور جو با وضو نہ تھے،وہ طواف کے لیئے بیچین تھے ۔ اس انتظا م کے بعد ان کے دل کی مراد بر آئی اور صحابہ کرام (رض) جن کو وضو کی ضرورت تھی وہ رفع حا جت وغیرہ سے فا رغ ہو کر طواف کے لیے وضو کر نے لگے ۔تومشرکین مکہ انہیں بڑی حیرت سے دیکھنے لگے اور بو لے کہ ایسی عجیب و غریب بات ہم نے نہ پہلے دیکھی نہ سنی ۔اس کے بعد صحا بہ کرام (رض) نے طواف کیا ،حضور (ص) کے اتبا ع میں اسی طرح نوافل پڑھے اور زم زم پر جا کر پا نی پیا۔اسی دوران ظہر کا وقت ہو گیا اور حضو ر (ص) نے حضرت بلا ل (رض) کو اذان کا حکم دیا۔وہاں سے کا فی فا صلے پر عتا ب بن اسیداور حارث ابن ِ ہشا م آپس میں سرگو شیاں کرنے لگے ،جبکہ ابوسفیا ن بن حرب بھی ان کے قریب بیٹھاتھا ۔عتا ب نے کہا اللہ تعا لیٰ نے میرے والد کو اس سے پہلے اٹھا لیا کہ وہ یہ دن دیکھتے ورنہ وہ برداشت نہ کر پا تے ۔اس پر ابن ِ ہشام نے کہا کہ اگر مجھے معلو م ہو تا کہ وہ اس آواز کو مٹا نے کے لیے کا م کر ر ہے ہیں تو میں انکا سا تھ دیتا۔ابو سفیان (رض) کہنے لگا کہ میں کچھ نہیں کہتا اس لئے کہ میں اگر کچھ بھی کہو نگا تو یہ کنکریا ں بھی اسے سن کر محمد (ص) تک پہنچا دےں گی ۔جب حضرت بلا ل (رض) اذان سے فا رغ ہوئے تو حضور (ص) ان کے پا س تشریف لا ئے اور پو چھاکہ کیا تم یہ با تیں نہیں کر رہے تھے؟ اور پوری گفتگو لفظ با لفظ ان کے سامنے دہرا دی۔ اس پر وہ دو نوں ا یک سا تھ کہہ اٹھے کہ آپ بیشک اللہ کے سچے رسول (ص) ہیں کیو نکہ یہا ں ہما رے سوا کو ئی اور نہ تھا جو آپ کو خبر پہنچا تا اور دو نوں کلمہ پڑھ کر مسلما ن ہو گئے ۔ (باقی آئندہ)