15.10.2026, 07:33pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔
امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
 
عالمی خبریں
 

خضر خان. بولے اور لکھے گئے الفاظ امانت کا درجہ رکھتے ہیں
02.08.2016, 12:15am , منگل (GMT+1)

الفاظ کی حرمت، اس کے چناؤ اور استعمال پر زور دیتے ہوئے، خضر خان نے کہا ہے کہ بولے اور لکھے گئے الفاظ امانت کا درجہ رکھتے ہیں، جنھیں سوچ سمجھ کر ادا کیا جانا چاہئے، کیونکہ اِن کا سوچ اور مستقبل کے دھارے پر بے حد اثر پڑتا ہے۔

اُنھوں نے یہ بات پیر کی صبح ’وائس آف امریکہ‘ کی اردو سروس کے دورے میں مختصر کلمات ادا کرتے ہوئے کہی۔

اسِ موقعے پر عراق میں ملک کے لیے جان کا نذرانہ دینے والے امریکی فوجی، ہمایوں خان کی والدہ، بیگم غزالہ خان بھی موجود تھیں۔

ساتھ ہی، خضر خان کا کہنا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دینِ اسلام کی روشن خیالی کے پہلو کے درس کو ہمیشہ ذہن میں تازہ رکھا جائے۔

خضر خان نے ’وائس آف امریکہ‘ کی اردو سروس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ صحافت کے میدان میں ادارے کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

خضر خان نے ہارورڈ لا کالج سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی، جب کہ بیگم غزالہ خان فیصل آباد میں تعلیم و تدریس سے وابستہ رہ چکی ہیں۔

اس سے قبل، ’اردو سروس‘ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں، خضر خان نے بتایا کہ ’’تنقید امریکی جمہوری عمل کا حسن ہے۔۔۔ جس میں تنقید کی جاتی ہے، اسے سنا جاتا ہے، برداشت کیا جاتا ہے، جو طریقہٴ کار اچھا اور بہت ہی صحت مند ہے‘‘۔

’گولڈ اسٹار مدرز‘ کے مقام کے بارے میں سوال پر، اُنھوں نے کہا کہ امریکہ میں گولڈ اسٹار مدرز کا بہت بڑا مقام ہوتا ہے، اور یہ کہ شہیدوں کی ماؤں نے غزالہ خان کے بارے میں بیان پر ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار، ڈونالڈ ٹرمپ کے انداز کو درست قرار نہیں دیا۔

اپنے بیٹے کی یادوں کے بارے میں ایک سوال پر، کیپٹن ہمایوں خان کی والدہ، غزالہ خان نے بتایا کہ ’مدرز ڈے‘ کے موقعے پر اُنھوں نے عراق سے ٹیلی فون کیا تھا جس مین اُنھوں نے اُن کے محفوظ رہنے کی تاکید کی تھی۔

بقول غزالہ خان، ’’اِس پر اُنھوں نے کہا تھا کہ ماں میرے سر پر ذمہ داری ہے جو مجھے پوری کرنی ہے۔ مجھے میرے سپاہیوں، میرے لوگوں کی ذمہ داری ہے، جو مجھے پوری کرنی ہے تاکہ وہ محفوظ رہیں۔ اُور بیٹے نے وہی کیا‘‘۔

والد نے بتایا کہ جب ہمایوں کی عراق تعیناتی ہو رہی تھی تو اُنھوں نے بیٹے سے دریافت کیا تھا کہ ’’سوچ میں کوئی اخلاقی الجھن تو حائل نہیں‘‘، جس پر، بقول والد، ’’اُنھوں نے بتایا تھا کہ ہرگز نہیں‘‘؛ اور یہ کہ ’’میں لوگوں کی حفاظت کروں گا، کسی کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا‘‘۔

عراق جنگ کے بارے میں ایک سوال پر خضر خان نے کہا کہ ’’اس قوم کی قیادت مان چکی ہے کہ یہ ایک غلط فیصلہ تھا‘‘۔

پاکستان میں ڈرون حملوں کے بارے میں سوال پر، اُنھوں نے کہا کہ ’’اِس پالیسی کا از سر نو جائزہ لیا جانا چاہیئے‘‘؛ چونکہ، بقول اُن کے، ’’اس سے وہ مقاصد حاصل نہیں ہوئے۔ ڈرون کے استعمال کا مقصد انتہا پسندی کا خاتمہ ہے، جب کہ یہ انتہا پسندی کو ہوا دیتی ہے‘‘۔ ادھر، اِس ضمن میں، امریکہ کی واضح پالیسی یہ ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے اور شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کا قلع قمع کرنے کے لیے دنیا میں کہیں بھی اور کسی وقت بھی درکار فضائی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اس تنقید پر کہ فلاڈیلفیا میں منعقدہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قومی کنوینشن میں اپنے شوہر کی تقریر کے دوران وہ اُن کے ہمراہ کھڑی تھیں؛ لیکن اُنھوں نے کوئی بات نہیں کی، غزالہ خان نے کہا کہ دراصل اس کی اور کوئی وجہ نہیں، ماسوائے اس کے کہ وہ اپنے بیٹےکے بارے میں زیادہ دیر بات نہیں کر پاتیں۔ اس ضمن میں، خضر خان نے کہا کہ اسٹیج پر وہ ایک امریکی مسلمان کی حیثیت سے کھڑے تھے۔

خضر خان نے بتایا کہ ری پبلیکن پارٹی کے رہنماؤں نے اُن سے رابطہ کیا ہے

:دیگر مضامین
(01.08.2016) کابل میں ایک ہوٹل پر خودکش حملے کے دوران ایک پولیس افسر ہلاک
(01.08.2016) جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو نے پہلی خاتون گورنر کا انتخاب کر لیا
(31.07.2016) افغان طالبان کے وفد کے دورہ چین کا انکشاف ہوا ہے
(31.07.2016) امریکا میں گرم ہوا کے غبارے کو حادثہ، 16 افراد ہلاک
(30.07.2016) ہندوستان کی این ایس جی رکنیت کیلئےامریکاپھر سرگرم ہو گیا
(30.07.2016) امریکی مسلمان فوجی کے والد کی ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید
(29.07.2016) انڈونیشیا میں 4 افراد کو سزائے موت ، درجنوں افراد کا احتجاج
(29.07.2016) ننگرہار: داعش کے ساتھ جھڑپ میں پانچ امریکی فوجی زخمی
(28.07.2016) پاکستان کو نظرانداز کرنا خطرناک ہوگا، امریکی سینیٹر
(28.07.2016) فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے مختلف مذاہب کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے مذہبی رواداری کا بھرپور پیغام دیا ہے۔ 
(28.07.2016) کویت، شیعہ رکن پارلیمان کو چودہ برس کی سزائے قید
(27.07.2016) اروم شرمیلا کا اپنی 16 سالہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان
(27.07.2016) صدارتی الیکشن میں ہلیری سے بہترکوئی امیدوار نہیں، مشیل اوباما
(26.07.2016) جاپان میں معذوروں کے ایک مرکز میں کم از کم اُنیس افراد ہلاک
(26.07.2016) امریکہ میں پولیس کا سیاہ فام خاتون پر بہیمانہ تشدد، ویڈیو منظرعام پر
(25.07.2016) جرمنی میں ایک بم پھٹنے سے کم ازکم 12 افراد زخمی ہو گئے جب کہ یہ بم لے جانے والا شامی پناہ گزین مارا گیا۔
(25.07.2016) سعودی وفد کا دورہ اسرائیل، حکومتی نمائندوں سے ملاقاتیں
(25.07.2016) جنوب مغربی جرمنی میں ایک ’شامی مہاجر‘ نے چاقو سے ایک خاتون کو ہلاک کر دیا
(24.07.2016) مقبوضہ کشمیر میں شٹر ڈاؤن ، احتجاج مزید شدت اختیار کرگیا
(24.07.2016) کابل خود کُش حملہ: 80 سے زائد افراد ہلاک، داعش ذمہ دار



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں