15.10.2026, 09:22pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔
امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
 
عالمی خبریں
 

کالعدم پی کے کے نے جمعے کو ترکی کے جنوب مشرق میں پولیس کی ایک عمارت پر کیے جانے والے خود کش بم حملے کی ذمہ داری قبول کر لی
28.08.2016, 12:02am , اتوار (GMT+1)








۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) نے جمعے کو ترکی کے جنوب مشرق میں پولیس کی ایک عمارت پر کیے جانے والے خود کش بم حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

اس حملے میں کم از کم گیارہ پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 78 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ جزیرہ ابن عمر نامی شہر میں ہونے والے اس دھماکے میں زخمی ہونے والے چار افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا، جب ترکی گزشتہ دو روز سے شام کی سرحد کے اندر داعش کے خلاف عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
................
ترکی کے صوبے سرنک میں پولیس ہیڈ کوارٹر پر کار بم دھماکے میں 9 افراد ہلاک،64 زخمی ہوگئے ۔صوبہ
 سرنک شام اور عراق کی سرحد پر واقع ہے

یہ کار بم دھماکا سرنک کے علاقے سیزرے میں کیا گیا۔مقامی میڈیا کی ویڈیو میں دھماکے کے مقام پر بڑے پیمانے پر دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔ دھماکا پولیس اسٹیشن سے 50میٹر کی دوری پر کیا گیا۔

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 12ایمبولینس اور دو ہیلی کاپٹر دھماکے کی جگہ روانہ کر دیئے گئے ہیں۔

صوبہ سرنک شام اور عراق کی سرحد پر واقع ہےجہاں کرد آبادی بڑی تعداد میں موجود ہے

ایک اور عالمی نشریاتی ادارے کے مطابق آج کشیدگی کی لپیٹ میں آئے ہوئےجنوب مشرقی ترکی میں کُرد باغیوں کی جانب سے کیے جانے والے ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں نو افراد ہلاک اور چونسٹھ زخمی ہو گئے۔

 یہ دھماکا سِرناک صوبے کے صدر مقام سِزرے میں پولیس ہیڈکوارٹرز کی عمارت سے تقریباً پچاس میٹر کے فاصلے پر ہوا۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال امن مذاکرات معطل ہونے اور فائر بندی معاہدہ ناکام ہو جانے کے بعد سے ترک سکیورٹی فورسز اور کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ پھر سے جاری ہے۔
.....................
ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ اتوار کے روز غازی انتیپ کے علاقے میں ایک شادی کی تقریب میں خود کش بم باری کرنے والے کی عمر بارہ اور چودہ برس کے درمیان تھی۔ اس حملے میں پچاس کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے اور مبینہ طور پر اس کے پیچھے شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کا ہاتھ تھا۔ صدر ایردوآن کا اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران بھی کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات داعش ہی کی جانب اشارہ کر رہی ہیں۔
....................
ترکی نے کہا ہے کہ شام کو نسلی بنیاد پر تقسیم سے بچانے کے لیے وہ اگلے چھ ماہ تک شام میں زیادہ متحرک کردار ادا کرے گا۔ اِس بات کا اعلان وزیر اعظم بن علی یلدرم نے ہفتے کے روز کیا۔

اُنھوں نے استنبول میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’ہم یہ کہتے ہیں کہ خونزیری بند ہونی چاہیئے۔ نوزائدہ، کمسن، بے گناہ افرادکو ہلاک نہیں ہونا چاہئیے‘‘۔

بقول اُن کے، ’’یہی وجہ ہے کہ ترکی زیادہ متحرک ہوگا تاکہ یہ کوشش کی جاسکے کہ آئندہ چھ ماہ کے دوران یہ خطرہ ٹل جائے‘‘۔

یلدرم نے مزید کہا کہ شام کے مستقبل میں شامی صدر بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں ہے، لیکن عبوری دور کے دوران اُن کے ساتھ مذاکرات ضروری ہوں گے، چونکہ ’’آپ چاہیں نہ چاہیں، وہ اِس معاملے میں ایک کردار ہیں‘‘۔

کُرد باغی گروہ کے لیے دولت اسلامیہ کا نام استعمال کرتے ہوئے، اُن کا کہنا تھا کہ ’’عبوری دور میں (اُن کے ساتھ) بیٹھ کر بات کرنی ہوگی۔ عبوری دور کے لیے سہولت فراہم کی جائے۔ تاہم، ہم سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں شام میں ’پی کے کے‘، داعش یا اسد نہیں ہونے چاہیئں‘‘۔

یلدرم نے پانچ برس سے جاری شام کی لڑائی کے نتیجے میں نسلی بنیادوں پر تقسیم کے جذبات کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا، جہاں کُرد گروہوں نے اپنے علیحدہ خطے قائم کر رکھے ہیں جو کبھی کبھار شام کی اکثریتی عرب آبادی کے ساتھ ٹکراتے ہیں۔ جمعرات کے روز شام کی فضائی افواج نے پہلی بار حسکہ میں کُرد باغیوں کے خلاف بمباری کی، جو شہر شمال مشرق میں واقع ہے جہاں کُرد اور شام کی سرکاری افواج داعش کے شدت پسندوں کے ایکساتھ لڑتے رہے ہیں۔ سنہ 2011ء جب سے خانہ جنگی کا آغاز ہوا ہے، یہ فضائی حملے حکومت شام اور کرد افواج کے درمیان سنگین محاذ آرائی خیال کی جاتی ہے۔

ترکی کُرد ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے شدت پسندوں کے ساتھ صف آرا ہے، جب کہ سرحد پار کُردوں کے طاقت ور ہونے پر اُسے تشویش لاحق ہے، اور وہ آزادی یا خودمختاری کی کوششوں کے خلاف ہے۔

اِس کے باجود، یلدرم نے کہا ہے کہ ترکی شام کے بارے میں مایوس نہیں اور یہ کہ وہ پُراعتماد ہیں کہ ایران، خلیجی عرب ریاستیں، روس اور امریکہ مل کر اس کا حل نکال سکتے ہیں۔

یلدرم نے اِن افواہوں کو مسترد کیا کہ روس کو انسرلک کا فوجی اڈا استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی، جسے اِس وقت امریکی اتحاد داعش کے شدت پسندوں کے خلاف استعمال کرتا ہے۔
.....................
شامی صدر بشار الاسد کی فوج کے جنگی طیاروں نے مسلسل دوسرے روز بھی شمال مشرقی شہر الحَسَکہ کے نواح میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

 بدھ کے دن سے کردوں کے کنٹرول والے شہر الحَسَکہ کے گرد و نواح میں شامی فوجیوں کے ساتھ ان کرد فائٹرز کی جھڑپیں جاری ہیں۔ اب تک اس لڑائی میں دو درجن کے قریب عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

 اسی بمباری کے تناظر میں امریکا نے بھی اپنے لڑاکا طیاروں کو کسی ممکنہ کارروائی کے لیے متحرک کرنا شروع کر دیا ہے۔ جمعرات کے روز شامی جنگی ہوائی جہازوں سے حملوں کے وقت امریکی لڑاکا طیارے بھی شامی فضائی حدود میں پہنچ گئے تھے لیکن تب تک شامی طیارے حملوں کے بعد واپس جا چکے تھے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ملکی خانہ جنگی کے دوران پہلی بار شامی لڑاکا طیاروں نے شمال مشرقی شہر میں کُرد افواج کو نشانہ بنایا؛ جوابی کارروائی کے طور پر، امریکہ نے اپنے طیارے روانہ کیے تاکہ علاقے میں واقع امریکی اتحادی افواج کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

جمعرات کو جب شامی فضائی حملوں کا آغاز ہوا، کُرد اکثریت والے شہر ہسکہ سے ہزاروں کی تعداد میں شہری آبادی پناہ کی تلاش میں بھاگ نکلی، جس کے لیے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

سنہ 2011 میں جب سے خانہ جنگی کا آغاز ہوا ہے، کُردوں کے خلاف یہ پہلی شامی فضائی کارروائی ہے جب سرکاری لڑاکا طیاروں نے کُرد اکثریت والے علاقے کو نشانہ بنایا۔ ساتھ ہی یہ شام کی سرکاری افواج اور کُرد فوج کے درمیان فاصلے کی نشاندہی کرتی ہے جو اتحاد سنہ 2014 میں داعش کے لڑاکوں کے شہر میں داخل ہونے کے بعد سے غیر رسمی طور پر برقرار رہا ہے۔

عینی شاہدین نے کہا ہے کہ شامی حکومت کے لڑاکا جیٹ طیاروں نے کُرد گروپ سے تعلق رکھنے والے فوجی ٹھکانوں کو ہدف بنایا۔ یہ بات انسانی حقوق کے امور پر نظر رکھنے والے شامی ادارے نے بتائی ہے جِس کے تحقیق کار سرزمین پر موجود رہتے ہیں۔

پینٹاگان کے ترجمان میجر ایندیان رینکن گیلووے نے کہا ہے کہ جمعرات کو شام کی فضائیہ نے ’’ہسکہ کے گرد و نواح میں بَری افواج‘‘ کو نشانہ بنایا۔ تاہم، حملوں میں اتحادی افواج کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا، جو خطے میں کارروائی کر رہی ہیں۔ جوابی کارروائی کے طور پر، امریکی لڑاکا طیارے فضا میں بلند ہوئےتاکہ اتحادی افواج کو تحفظ فراہم کیا جاسکے، جب کہ پینٹاگان نے روسی حکومت سے رابطہ کیا جو اسد حکومت کی حمایت میں شام میں فضائی حملے کرتی رہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ روس نے عندیہ دیا ہے کہ ہسکہ کے حملوں میں روسی طیارے ملوث نہیں تھے، جب کہ ’’ہم نے واضح کیا کہ خطرے کی صورت میں، بَری افواج کے دفاع میں اتحادی طیارے کارروائی کریں گے‘‘۔

’وائس آف امریکہ‘ کی ایک وڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ جب جمعے کو شہر کے مکین بچاؤ کے لیے پناہ کی تلاش میں تھے، شام کے فوجی طیارے شہر کے اوپر چکر لگاتے رہے۔

ہسکہ کے مکین عزیز آبے نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’مقامی کُرد افواج کو کمزور کرنے کے لیے وہ (لڑاکا طیارے) مخصوص علاقوں کو ہدف بنا رہے ہیں‘‘۔

مقامی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ فضائی حملوں کے علاوہ، شامی حکومت کی افواج نے شہر میں بھاری دہانے والا اسلحہ استعمال کیا جس میں کم از کم 14 افراد ہلاک، جب کہ درجنوں زخمی ہوئے۔

شامی فوج یا حکومت کے حامی اخبارات نے اِس کارروائی کے بارے میں کوئی بیان شائع نہیں کیا۔ پیپلز پراٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ شام میں اہم کُرد مسلح گروپ نے بتایا ہے کہ دونوں فریق کے مابین ماضی میں بھی جھڑپیں ہوئی ہیں، لیکن پہلی بار حکومت نے کُردوں کے خلاف لڑکا طیاروں کا استعمال کیا ہے۔

ردور زیلی ’وائی پی جی‘ کے ترجمان ہیں۔ اُنھوں نے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ ’’(شامی حکومت کی جانب سے) جنگی طیاروں کا استعمال ایسے وقت ہو رہا ہے جب (امریکی حمایت یافتہ) ’وائی پی جی‘ اور ’سیریئن ڈیموکریٹک فورسز‘ نے منبج میں داعش کے خلاف بڑی سطح کی کامیابیاں حاصل کی ہیں‘‘۔
 ................................
ایک زخمی شامی بچے کی چونکا دینے والی تصویر نے شام میں جنگ کی ہولناکی اور المناک صورتحال کی حقیقت کا پردہ فاش کردیا ہے۔

یہ تصویر شامی صحافی کی طرف سے 17 اگست کو لی گئی ہے۔

تصویر میں ایک خوفزدہ بچہ زخمی حالت میں ایمبولینس کی سیٹ پر تنہا بیٹھا ہے اس کا معصوم چہرہ خون آلود ہے اور جسم گرد اور دھول مٹی سے اٹا ہوا ہے، جبکہ اس کے ماں باپ کا کوئی پتا نہیں۔

بچے کی تصویر اور ویڈیو کو سوشل میڈیا پر وسع پیمانے پر شیئر کیا گیا اور رونگٹے کھڑے کر دینے والی اس فوٹیج نے لوگوں کے دلوں میں شام کے بحران کے حوالے سے غم و غصہ پیدا کیا ہے۔

حکومت مخالف شامی باغیوں کے حلب میڈیا سینٹر نے بچے کی شناخت اومران داگنیش کے نام سے کی ہے جو بدھ کے روز حلب کے علاقے قطرجی میں ملٹری بمباری کے نتیجے میں زخمی ہوگیا تھا۔

باغیوں کے حامی میڈیا سینٹر کی طرف سے بدھ کی شب یو ٹیوب پر زخمی بچے کی ویڈیو فوٹیج کا اشتراک کیا گیا ہےجس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ڈاکٹر ملبے سے زندہ بچ جانے والے بچے کو اٹھا کر ایمبولینس کی پچھلی نشست پر بٹھاتا ہے اور پھر دوسرے زخمیوں کو لانے کے لیے ایمبولینس سے باہر نکل جاتا ہے۔

اس فوٹیج کی حیران کن بات یہ ہے کہ کارٹون کے کرداروں والی ٹی شرٹ اور نیکر میں ملبوس زخمی بچہ رو نہیں رہا ہے، بلکہ وہ خاموشی سے بیٹھا رہتا ہے اور کچھ دیر بعد اپنے ہاتھ سے چہرے کی گرد کو کو صاف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن، ہاتھوں پر خون دیکھ کر خاموشی سے اسے سیٹ پر صاف کرتا ہے اور واپس اپنے ہاتھ گود میں رکھ لیتا ہے۔

اس کے بعد دو اور بچوں اور ایک زخمی مرد کو بھی ملبے سے نکالا جاتا ہے۔

اومران کی ویڈیو فوٹیج نے شامی مہاجر بچے ایلن کردی کی موت کے سانحے کو بھی پھر سے تازہ کردیا ہے، جس کی بے جان لاش کو گذشتہ سال ترکی کے ساحل پر اوندھے منہ پایا گیا تھا۔

اور اب اومران کی تصویر نے ایک مرتبہ پھر شام کے بحران کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرائی ہے، خاص طور پر اس تصویر نے باغیوں کے زیر تسلط شہر حلب میں شامیوں کی حالت زار کی تصویر کشی کی ہے۔

شام کے المیہ کی منہ بولتی تصویر اومران داگنیش

اس غیر معمولی ویڈیو فوٹیج کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے پانچ سالہ اومران داگنیش سکتے کی حالت میں ہو۔ اسے اپنے ارد گرد کے ماحول کے بارے میں کچھ نہیں پتا ہے۔ حتیٰ کہ اسے اپنے سر پر لگے گہرے زخم کا بھی اندازا نہیں ہے جس سے بہنے والے خون نے بچے کے آدھے چہرے کو ڈھانپ رکھا ہے۔​

شامی سول ڈیفینس گروپ کے کارکنوں کے مطابق اومران داگنیش اور تین دوسرے بچوں کو بدھ کے روز شامی افواج کے فضائی حملوں سے تباہ ہونے والی ایک عمارت کے ملبے سے نکالا تھا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق، اومران داگنیش کو علاج کے لیے ایم ٹین اسپتال میں لے جایا گیا جسے پہلے بھی فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

فوٹو جرنسلٹ محمد راسلان جنھوں نے یہ پر اثر فوٹیج تیار کی ہے ذرائع کو بتایا کہ فضائی بمباری کے کچھ دیر بعد امدادی کارکن اور صحافی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے جہاں عمارت کے ملبے میں پھنسے لوگوں کو بچانے کی کوششوں میں ہم زخمیوں کو ایک بالکنی سے دوسری بالکنیوں میں منتقل کر رہے تھے تبھی تین بے جان جسموں کی تلاش کے بعد زخمی بچے کو ملبے سے نکالا گیا تھا۔

راسلان کے مطابق اومران اور اس کے تین اور بہن بھائیوں کو بھی ملبے سے زخمی حالت میں نکالا گیا تھا جنھیں گہرے زخم نہیں آئےتھے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کو ملبے سے نکالنے کے فورا بعد ہی ان کے اپارٹمنٹ کی عمارت منہدم ہوگئی تھی۔

چھوٹے بچوں کو فوری طور پر ایمبولینس میں منتقل کیا گیا تھا۔

ایم ٹین کے ڈاکٹروں کے مطابق، فضائی حملے کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 5 بچے بھی شامل ہیں اور 12 زخمی ہوئے ہیں۔

طبی عملے کی طرف سے علاج کےبعد سوشل میڈیا پر اومران کی ایک تصویر جاری کی گئی ہے جس میں اس کی سر پر بینڈیج ہے اور وہ لیٹا ہوا ہے۔ تاہم، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انھیں بچے کے والدین کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

قطرجی کے فضائی حملے میں زخمی ہونے والے چار بچوں ایک عورت اور دو نوجوان مردوں کو بھی ملبے سے نکالا گیا ہے۔

شام کا بحران اور انسانی المیہ

بحران زدہ ریاست شام متعدد تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔ اس ملک میں خانہ جنگی کا آغاز لگ بھگ پانچ برس پہلے حکومت اور اپوزیشن کے مابین اقتدار کی جنگ سے ہوا تھا۔

صدر بشار الاسد کی افواج اور روسی فضائیہ باغیوں کے زیر تسلط شہر حلب سے قبضہ چھڑانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور یہ شہر ہر روز فضائی حملوں کے نشانے پر ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، حلب کے شہر میں اندازاً تین لاکھ افراد فضائی بمباری اور حملوں کے مسلسل خوف کے ساتھ زندگیاں گزار رہے ہیں جبکہ جنوری سے اب تک اندازاً 25 اسپتالوں اور ڈاکٹر کے کلینکس فضائی بمباری کے نتیجے میں جلے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے شام کی حکومت سے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مشرقی حلب کے تباہ حال شہر میں امداد بھیجی جاسکے، جہاں کم ازکم چھ ہفتوں سے کوئی بین الاقوامی امداد داخل نہیں ہوسکی، جس سے اس شہر میں انسانی بحران، بھوک اور بیماریوں کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق، شہر کی ایک تہائی آبادی بیرونی امداد پر انحصار کرتی ہے جسے کیسٹلو روڈ کے ذریعے شہر میں بھیجا جاتا ہے۔ تاہم، امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اب یہ روڈ شامی حکومت کے فضائی حملوں کے نتیجے میں بند پڑی ہے۔
.......................
روس نے کہا ہے کہ شام میں شدت پسندوں کے خلاف فضائی حملوں کے لیے پہلی بار اُس کے لڑاکا طیاروں نے ایران کے ایک ہوائی اڈے سے پرواز کی۔

روس کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ ٹی یو-22ایم3 دور مار بمبار جہاز اور ایس یو-34 محاذ جنگ پر وار کرنے والے بمبار طیارے ’ہمدان فضائی اڈے‘ سے اُڑے، جو ایران کے دارالحکومت تہران کے جنوب مغرب میں تقریباً 280 کلومیٹر دور واقع ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ لڑاکا طیاروں نے حلب، دیر الزور اور ادلب کے صوبوں میں ’’ہتھیاروں، دھماکہ خیز مواد اور ایندھن کے بڑے پانچ گوداموں‘‘؛ داعش کے تربیتی کیمپوں اور جہبت النصرہ دہشت گرد گروپوں کو نشانہ بنایا۔

روسی افواج نے گذشتہ برس ستمبر کے اواخر میں شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کی حمایت میں فضائی حملوں کا آغاز کیا۔

یہ پہلا موقعہ تھا کہ منگل کے روز یہ کارروائی شام کے باہر سے کی گئی جس میں طویل فاصلے والے روسی طیاروں نے حصہ لیا، جنھوں نے شام کے اتحادی ایران کے ہوائی اڈے سے پرواز بھری۔

ایران کی سرکاری تحویل میں کام کرنے والے ابلاغ عامہ کے ذرائع نے ملک کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ، علی شامخانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایران اور روس کا حکمتِ عملی پر مبنی تعاون جاری ہے، جس مشن کے لیے وہ اپنی تنصیبات استعمال کرتے ہیں۔

روس نے زور دے کر کہا ہے کہ اُس کی فضائی کارروائی کا مرکز دہشت گرد ناکہ باغی ہیں جو اسد کی مخالفت کرتے ہیں، لیکن، اُسے مغربی حکومتوں اور انسانی حقوق کے گروہوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔

شام کا تنازع مارچ 2011میں پُرامن مظاہروں سے شروع ہوا جو جلد ہی خانہ جنگی میں بدل گیا جس میں، اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق، اب تک 400000 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 50 لاکھ افراد ملک چھوڑ چکے ہیں جب کہ 66 لاکھ داخلی طور پر بے گھر ہوئے ہیں۔
........................
شام کے شمال مغربی شہر حلب میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور باغی گروپوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے اور سرکاری فوج نے سوموار کے روز شہر کے جنوب مغربی حصے میں باغیوں کی پیش قدمی روک دی ہے اور انھیں گذشتہ روز قبضے میں لیے گئے اپنے ٹھکانوں سے بھی پسپا ہونے پر مجبور کردیا ہے۔

باغی جنگجوؤں نے اتوار کے روز حلب کے جنوب مغرب میں واقع ایک سیمنٹ فیکٹری میں فوج کی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا تھا اور ان پر قبضہ کر لیا تھا لیکن حزب اختلاف کے کارکنان اور جنگجوؤں کی ویب سائٹس نے آج بتایا ہے کہ مزاحمت کار حکومت کے ایک جوابی حملے کے بعد پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

شامی فوج کی اس پیش قدمی کی بڑی وجہ روس کے لڑاکا طیاروں کی باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر تباہ کن بمباری ہے۔ان فضائی حملوں میں پیش قدمی کرنے والے باغیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔روسی طیارے حلب کے علاوہ باغیوں کے زیر قبضہ نزدیکی صوبے ادلب میں بھی حملے کررہے ہیں۔

درایں اثناء روس کی ریا نیوز ایجنسی نے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس اور امریکا شامی شہر حلب میں جنگجوؤں کے خلاف مشترکہ کارروائی کے لیے اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

روسی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ''ہم اپنے امریکی ساتھیوں سے مذاکرات کے ایک فعال مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ہم مرحلہ در مرحلہ ایک منصوبے کے نزدیک پہنچ رہے ہیں اور میں یہاں صرف حلب کی بات کررہا ہوں۔اس کے تحت ہم مشترکہ طور پر لڑائی کا آغاز کرسکیں گے تا کہ وہاں امن قائم کیا جا سکے اور لوگ اس شورش زدہ سرزمین پر اپنے گھروں کو لوٹ سکیں''۔

دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے یہ شکایت کی ہے کہ شامی جنگجو حلب اور اس کے نواح میں عارضی جنگ بندی کے وقفے کو دوبارہ صف بندی اور مسلح ہونے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

لاروف روسی شہر یکترنبرگ میں اپنے جرمن ہم منصب فرینک والٹر اسٹینمیئر کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ انھیں اس بات کا ادراک ہے کہ حلب میں امدادی سامان پہنچانے اور وہاں سے شہریوں کے انخلاء کے لیے روزانہ تین گھنٹے کے لیے جنگ بندی کا وقفہ ناکافی ہے لیکن فی الوقت اس دورانیے کو بڑھانا ممکن نہیں ہے کیونکہ اس طرح جنگجوؤں کے دوبارہ مجتمع ہونے اور مسلح ہونے کا خدشہ ہے اور وہ ماضی میں جنگ بندی کے دوران ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔
.....................
ترکی سے ملنے والی اطلاعات سے پتا چلا ہے کہ شام اور ترکی کے درمیان قائم "طمہ" سرحدی راہداری پر ایک خود کش حملے میں کم سے کم 35 باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ترک ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ خودکش حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی اکثریت جیش الحر کے ارکان پر مشتمل ہے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب شمالی حلب میں اپوزیشن کے 600 جنگجو ایک نئی مہم پر جانے کی تیاری کررہے تھے۔ اس دوران ایک خود کش بمبار ان کی صفوں میں داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

الحدث چینل کے نامہ نگار کے مطابق خود کش بمبار شامی اپوزیشن کی نمائندہ فوج کی ایک بس پر سوار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ بس میں سوار ہوتے ہی اس نے خود کو دھماکےسے اڑا دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جیش الحر نے دو دیگر خود کش بمباروں کو کارروائی سے قبل ہی ہلاک کردیا ہے۔ اپوزیشن نے خود کش حملے کا الزام شدت پسند گروپ داعش پرعاید کیا ہے۔

قبل ازیں شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے"آبزرویٹری" کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ شام اور ترکی کی سرحد پر قائم اطمہ گذرگاہ پر ایک بس میں ہونے والے خود کش دھماکے کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور کم سے کم 25 زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے۔
..................
روس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے چھے بمبار طیاروں نے شام کے مشرقی صوبے دیرالزور میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے اسلحہ ڈپوؤں اور متعدد ٹھکانوں کو تباہ کردیا ہے۔
ماسکو میں روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹوپو لیف بمبار طیاروں نے اتوار کے روز داعش کے مضبوط گڑھ دیرالزور شہر کے جنوب مغرب ،مشرق اور شمال مشرق میں بمباری کی ہے اور دو کمانڈ پوسٹوں ،چھے اسلحہ ڈپوؤں ، گاڑیوں کو تباہ کردیا ہے اور بمباری میں داعش کے بڑی تعداد میں جنگجو مارے گئے ہیں۔

داعش کا دیر الزور شہر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ ہے،اسی نام سے تیل کی دولت سے مالا مال اس صوبے کے بیشتر علاقوں پر بھی ان کا کنٹرول ہے۔داعش کے جنگجوؤں کی گذشتہ مہینوں کے دوران شامی فوج کے ساتھ اہم فوجی اڈوں پر قبضے کے لیے لڑائی ہوتی رہی ہے۔

روس اپنے اتحادی صدر بشارالاسد کی حمایت میں گذشتہ سال ستمبر سے شام میں داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے خلاف فضائی حملے کررہا ہے اور ان حملوں ہی کی بدولت شامی فوج کو بھی کچھ سنبھالا ملا ہے۔روس کی حمایت سے شامی فورسز ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب میں دوسرے باغی گروپوں کے خلاف لڑرہی ہیں۔

امریکا کے حمایت یافتہ عرب کرد اتحاد نے جمعے کے روز ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شہر منبج سے داعش کے جنگجوؤں کو گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری شدید لڑائی کے بعد نکال باہر کیا تھا۔یہ اس جنگجو گروپ کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا اور پینٹاگان نے ان کی شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس وقت رسیوں پر چل رہے ہیں۔بہ الفاظ دیگر شام میں ان کے قدم اب اکھڑ چکے ہیں۔
...................
ڈی مستورا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''حلب میں کیمیائی گیس کے استعمال کے بہت زیادہ شواہد سامنے آئے ہیں۔اگر اس کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ ایک جنگی جرم ہوگا''۔
شام کے ایک امدادی کارکن خالد حرا نے اطلاع دی ہے کہ حلب شہر کے حزب اختلاف کے زیر قبضہ علاقے میں کلورین گیس کے حملے میں ایک خاتون اور اس کے دو بچے مارے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا ہے کہ شامی حکومت کے ایک ہیلی کاپٹر نے بدھ کی رات حلب کے علاقے زبیدہ میں چار بیرل بم گرائے تھے۔ان میں سے ایک سے کلورین گیس کا اخراج ہوا تھا۔یہ رپورٹ جمعرات کو آن لائن پوسٹ کی گئی ہے اور اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا فی الواقع کلورین گیس ہی خارج ہوئی تھی۔

ایک اسپتال کے ذرائع اور شہری دفاع کے ایک گروپ نے بھی برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ گیس کے نتیجے میں چار افراد مارے گئے ہیں اور متعدد کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔اس گیس کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ یہ کلورین ہی تھی اور یہ گرائے گئے بیرل بموں میں شامل تھی۔

حلب میں واقع القدس اسپتال کے مینجر حمزہ خطیب نے بتایا ہے کہ ان کے یہاں زہریلی گیس سے چار اموات ریکارڈ کی گئی ہیں اور اس سے پچپن افراد زخمی ہوئے ہیں۔سات افراد کا اب بھی اسپتال میں علاج کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مریضوں کے کپڑوں اور بیرل بموں کے ٹکڑوں کو تجزیے کے لیے ثبوت کے طور پر اپنے پاس رکھ رہے ہیں۔

شامی رصدگاہ کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹروں نے حلب کے علاقوں سیف الدولہ اور زبیدہ میں بیرل بم برسائے تھے۔ان سے خارج ہونے والی زہریلی گیس کے نتیجے میں دم گھٹنے سے ایک خاتون اور اس کے بچے کی موت ہوئی ہے۔

شامی فوج کی تردید
درایں اثناء شامی فوج کے ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حلب میں حزب اختلاف کے زیر قبضہ علاقے میں کلورین گیس کے حملے کی تردید کی ہے۔اس عہدے دار نے کہا ہے کہ باغی جنگجوؤں نے کلورین گیس کے حملے سے متعلق من گھڑت خبر وضع کی ہے اور شامی فوج کبھی کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کرے گی۔

شامی فوج کے فضائی حملے کا نشانہ بننے والے حلب کے مشرقی حصے پر باغی گروپوں کا قبضہ ہے جبکہ مغربی حصے پر صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کا کنٹرول ہے۔گذشتہ دنوں کے دوران شامی فوج اور باغیوں کے درمیان اس شہر میں گھمسان کی لڑائی ہوئی ہے اور اول الذکر کو ابتدائی کامیابیوں کے بعد ہزیمت کا سامنا ہے۔

لڑائی میں شدت کے پیش نظر حلب کے شہری گوناگوں مسائل سے دوچار ہوگئے ہیں اور روس نے گذشتہ روز ہی آج جمعرات سے حلب میں تین گھنٹے کے لیے زمینی اور فضائی حملے روکنے کا اعلان کیا تھا۔اقوام متحدہ کے ایلچی ڈی مستورا کا کہنا ہے کہ روس اب تین گھنٹے کے لیے جنگ بندی کو توسیع دینے پر غور کررہا ہے۔انھوں نے کہا کہ شہرمیں خوراک اور دیگر امدادی سامان پہنچانے کے لیے کم سے کم 48 گھنٹے کے لیے جنگ بندی ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ روس نے اقوام متحدہ سے مشاورت کے بغیر ہی جنگ زدہ شہر میں اپنے طور پر تین گھنٹے کے لیے جنگ بندی کے فیصلے کا اعلان کردیا تھا مگر اس وقفے کا یہ مطلب ہونا چاہیے کہ کوئی لڑائی نہیں ہوگی لیکن تین گھنٹے کا وقفہ ناکافی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ روس اب اس وقفے میں توسیع کے لیے تیار ہے
..............
شام میں حکومت مخالف اپوزیشن کی نمائندہ تنظیموں نے جنگ زدہ شہر حلب کے مشرقی محاذ پر اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے شہر کا کئی ماہ سے جاری محاصرہ توڑتے ہوئے حلب اور ادلب کے درمیان سپلائی لائن بحال کردی ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شامی فوج کی جانب سے مشرقی حلب میں محاصرے کے باعث مقامی آبادی بدترین مشکلات کا شکار تھی۔ اگر اپوزیشن محاصرہ توڑنے میں کامیاب نہ ہوتی تو انسانی المیہ رونما ہونے کا اندیشہ تھا۔

اپوزیشن کی نمائندہ تنظیموں جیش فتح الشام’جفش‘ اور دیگر گروپوں نے مشرقی حلب کی طرف سے شامی فوج کو پسپا کرتے ہوئے کئی اہم فوجی مراکز پر قبضہ کرلیا ہے۔ اس دوران باغیوں کو شامی فوج کے زیراستعمال اور گولہ بارود اور دیگر اسلحہ کی بھاری مقدار بھی مال غنیمت میں حاصل ہوئی ہے۔

حکومت مخالف ذرائع کے مطابق ’جفش‘ نے چھ روز سے جاری گھمسان کی لڑائی کے دوران حلب کے محاصرہ زدہ علاقوں بالخصوص دوار الراموسہ تک امدادی سامان کی سپلائی بھی بحال کردی ہے۔ اس کے علاوہ حزب اختلاف کی فورسز نے مشرقی حلب میں شامی فوج کے متعدد اہم فوجی مراکز جن میں آرٹلری کالج، الراموسہ آڈیٹوریم، ٹیکنیکل ملٹری کالج اور آرمنٹ فیکیلٹی پرقبضہ کرلیا ہے۔ اپوزیشن فورسز کو ان مراکز سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی ملا ہے۔

حلب کے مشرقی محاذ پراپوزیشن کی کامیابی کے جلو میں شہر کے مغربی محاذ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ سرکاری فوج نے حلب کے مغربی محاذ کامحاصرہ مزید سخت کردیا ہے اور دمشق اور حلب کے درمیان رابطہ لائن کاٹ دی گئی ہے
...................
لیبیا کے شہر بن غازی میں کار بم دھماکے میں پندرہ فوجی اہلکاروں سمیت تئیس افراد ہلاک اور تیس سے زائد زخمی ہو گئے -

لیبیا کے فوجی ترجمان کے مطابق دھماکا خودکش تھا۔ جس میں لیبین نیشنل آرمی کے دستے کونشانہ بنایا گیا۔ خودکش کار بم دھماکے کی ذمہ داری بن غازی کے انقلابیوں کی شوریٰ کونسل نے قبول کر لی ہے۔ 

دو سال قبل شوریٰ کونسل کے خلاف شروع کیے جانے والے آپریشن کی وجہ سے بن غازی شہر دہشتگردی سے دوچار ہے۔ فوج پچھلے کئی ماہ سے بن غازی میں کارروائیاں کر رہی ہے تاہم شہر کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں کرنے میں ناکام ہے۔ عینی شاہد کے مطابق دھماکا اس قدر طاقتور تھا کہ تین منزلہ عمارت ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی۔  
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پینٹاگان نے بتایا ہے کہ لیبیا میں پیر کے روز امریکی فوج نے داعش کے اہداف پر فضائی حملے کیے۔

امریکی اور لیبیا کے اہل کاروں کے مطابق، فضائی کارروائی سرطے میں داعش کے مضبوط ٹھکانوں پر کی گئی، جس کی اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت نے درخواست کی تھی۔

پینٹاگان کا کہنا ہے کہ اتحادی حکومت کی حمایت میں یہ فضائی کارروائی صدر کی اجازت سے کی گئی۔ یہ حملےامریکی وزیر دفاع ایش کارٹر اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیرمین، جنرل جو ڈَنفرڈ کی سفارش پر کیے گئے۔

پینٹاگان کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سرطے میں داعش کےاہداف کے خلاف یہ امریکی فضائی کارروئیاں جاری رہیں گی، تاکہ اتحاد ’’فیصلہ کُن اور حکمت عملی کی حامل پیش قدمی‘‘ کر سکے اور لیبیا میں داعش کے محفوظ ٹھکانے تباہ کیے جائیں، جہاں سے یہ دہشت گرد گروپ امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کے خلاف حملے کرتا ہے۔

شدت پسند گروپ ایک سال سے زیادہ عرصے سے سرطے میں اپنا دائرہٴ اثر بڑھا رہا ہے۔ امریکہ کی افریقہ کے لیے فوجی آپریشنز کی کمان کےمعاون سربراہ، وائس ایڈمرل مائیکل فرینکن نے گذشتہ دسمبر میں اسٹٹگارٹ میں ’افریکوم‘ کے صدر دفتر میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اگر رقعہ (شام) شدت پسندی کا منبہ ہے، تو اُس کا اصل مرکز شاید سرطے ہے‘‘۔

پیر کے روز کی گئی فضائی کارروائیاں اس سال داعش کے خلاف لیبیا میں کیا گیا دوسرا فضائی حملہ ہے۔

فروری میں، امریکی لڑاکا طیاروں نے مغربی لیبیا میں داعش کے ایک تربیتی کیمپ پر حملہ کیا تھا جو تیونس کی سرحد کے قریب واقع تھا، جس میں بھرتی کیے گئے درجنوں دہشت گرد شامل تھے۔ واشنگٹن میں دفاعی اہل کاروں نے بتایا ہے کہ تین ممکن ہے کہ اِن فضائی حملوں میں داعش کا چوٹی کا دہشت گرد، نورالدین شیشانی ہلاک ہوا۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

:دیگر مضامین
(27.08.2016) ہلیری نےٹرمپ کودماغی طور پرغیرمتوازن قراردے دیا
(27.08.2016) برقینی پر پابندی ختم، فرانس کی اعلیٰ عدالت کا فیصلہ
(26.08.2016) مقبوضہ کشمیر میں 49 ویں روز بھی کشیدگی برقرار ہے
(26.08.2016) عراقی پارلیمان نے وزیر دفاع کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے حق میں ووٹ دیا
(25.08.2016) وسطی اٹلی میں بدھ کے روز کے شدید زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 247 ہو گئی ہے
(25.08.2016) کولمبیا میں حکومت اور فارک باغیوں کے درمیان امن سمجھوتہ
(25.08.2016) افغانستان:امریکن یونیورسٹی پرمسلح افرادکاحملہ
(24.08.2016) وسطی اٹلی میں 6.2 کی شدت کے زلزلے سے کئی عمارتیں منہدم
(24.08.2016) سعودی سیکورٹی فورسز نے القطیف میں مسجدپرحملے کی کوشش ناکام بنادی
(23.08.2016) امریکہ نیٹو ممالک کا تحفظ کرنے کے عزم پر قائم: بائیڈن
(23.08.2016) کلنٹن فاؤنڈیشن کو ’’فوری طور پر‘‘ بند کیا جائے: ٹرمپ
(23.08.2016) جرمن عدالت کا طالبہ کو نقاب کے ساتھ اسکول جانے کی اجازت دینے سے انکار
(22.08.2016) مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات ضروری ہیں،مودی
(22.08.2016) عسکری سامان چین کو فروخت کرنے کی کوشش پر امریکی خاتون کو سزا
(22.08.2016) بین الاقوامی پولیس ایجنسی " انٹرپول" نے کویتی رکن پارلیمنٹ عبدالحمید دشتی کو حراست میں لینے کے لیے وارنٹ جاری کر دیے ہیں
(22.08.2016) مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 45واں روز، مزید 3 کشمیری شہید
(22.08.2016) صومالیہ میں دو خود کُش کار بم دھماکے، کم از کم پندرہ افراد ہلاک
(21.08.2016) ترکی: شادی کی تقریب میں دھماکا، ہلاکتیں 50 ہوگئیں
(21.08.2016) ترک حکام کے مسلسل الزامات کے بعد ترک رہنما فتح اللہ گولن کے خلاف الزامات کی تحقیقات کے لیے امریکا اپنی ٹیم ترکی بھیجے گا۔ 
(21.08.2016) طالبان نے افغان صوبے قندوز کے ایک ضلع پر قبضہ کر لیا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں