سندھ میں رینجرز کی تعیناتی اور اختیارات کا معاملہ ایک بار پھر لٹک گیا ہے، پہلے سندھ حکومت نے تاخیری حربے استعمال کیے، اب وفاق نے سندھ کی طرف سے بھیجی گئی سمری مسترد کر دی ۔
وفاقی وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کی سمری قانونی معیار پر پوری نہیں اترتی،اس میں قانونی اورآئینی پیچیدگیاں ہیں اور یہ آئین کے آرٹیکل 147 کے مطابق نہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے کل رینجرز کے اختیارات کی سمری پر دستخط کیے تھے۔
وزارت داخلہ کے قانونی ماہرین نے سندھ حکومت کی رینجرز کے قیام میں توسیع کے متعلق بھیجی گئی، سمری ابتدائی طور پر مسترد کردی ہے،رینجرز اختیارات کا معاملہ پھر لٹک گیا۔
سندھ حکومت کے نئے کپتان نے گزشتہ روز دستخط کیے،مگر آج کے روز وہ سمری وزارت داخلہ کے لیگل ونگ کے پاس پہنچی، وزارت داخلہ کے قانونی ماہرین کئی گھنٹے سر جوڑکر بیٹھے رہے۔
نکلا یہ کہ قانونی سقم بہت ہیں، سندھ حکومت کی یہ سمری منظور نہیں ہو سکتی،لیگل ٹیم نے سندھ حکومت کی سمری کو ابتدائی طور پر مسترد کردیا ۔
وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کی قانونی ٹیم کی رائے تھی کہ سندھ حکومت کی سمری قانونی تقاضے پورے نہیں کرتی، سمری آئین کے آرٹیکل 147 کے مطابق نہیں ،قانونی ٹیم نے معاملات پر آئینی و قانونی اعتراضات سامنے اٹھا کر معاملہ حتمی فیصلے کے لیے وزیر داخلہ کو بھجوا دیا۔
ذرائع کہتے ہیں کہ معاملہ پھنسا وہیں ہے جس کی نشاندہی گزشتہ روز وزیر داخلہ نے کی تھی ،سندھ حکومت کی سمری وفاق کو منظور ہے یا نہیں؟ ہے تو کن شرائط پر؟ نہیں تو کیوں؟ بات مزید کھلنے کا انتظار ہے مگر جب تک یہ معاملہ وفاق اور صوبے کے بیچ میں ہے رینجرز سندھ میں بے اختیار رہے گی