14.10.2026, 09:22am , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

صوفی غلام مصطفی تبسم 4 اگست 1899ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے
04.08.2016, 04:05am , جعمرات (GMT+1)

صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی پیدائش

اردو، فارسی اور پنجابی کے نامور شاعر، ادیب، نقاد اور عالم صوفی غلام مصطفی تبسم 4 اگست 1899ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ امرتسر اور لاہور سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد وہ لاہور کے تعلیمی اداروں سے بطور استاد وابستہ رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر، لیل و نہار کے مدیر اور کئی دیگر اداروں میں اعلیٰ عہدوں سے منسلک رہے۔
صوفی تبسم اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، شاعر، استاد، شارح، مترجم، نقاد اور ادیب ان کی شخصیت کی مختلف جہتیں تھیں، پہلے اصغر پھر تبسم تخلص کیا۔ ان کی اردو اور فارسی شاعری کے کئی مجموعے شائع ہوئے۔ انہوں نے بچوں کی شاعری کے حوالے سے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ ان کا تخلیق کردہ کردار ٹوٹ بٹوٹ انہیں بچوں کے ادب میں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔
انہیں حکومت ایران نے نشان سپاس اور حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔
7 فروری 1978ء کو صوفی غلام مصطفی تبسم لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
--------------------------------------------------------------------------------

مشتاق احمد یوسفی کی پیدائش

٭4 اگست 1923ء اردو کے عظیم مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی تاریخ پیدائش ہے۔
مشتاق احمد یوسفی ٹونک (بھارت) میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے معاشیات میں ایم اے کیا اور پھر بنکاری کے شعبے کو ذریعہ معاش بنایا۔ وہ کئی بنکوں کے سربراہ رہے اور پاکستان بینکنگ کونسل کے چیئرمین کے عہدے پر بھی فائز رہے۔
مشتاق احمد یوسفی کا شمار اردو کے صف اوّل کے مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کی تصانیف میں چراغ تلے، خاکم بدہن، زرگزشت اور آب گم کے نام شامل ہیں۔ ظہیر فتح پوری نے ان کی تحریروں کے بارے میں کہا تھا کہ ہم اردو مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں۔
مشتاق احمد یوسفی کراچی میں مقیم ہیں۔
--------------------------------------------------------------------------------

اخلاق احمد کی وفات

٭4 اگست 1999ء کو پاکستان کے نامور گلوکار اخلاق احمد لندن میں وفات پاگئے۔
اخلاق احمد 1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہوں نے کراچی کے اسٹیج پروگراموں میں شوقیہ گلوکاری کا آغاز کیا۔ 1971ء میں انہیں کراچی میں بننے والی فلم ’’تم سا نہیں دیکھا‘‘ میں گلوکاری کا موقع ملا۔ اس فلم کے موسیقار امیر احمد خان اور نغمہ نگار یونس ہمدم تھے۔ اس کے بعد فلم ’’بادل اور بجلی‘‘ اور ’’پازیب‘‘ میں بھی اخلاق احمد کے گیت شامل ہوئے مگر وہ بھی زیادہ مقبول نہ ہوسکے۔ 1974ء میں اداکار ندیم نے اپنی ذاتی فلم ’’مٹی کے پتلے‘‘ میں اخلاق احمد کے آواز میں ایک نغمہ شامل کیا اور لاہور ہی میں موسیقار روبن گھوش نے اخلاق احمد کی آواز میں اپنی فلم ’’چاہت‘‘ کا ایک نغمہ ’’ساون آئے، ساون جائے‘‘ ریکارڈ کروایا۔ یہ نغمہ اختر یوسف نے تحریر کیا تھا۔ یہ نغمہ اخلاق احمد کے فلمی سفر کا سب سے مقبول نغمہ قرار پایا۔ اس نغمے پر انہیں خصوصی نگار ایوارڈ بھی عطا ہوا۔
اسی دوران اخلاق احمد نے پاکستان ٹیلی وژن پر بھی گلوکاری کا آغاز کیا اور وہ ٹیلی وژن کے بھی مقبول گلوکار بن گئے۔ ساتھ ہی ساتھ فلمی دنیا میں بھی اخلاق احمد کی مقبولیت کا سفر جاری رہا۔ شرافت، دو ساتھی، پہچان، دلربا، امنگ، زبیدہ، انسان اور فرشتہ، انسانیت، مسافر، راستے کا پتھر، آئینہ، سنگم، آدمی، پرنس، انمول محبت، خاک اور خون، بندش، مہربانی، نادانی، دوریاں، بسیرا، لازوال ایسی فلمیں ہیں جن میں اخلاق احمد کے گائے ہوئے گیت بے حد پسند کئے گئے۔
اخلاق احمد نے اپنی فنی زندگی میں 90 اردو فلموں میں مجموعی طور پر 140 نغمات گائے۔ ان کے 90 فیصد گانے سننے والوں میں بے حد مقبول ہوئے۔ انہوں نے مجموعی طور پر آٹھ نگار ایوارڈ حاصل کئے۔
1985ء میں انہیں خون کے سرطان کا موذی مرض تشخیص ہوا۔ انہیں علاج کے لئے لندن لے جایا گیا۔ وہ 14 برس تک اپنی جان لیوا بیماری سے لڑتے رہے مگر 4 اگست 1999ء کو اس بیماری کے ہاتھوں شکست کھاگئے۔ وہ کراچی میں آسودۂ خاک ہیں۔
--------------------------------------------------------------------------------

محمود صدیقی کی وفات

٭4 اگست 2000ء کو ٹیلی وژن اور ریڈیو کے معروف فن کار محمود صدیقی کراچی میں وفات پاگئے۔
محمود صدیقی 1944ء میں سکھر کے نزدیک ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد انہیں عالم دین بنانا چاہتے تھے لیکن وہ سیاست کی جانب مائل تھے۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز سندھ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے کیا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کی۔ انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور شیخ ایاز کے جونیئر کے طور پر وکالت کے میدان میں قدم رکھا تھا۔ انہوں نے کچھ وقت ریڈیو پاکستان میں انائونسمنٹ بھی کی اور کچھ عرصہ کے لئے روزنامہ ’’ہلال پاکستان‘‘ میں بھی کام کیا۔ 1973ء میں محمود صدیقی نے پاکستان ٹیلی وژن کے سندھی ڈرامہ بدمعاش سے اپنی ٹیلی وژن کیریئر کا آغاز کیا اور زینت، گلن وار چوکری، تلاش اور رانی جی کہانی میں کام کرکے مقبولیت حاصل کی۔ رانی جی کہانی کو بعد میں ’’دیواریں‘‘ کے نام سے اردو میں بھی پیش کیا گیا جس کے بعدمحمود صدیقی نے ملک گیر شہرت حاصل کرلی۔ بعدازاں اردو ڈرامہ سیریل جنگل ، قربتوں کی تلاش، دنیا دیوانی اور کارواں نے ان کی شہرت کو مزید استحکام بخشا۔ کارواں میں انہوں نے بہترین اداکار کا پی ٹی وی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔
انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر کے لئے نہلے پہ دہلا کے نام سے ایک سیریل بھی بنائی تھی جسے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل نے تین مرتبہ نشر کیا مگر محمود صدیقی کو اس سیریل کے بدلے میں طے شدہ رقم کا صرف دس فیصد حصہ ادا کیا۔محمود صدیقی نے یہ سیریل قرض لے کر بنایا تھا چنانچہ وہ ان مالی مشکلات سے بے حد دلبرداشتہ ہوئے اور اسی غم میں وفات پاگئے۔
محمود صدیقی کراچی میں ڈالمیا کے نزدیک واقع قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

:دیگر مضامین
(03.08.2016) ٭3 اگست 1962ء کو اداکارہ شبنم کی پہلی فلم ’’چندا‘‘ ریلیز ہوئی
(02.08.2016) ٭ پاکستان کے نامور انقلابی رہنما حسن ناصر کی تاریخ پیدائش  2اگست1928ء ہے
(01.08.2016) ن۔م۔ راشد یکم اگست 1910ء کواکال گڑھ ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے
(31.07.2016) ٭31 جولائی 1893ء مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی تاریخ پیدائش ہے۔
(30.07.2016) اُردو سوسائٹی ریڈنگ کے تحت پاک و ہند مشاعرہ
(30.07.2016) ٭30 جولائی 1978ء کو زیارتریذیڈنسی کا نام تبدیل کرکے ’’قائداعظم ریذیڈنسی‘‘ رکھ دیا۔
(29.07.2016)  پاکستان  کے  نامور براڈ کاسٹر مصطفی علی ہمدانی کی تاریخ پیدائش 29 جولائی1909ء ہے
(28.07.2016) ٭28 جولائی 1994ء کو منور الزماں کراچی میں  وفات پاگئے۔
(27.07.2016)  نشان حیدر حاصل کرنے والے کیپٹن محمد سرور کا یوم شہادت 27جولائی 1948ء ہے۔
(26.07.2016) چھبیس جولائی 1967ء کومینار پاکستان کی تعمیر مکمل ہوئی
(25.07.2016) ٭25 جولائی 1985ء کو مشہور فلمی ہدایت کار سبطین فضلی دنیا سے رخصت ہوئے
(24.07.2016) ٭24 جولائی 1986ء کو قدرت اللہ شہاب اسلام آباد میں وفات پاگئے
(23.07.2016) ٭23جولائی 1988ء کو ڈاکٹر جہانگیر خان لاہور میں وفات پاگئے۔
(22.07.2016) میجر طفیل محمد 22جولائی 1914ء  کو  مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہوئے
(21.07.2016) ٭21 جولائی 1950ء کو ناروے کے کوہ پیمائوں نے  ترچ میر کو سر کرلیا
(20.07.2016) ٭20جولائی 1994ء کو نامور مصورہ لیلیٰ شہزادہ اسلام آباد میں وفات پاگئیں۔
(19.07.2016) ٭19 جولائی 1894ء  خواجہ ناظم الدین کی تاریخ پیدائش ہے
(18.07.2016) مہدی حسن 18 جولائی  1927کوراجستھان کے ایک گاؤں لُونا میں پیدا ہوئے
(17.07.2016) ٭17 جولائی 1991ء کو جدید ٹی 90 ٹینک کی تقریب رونمائی
(16.07.2016)  سولہ جولائی 1990ءکوبدراوّل خلا میں روانہ ہوا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں