کرنل محمد خان کی پیدائش
٭ اردو کے نامور مزاح نگار اور مترجم کرنل محمد خان کی تاریخ پیدائش 5۔ اگست 1910ء ہے۔
کرنل محمد خان بلکسر ضلع چکوال میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی شہرت کا آغاز 1966ء میں ان کی پہلی تصنیف ’’بجنگ آمد‘‘ سے ہوا تھا۔ اس کتاب کی اشاعت نے انہیں راتوں رات اردو کے صف اول کے مزاح نگاروں میں شامل کردیا۔ ان کی دیگر تصانیف میں ’’بسلامت روی‘‘ اور ’’بزم آرائیاں‘‘ کے علاوہ تراجم پر مشتمل ایک کتاب ’’بدیسی مزاح‘‘ شامل ہیں۔
*23 اکتوبر 1999ء کو کرنل محمد خان راولپنڈی میں وفات پاگئے اور بلکسر ضلع چکوال میں آسودۂ خاک ہوئے۔
--------------------------------------------------------------------------------
کمال ایرانی کی پیدائش
٭ پاکستان کے مشہور کریکٹر ایکٹر کمال ایرانی کی تاریخ پیدائش 5 اگست 1932ءہے۔
کمال ایرانی کا اصل نام سید کمال الدین صفوی تھا اور وہ کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے فلم ’’چراغ جلتا رہا‘‘ سے اپنی فلمی زندگی کا آغاز کیا اور مجموعی طور پر 244 فلموں میں کام کیا۔ کمال ایرانی کی یادگار فلموں میں جاگ اٹھا انسان، جھک گیا آسمان، زرقا، مٹھی بھر چاول اور امرائوجان ادا کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کی آخری فلم سندھی زبان میں بننے والی فلم ’’میران جمالی‘‘ تھی جو ان کی وفات کے چند ماہ بعد 9 مارچ 1990ء کو ریلیز ہوئی تھی۔
12 ستمبر 1989ء کو کمال ایرانی وفات پاگئے
--------------------------------------------------------------------------------
آغا حسن عابدی کی وفات
٭5 اگست 1995ء کو پاکستان کے معروف بنکار آغا حسن عابدی طویل علالت کے بعد کراچی میں وفات پاگئے۔
آغا حسن عابدی 14مئی 1922ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے انگریزی ادب میں ایم اے اور قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بنکاری کا پیشہ اپنایا اور 1946ء میں حبیب بنک سے منسلک ہوئے اور وہ اس بنک کے متعدد انتظامی عہدوں پر فائز رہے ۔ 1959ء میں انہوں نے سہگل گروپ کی معاونت سے یونائیٹڈ بنک لمیٹڈ قائم کیا جو چند ہی برس میں پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا کمرشل بنک بن گیا۔ 1972ء میں جب پاکستان میں بنکوں کو قومی ملکیت میں لیا گیا تو آغا حسن عابدی نے متحدہ عرب امارات کے شیوخ کے مالی تعاون سے بنک آف کریڈٹ آف کامرس (BCCI) کے نام سے ایک بین الاقوامی بنک قائم کیا جس کی شاخیں بہت جلد دنیا کے 72 ملکوں میں پھیل گئیں۔
آغا حسن عابدی نے بی سی سی آئی کو ایک کمرشل بنک کی حیثیت سے قائم کیا تھا مگر اسے تیسری دنیا کے ممالک کے محروم پسماندہ اور کم مراعات یافتہ اقوام کی ترقی کے لئے ایک فعال ادارے میں ڈھال دیا۔ انہوں نے اپنے بنک کے زیر اہتمام متعدد خیراتی اور فلاحی ادارے اور فائونڈیشن قائم کئے جنہوں نے دنیا کے بہت سے ممالک خصوصاً پاکستان میں فلاحی کام سرانجام دیئے۔ کراچی اورنگی پائلٹ پروجیکٹ ،بی سی سی آئی فائونڈیشن، NUST اور غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایسے ہی چند ادارے ہیں۔ انہوں نے تھرڈ ورلڈ فائونڈیشن کے اہتمام میں ایک شاندار تحقیقی جریدہ سائوتھ بھی جاری کیا۔
* 1989ء میں اچانک عالمی طاقتوں کی ملی بھگت ، سازشوں اور کرپشن کے نتیجے میں بی سی سی آئی کو اپنا کاروبار سمیٹنا پڑ گیا۔ امریکا نے آغا حسن عابدی کو تفتیش کے لئے اپنے ملک میں طلب کرنا چاہا مگر حکومت پاکستان نے انہیں امریکا کے حوالے