14.10.2026, 06:59am , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

میں تو زندانی ہوں زنداں میں دریچہ کیسا ۔۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
07.08.2016, 04:50pm , اتوار (GMT+1)

نگہت نسیم ۔سڈنی
اس کو پہلی نظر میں دیکھو وہ بری امام کے دربار میں بیٹھی معتکف اللہ والی لگتی ہے جس سے بے اولاد مائیں یا پھر بیٹی کی شادی کے لیئے پریشان مائیں دعا کروانے آتی ہیں ۔ جب اس کے قریب ہو کر اس کے اندر جھانکیں تو ایک ایسا گہرا سمندر کہ اس کی تہہ تک پہنچ کر موتیوں سے مالامال سیپیوں سے موتی نکالنے کے لیئے ایک لمبا وقت درکار ہو ۔ 

جب تک اس سے میری فون پر بات ہوتی رہی میں نے اس کی شخصیت ، ذات اور رویئے کے کئی پنسل اسکیچ بنائے اور خود ہی انہیں مٹا دیئے کہ میرے بنائے ہوئے عکس اس کی آواز سے مماثلت نہیں رکھتے تھے ۔ میں نے اس کی آواز سے کئی مرتبہ زہن کے قرطاس پر تصویر کا رنگ دینے کی بھی کوشش کی لیکن وہ ہر مرتبہ ایک نئی شکل میں اجاگر ہوئی ۔ اس کی زندگی کے نشیب و فراز کی کہانیاں سنیں تو خاتون ہونے کے باوجود اسے مرد آہن کہنے کو جی چاہا۔ ٹھنڈے میٹھے سرائیکی لہجے میں اردو بولنے والی اس بے چین روح کا کوئی نام بھی تو ہو گا۔ اور آپ بھی یہ سوچ رہے ہونگے کہ میں نے اس بار ایک غیر روائیتی سا تعارف شروع کیا اور نام بتائے بغیر ۔۔ بوجھو تو جانیں کی پہیلی آپ کے سامنے رکھ دی ۔ 

میں کئی سال سے اس سے ٹیلی فون پر ہی گفتگو کرتی آئی تھی۔ لیکن اسی سال فروری میں جب پاکستان کے سفر کے دوران کراچی ، لاہور ، فیصل آباد  اور مری کی مسافرت طے کی تو دو روز کے لیئے اسلام آباد بھی جانا ہوا جہاں اس مختصر ترین مدت میں جیسے مصروفیت کا وقت ایک ہفتے کے برابر تھا۔ لاہور سے پنڈی تک کا ڈائیوو کا سفر میری زندگی کا انتہائی یادگار اسفار میں سے ایک ہے ۔ اور پھر پنڈی سے اسلام آباد تک اپنی میزبان کا گھر جیسے خوابوں کے کسی جزیرے تک رسائی حاصل کرنا ہو ۔ اسلام آباد سے مری کی سڑک پر مڑتے ہوئے چند میل کے فاصلے پر بارہ کہوہ کا وہ مقام ہے جہاں سے مری کی ہواؤں کی ٹھنڈک محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ اسی بارہ کہوہ پر بائیں ہاتھ  پر ایک پہاڑی پر ترتیب سے بنے ہوئے چند گھروں میں  سے ایک گھر  میری دوست کوثر ثمرین کا ہے ۔ 

پہلی مرتبہ روبرو ملاقات کی کہانی ایک الگ افسانہ ہے  جسے ضرور کبھی تحریر کرنے کی کوشش کرونگی ۔ پر اس وقت تو مجھے اس کوثر ثمرین کا شکریہ ادا کرنا ہے جو جب پہلی مرتبہ اپنی بانہوں کی پوری گرفت سے مجھے گلے ملی تو میں نے بری امام کے مزار پر بیٹھی جس اللہ والی کی تصویر  سڈنی میں بیٹھ کر زہن کے قرطاس پر بنائی تھی اس کی حقیقت اور حدت دونوں سچائی کے آیئنے میں اتر آئے ۔ 

میں نے کوثر ثمرین کے بارے میں اپنے اور اس کے مشترکہ استاد جناب صفدر ہمدانی سے بہت کچھ سن رکھا تھا لیکن اس پہلی ملاقات میں مل کر یوں لگا جیسے انہیں بھی بہت کچھ معلوم نہیں تھا۔ 

کوثر ثمرین کا تعلق پیروں فقیروں کی سر زمین سے ہے اور یہ جو وہ مجھے بری امام کے مزار کی اللہ والی سی لگتی تھی  اس کا لاشعوری تعلق اس کی جائے پیدائش مظفر گڑھ (ملتان) سے ہے جہاں قدم قدم پر پیروں فقیروں کے مزار اور آستانے موجود ہیں ۔ کوثر ثمرین کی زندگی کے کئی رخ ہیں ۔ ان میں سے کچھ جہتوں سے تو میں پہلے سے آگاہ تھی ۔۔ لیکن اس کی زندگی کے کچھ ابواب مجھ پر دو روزہ روبروملاقاتوں میں منکشف ہوئے ۔ 

میں ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ کوثر بنیادی طور پر شاعرہ ہے کہ براڈ کاسٹر ۔ کیونکہ یہی دو رخ پاکستان میں نشریات کی دنیا میں اس کی شناخت ہیں ۔۔ لیکن میرے لیئے اس کی سب سے بڑی شناخت اس کی وہ مقناطیسی شخصیت ہے جو محبت کے خمیر سے گوندھی گئی ہے ۔ مجھے یوں لگا جیسے کوثر کو ٹھوکر کھانے کے باوجود اعتبار کرنے کی سی عادت ہے ۔ آپ چاہے کوئی چیز اسکے سامنے جھوٹ ہی کہیں پر وہ آپ کا مان رکھنے کی خاطر اس کو سچ مانے گی ۔۔ اور شاید اپنے اس رویئے کی وجہ سے اسے عام زندگی میں بڑے سنگلاخ رستوں سے گزرنا پڑا ہے ۔۔ لیکن ہمارے اس مرد کے 
معاشرے  نے جسے موم کی گڑیا سمجھا تھا وہ فولاد کی عورت نکلی ۔ 

ازدواجی زندگی کے آسودہ پہلو ہوں یا دفتری معاملات میں عورت کی فوقیت ، اہلیت اور صلاحیت کو تسلیم نا کرنے کے رویئے اور ان کے اثرات کا کوثر نے  تن تنہا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ اور اپنی ساتھی خواتین کے لیئے عزم و حوصلے کی ایک مثال چھوڑی ۔ 

وہ اکثر کہا کرتی ہے کہ وہ شاید غلط صدی میں پیدا ہو گئی ہے ۔ کیونکہ بقول اس کے "میں فیصلے کرتی گئی اور اپنے رستے خود بناتی گئی ۔۔۔ پیچھے مڑ کر دیکھا نہیں کہ خوف تھا کہ کہیں پتھر کی نا ہو جاؤں ۔“ کوثر نے اپنی عملی زندگی میں خود کو تیسری دنیا کی وہ عورت ثابت کیا جس نے اپنے سر کے ست رنگی دوپٹے کو اپنی فتح کا پرچم بنایا اور امرتا پریتم نا ہونے کے باوجود اس جیسی باغی ضرور بنی ۔ مجھے یاد ہے کہ جب وہ ریڈیو پاکستان کے مشکل ترین نشریاتی مرکز میں سے اسکردو ریڈیو کی پہلی خاتون اسٹیشن ڈائریکٹر مقرر ہوئی تو وہاں کے ننانوے فیصد مردوں نے اسے زہنی طور پر اپنا افسر اعلی ماننے سے انکار کر دیا ۔ اوراس نےاپنے دوسالہ قیام میں جس عزم و حوصلے کے ساتھ بدعنوان معاشرے کے بد عنوان لوگوں کا سامنا کیا وہ کامیابیوں کی ایک زندہ مثال ہے ۔ 

کوثر ثمرین کی نشریاتی زندگی  کو پہلے تو میں نے قریب سے نہیں دیکھا تھا ۔ اب جو میں اس کی مہمان ہوئی  تو اس وقت وہ  ریڈیو پاکستان کے تربیتی ادارے “ براڈکاسٹنگ اکیڈمی “ کی وائس پرنسپل پروگرام تھی ۔ لیکن چونکہ ان اداروں کو اہلیت اور صلاحیت والے لوگ درکار نہیں ہیں سو مجھے یقین ہے کہ وہ اب تک ریڈیو اکیڈمی سے بھی ٹرانسفر ہو چکی ہو گی ۔ سو اس نے   اسی مناسبت سے مجھے ریڈیو اکیڈمی میں زیر تربیت پروڈیوسرز سے گفتگو کرنے کے لیئے مدعو کر رکھا تھا ۔ اس دو روزہ گفتگو میں مجھ پر کوثر ثمرین ایک ماہر نشریات کے طور منکشف تو ہوئی ہی لیکن اس کے ارد گرد کے لوگ اسے کیسے اور کتنا چاہتے ہیں اس کا احساس بھی ہوا اور یہ تجربہ بھی ہوا کہ تہذیب کے ادارے کی اس تربیت گاہ میں بھی مردوں کا معاشرہ کیسے ایک باصلاحیت عورت کو ہر قدم پر اس کے حق سے محروم کرنا چاہتا ہے ۔ اس کے باوجود اس نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا اور وہ اپنے حصے کا کام پوری تندہی سے کرتی رہی ۔ 

 کوثر کی زندگی کا حُسن اب اسکی بیٹی دُرنجف میں بھی جھلکتا ہے جو اسکی حیات کا محور بن چکی ہے۔ وہ در نجف کو اعلی تعلیم دلوا کر ایک مہذب اور کامیاب شہری بنانا چاہتی ہے اور میری دعا ہے کہ اللہ پاک اسکو اس حدف کو حاصل کرنے کا حوصلہ اور ہمت عطا کرے
 
کوثر کی شخصیت کا عکس اس کی شاعری میں اور شاعری کا اثر اس کی زندگی پر واضح نظر آتا ہے ۔۔ آیئے کوثر ثمرین کو پڑھتے اور سنتے ہیں ۔ 

لے گئے سارے کھلونے شہر کے سرمایہ دار 
میلے کپڑے والے بچے دیکھتے ہی رہ گئے 

یا پھر ۔۔ 

روشنی تازہ ہوا میرے مقدر میں نہیں 
میں تو زندانی ہوں زنداں میں دریچہ کیسا

 کوثر ثمرین ایسی شخصیت ہے جو ساتھ نا ہوتو ساتھ لگتی ہے اور دور ہو توپاس لگتی ہے ۔ مجھے کبھی لگا ہی نہیں کہ وہ مجھ سے دور ہے اور مجھے وقت نکال کر اس سے ملنے جانا ہے ۔۔ 

محبتوں کی تاثیر یہی تو ہوتی ہے لیکن محبتو ں کا ایک اور رنگ بھی ہوتا ہے کہ جتنی بھی قربت ہو دوری لگتی ہے اور یہی کشش بار بار اس کے پاس لے آتی ہے سو مجھ پر آجکل یہ رنگ بہت گہرا ہو رہا ہے اور دل چاہتا ہے کہ دوڑ کر کوثر ثمرین کے سامنے جا بیٹھوں اور وہ مجھے محبت سے کبھی یہ کہے اور کبھی وہ کہے ۔۔ کبھی نا جانے کا وعدہ لے لے تو کبھی جا کر بھول نا جانے کی قسم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوثر ثمرین مجھے تم سے ایک بار نہیں کئی 
بار ملنا ہے دوست ۔۔۔۔۔ باتیں بعد از حیات بھی  کریں گے ان شاء اللہ ۔۔۔۔ 
بہت بہت پیار ۔۔۔۔


:دیگر مضامین
(05.08.2016) چھ اگست 1945 کو امريکا نے جاپان کے شہر ہيروشيما پر ايٹم بم گرايا تھا
(05.08.2016) امام جعفر صادق علیہ السلام کا دور علمی ترقی اور پیشرفت کا دورتھا
(03.08.2016) دو اگست انیس سو نوے کو کویت پر عراق کا حملہ آج بھی میرے زہن میں تازہ ہے۔
(03.08.2016) برطانیہ کے شہر ریڈنگ کی اُردو سوسائٹی کے تحت پاک و ہند مشاعرہ
(01.08.2016) واٹس ایپ،میسنجراوراسکائپ ایک ساتھ استعمال کرنا اب ہوا آسان
(30.07.2016) زیادہ دیر ٹی وی دیکھنا زندگی کے دنوں کو کم کرسکتا ہے: تحقیق
(28.07.2016) برطانوی مطالعے سے ظاہر ہوا ہے کہ نوجوانوں نے خطوط نویسی کا فن کھو دیا ہے
(25.07.2016) چین: ایک ہی تنے پر بنے فن پارے نے ریکارڈ توڑ دیا
(23.07.2016) بھٹو صاحب کے جانشین اول – معراج محمد خان۔۔۔ضیا شاہد
(21.07.2016) برطانوی شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ مڈلٹن کا نیا سحر انگیز مومی مجسمہ
(20.07.2016) دنیا بھر میں199زبانیں معدومی کے قریب ہیں ۔ وڈیو نیوز
(17.07.2016) خریداری کے بدلتے انداز میں لوگوں کا مہنگائی کے باوجود دلچسپی میں اضافہ
(15.07.2016) اردو ادب کا اچھوتا افسانہ نگا ر سعادت حسن منٹو۔از۔امین ترمذی
(13.07.2016) انہدام جنت البقيع اہل بيت اطہار پر ايک اور بڑا ظلم:۔از۔سید اکمل حسین
(12.07.2016) تاریخ اسلام کے تلخ حقائق میں دردناک حقیقت کتب خانوں کا نذر آتش ہونا ہے
(10.07.2016) عبدالستار ایدھی اس عہد میں دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان تھے
(08.07.2016) قران مجید میں 14 سجدہ تلاوت ہیں ۔۔ طریقہ سجدہ تلاوت و دعا ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(06.07.2016) شوال کا پہلا دن عید سعید فطر ہے : ایس ایچ بنگش
(05.07.2016) شب القدر۔۔بخشش و راحت والی شب۔۔۔ از۔ شاہین اشرف علی
(01.07.2016) رمضان المبارک کا آخری جمعہ یوم ال قدس کے طور پر منایا جاتا ہے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں