15.10.2026, 08:14pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔
امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
 
عالمی خبریں
 

امریکی ڈرون حملے:براک اوباما کے کردار کی تفصیلات افشاء
07.08.2016, 09:48am , اتوار (GMT+1)

 امریکی حکومت ڈرون حملوں کے حوالے سے خفیہ پالیسی دستاویز منظر عام پر لے آئی جس میں ڈرون حملے سے قبل اہداف کا تعین اور اس عمل میں امریکی صدر کے کردار کی تفصیلات درج ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکن سول لبرٹیز یونین(اے سی ایل یو) کی جانب سے 18 صفحات پر مبنی پریزیڈنشل پالیسی گائیڈنس (پی پی جی) شائع کی گئی ہے جسے کبھی 'دا پلے بُک' کہا جاتا تھا۔

پی پی جی کے مطابق نامزد کردہ دہشتگرد اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ یہ حملہ جس حد تک ممکن ہو درست ہو اور اس میں بے گناہ شہریوں کی جان نہ جائے۔

پی پی جی کے مطابق جنگ زدہ علاقوں سے باہر پاکستان، لیبیا، صومالیہ اور یمن جیسے ممالک میں کسی دہشتگرد پر حملے کی منظوری امریکی صدر باراک اوباما دیتے ہیں جبکہ عراق، شام اور افغانستان وغیرہ میں حملوں کا کنٹرول امریکی فوج کے پاس ہوتا ہے۔

پی پی جی میں درج ہے کہ ہر کارروائی سے قبل نیشنل سیکیورٹی کونسل حملے کا قانونی جائزہ لیتی ہے جس کے بعد اسے صدر کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔

دستاویز کے مطابق انتہائی غیر معمولی حالات میں مطلوب ترین دہشتگرد پر ڈرون حملے سے قبل اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ اس میں کسی عام شہری کی ہلاکت نہ ہو۔

پی پی جی میں یہ بھی لکھا ہے کہ امریکا کو ڈرون حملے کرنے سے قبل دوسرے ممالک کی خودمختاری کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔

واضح رہے کہ اے سی ایل یو نے امریکی حکومت پر خفیہ ڈرون پروگرام کی تفصیلات کے حوالے سے کیس کررکھا تھا جس کے بعد حکومت کو تفصیلات جاری کرنی پڑیں۔

اے سی ایل یو کے ڈپٹی لیگل ڈائریکٹر جمیل جعفر کہتے ہیں کہ پی پی جی ان پالیسیوں کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتی ہے جن کی وجہ سے ہزاروں جانیں گئیں اور اس بیوروکریسی پر بھی روشنی ڈالتی ہے جو اوباما انتظامیہ نے ان پالیسیوں کو نافذ کرنے کیلئے قائم کررکھی ہے۔

پی پی جی کی اشاعت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا میں صدارتی انتخاب ہونے والے ہیں اور جلد ہی یہ تمام اختیارات کسی نئے صدر کے پاس چلے جائیں گے۔

واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ نے بھی 2009 سے 2015 تک ہونے والے ڈرون حملوں کی تفصیلات جاری کی تھیں اور بتایا تھا کہ اس دوران 473 حملے ان علاقوں میں کیے گئے جہاں جنگ جاری نہیں تھی۔

امریکی انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں میں 64 سے 116 عام شہری ہلاک ہوئے جبکہ 2 ہزار 581 سے زائد جنگجو مارے گئے تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ حکومت عام شہریوں کی ہلاکت کی تعداد کم بتاتی ہے۔

نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ صدر اوباما اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امریکی حکومت کو عوام کے سامنے انسداد دہشتگردی کے آپریشنز، ان کے طریقہ کار اور نتائج کے حوالے سے شفاف ہونا چاہیے۔

امریکی ٹی وی سی این این کی رپورٹ کے مطابق اگر کسی مشتبہ امریکی شہری یا امریکا میں رہنے والے کسی شخص کو نشانہ بنانا ہو تو طریقہ کار تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔

اگر صدر کے اعلیٰ قومی سلامتی کے عہدے داروں کے درمیان امریکی شہری کو ہدف نامزد کرنے پر اختلاف رائے پایا جاتا ہو تو یہ معاملہ صدر کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔

امریکی شہری کو نشانہ بنانے سے قبل محکمہ انصاف کی جانب سے اس کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ کارروائی قانونی اور آئینی ہو۔

کسی بھی دہشتگرد ٹارگٹ پر حملے کی منظوری کیلئے ضروری ہے کہ یہ بات ثابت کی جائے کہ وہ شخص اور اس کی سرگرمیاں امریکا اور اس کے شہریوں کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔

:دیگر مضامین
(07.08.2016)  اقوام متحدہ نے ہفتے کے روز یمن کی سنی حکومت اور شیعہ حوثی باغیوں کے درمیان امن بات چیت کو معطل قرار دیا ہے
(07.08.2016) بیلجیم: دو پولیس اہلکاروں کو زخمی کرنے والا خنجر بردار فائرنگ سے ہلاک
(06.08.2016) فرانس:بار میں آگ لگنے سے 13 افراد ہلاک،6 زخمی
(06.08.2016) قبرص میں 6 کروڑ سے زائد مالیت کی کوکین برآمد
(05.08.2016) مصری سیکیورٹی کے ہاتھوں سینائی میں داعش کا لیڈر ہلاک
(05.08.2016) ترکی کے لیے یورپی یونین کے دروازے بند کرناغلطی ہو گی
(04.08.2016) پنٹاگون نے پاکستان کی 30 کروڑڈالرکی دفاعی امدادروک دی 
(04.08.2016) امارات کے مسافر طیارے کی کریش لینڈنگ، دبئی ایئر پورٹ بند
(03.08.2016)  ڈونلڈ ٹرمپ روز نئے تنازع کے سبب خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں
(03.08.2016) سینکڑوں یہودی شرپسندوں کا حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار پردھاوا
(02.08.2016) فرانس.انتہا پسندی کے الزام میں بیس مساجد کو بند کیا گیا
(02.08.2016) خضر خان. بولے اور لکھے گئے الفاظ امانت کا درجہ رکھتے ہیں
(01.08.2016) کابل میں ایک ہوٹل پر خودکش حملے کے دوران ایک پولیس افسر ہلاک
(01.08.2016) جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو نے پہلی خاتون گورنر کا انتخاب کر لیا
(31.07.2016) افغان طالبان کے وفد کے دورہ چین کا انکشاف ہوا ہے
(31.07.2016) امریکا میں گرم ہوا کے غبارے کو حادثہ، 16 افراد ہلاک
(30.07.2016) ہندوستان کی این ایس جی رکنیت کیلئےامریکاپھر سرگرم ہو گیا
(30.07.2016) امریکی مسلمان فوجی کے والد کی ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید
(29.07.2016) انڈونیشیا میں 4 افراد کو سزائے موت ، درجنوں افراد کا احتجاج
(29.07.2016) ننگرہار: داعش کے ساتھ جھڑپ میں پانچ امریکی فوجی زخمی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں