نرالا کی پیدائش
٭پاکستان کے معروف مزاحیہ اداکار نرالا کی تاریخ پیدائش 8 اگست 1937ء ہے۔
نرالا کا اصل نام مظفرحسین زیدی تھا اور وہ دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے 1960ء میں فلم ’’اور بھی غم ہیں‘‘ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ ان کی دیگر فلموں میں ارمان، گھر داماد، ہم دونوں، جوکر، احسان، سمندر، دو راہا، ہیرا اور پتھر، لاڈلا اور نصیب اپنا اپنا کے نام سرفہرست ہیں۔
* 9 دسمبر 1990ء کو نرالا کراچی میں وفات پاگئے۔
------------------------------------------------------------------------------------------
ظفر شباب کی وفات
٭ 8 اگست 1994ء پاکستان کے معروف ہدایت کار ظفر شباب کی تاریخ وفات ہے۔
ظفر شباب مشہور ہدایت کار شباب کیرانوی کے بڑے صاحبزادے تھے۔ انہوں نے اپنی فنی زندگی کا آغاز 1968ء میں فلم ’’سنگدل‘‘ سے کیا جو مغربی پاکستان میں اداکار ندیم کی پہلی فلم تھی۔ ظفر شباب کی دیگر فلموں میں درد، فسانہ دل، کوچوان، آنسو بہائے پتھروں نے، میں بھی تو انسان ہوں، نیا راستا، سچا جھوٹا، قسمت، شکوہ، بھروسہ، آواز، وقت، ترانہ، آپ سے کیا پردہ، شادی مگر آدھی، ساس میری سہیلی، ایک چہرہ دو روپ اور کئی دیگر فلمیں شامل ہیں۔
وہ لاہور میں شباب اسٹوڈیوز کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔
------------------------------------------------------------------------------------------
کرار نوری کی وفات
٭8 اگست 1990ء کو اردو کے ممتاز شاعر،ادیب، مترجم اور صحافی کرار نوری کراچی میں وفات پاگئے۔
کرار نوری کا اصل نام سید کرار میرزا تھا۔ وہ غالب کے شاگرد آگاہ دہلوی کے پر پوتے تھے اور 30 جون 1916ء کو جے پور دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پہلے راولپنڈی اور پھر کراچی میں اقامت اختیار کی جہاں وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے۔
کرار نوری کا شعری مجموعہ ’’میری غزل‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے اس کے علاوہ ان کی نعتوں کا مجموعہ ’’میزان حق‘‘ کے نام سے ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔
وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
کرار نوری کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
اعتراف اپنی خطائوں کا میں کرتا ہی چلوں
جانے کس کس کو ملے میری سزا، میرے بعد