15.10.2026, 09:10am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
  تصویر میں خبر

مشقوں میں شرکت,روسی فوجی پاکستان پہنچ گئے



 
مضامین/تجزیات
 

سول عسکری تعلقات ۔حقائق کیا ہیں؟
08.08.2016, 04:25am , سوموار (GMT+1)

حذیفہ رحمٰن
پاکستان میں حالات کچھ سازگار نہیں ہیں۔ سول عسکری تعلقات میں تناؤ کے حوال سے کھل کر تبصرے کئے جارہے ہیں۔ دو روز قبل وزیراعظم نوازشریف کی آرمی چیف سے ہونے والی ملاقات کے حوالے سے ٹاک شوز،اخبارات سمیت ہرطرف چہ میگوئیاں کی جارہی ہیںکہ حالات مزید خرابی کی طرف جارہے ہیں۔دھرنوں کے حوالے سے بھی زبان زدعام ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کافی دباؤ کا شکار ہے۔جبکہ کئی حلقوں کی جانب سے یہ افواہیں بھی اڑائی جارہی ہیں کہ مدت ملازمت میں توسیع کی بار بار آفر کی گئی مگر دوسری جانب سے مکمل انکار کیا جارہا ہے۔گزشہ کئی دنوں سے مختلف نیوز پروگراموں میں کھل کر توسیع کامعاملہ زیر بحث لایا جارہا ہے۔جبکہ وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے سابق آمر پرویز مشرف پر کئے گئے تذکرے کو بھی غیر معمولی اہمیت دی جارہی ہے۔حالیہ معاملے کے پیچھے اصل حقیقت کیا ہے۔تمام بالا معاملات پر آج کھل کر تبصرہ کریں گے۔

یہ بات درست ہے کہ وطن عزیز میں موجودہ جمہوری حکومت ایک بڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔ اگر کہا جائے کہ حکمران جماعت کی کشتی کسی گرداب میں پھنسی ہوئی ہے تو شاید غلط نہیں ہوگا۔ مگر یہ بھی کہنا درست نہیں کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کو رخصت کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اب نوازشریف مزید وزیراعظم ہاؤس میں نہیں رہیں گے۔کیونکہ پاکستان کے عوام نے مسلم لیگ ن کو 2013کے عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے منتخب کیا۔جس کے بعد جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے حکمران جماعت بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتی رہی۔ ضمنی انتخابات میں ن لیگ کی فتح کا تناسب 95فیصد رہا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کی بات کریں تو پورے پنجاب میں مسلم لیگ ن کا کلین سوئپ کرنا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔آزادکشمیر کے عام انتخابات کو ہی لے لیں۔عوام نے نہ صرف کشمیر بلکہ پاکستان میں موجود کشمیر کے حلقوں سے بھی بھاری اکثریت سے مسلم لیگ ن کو کامیاب کرایا۔جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ووٹ دینے والے لوگوں نے عمران خان کے الزامات،دھرنا سیاست ،پانامالیکس،متحرب قوتوں کی منصوبہ بندی سمیت تمام معاملات کو یکسر مسترد کیا ہے۔آج اگر اس قدر واضح مینڈیٹ حاصل کرنے والی جماعت کے بار ے میں کہا جائے کہ جب ہمارا دل چاہے گا ،رخصت کردیں گے ۔تو یہ مناسب نہیں ہوگا۔منتخب حکومت دھرنوں یا کچھ لوگوں کی ذاتی خواہشات پر نہیں جانی چاہئے۔نوازشریف ان کے رفقاء میں بے انتہا خامیاں ہیں۔مگر تمام غلطیوں کا فیصلہ عوام کو انتخابات میں کرنا چاہئے نہ کہ طاقت کے ایوانوں میں۔آج جن معاملات کی وجہ سے سول اور عسکری تعلقات کچھ اچھے نہیں ہیں تو ان میں افغان،بھارت اور دیگر ممالک کے حوالے سے سفارتی پالیسی کے علاوہ ایک اہم معاملہ پاک چین اقتصادی راہداری کا بھی ہے۔حکومت پاکستان اور حکومت چین نے سی پیک کے حوالے سے ایک جے سی سی بنائی تھی۔جوائنٹ کوآرڈ نیشن کمیٹی کی سربراہی مشترکہ طور پر پاکستان اور چین کے وزیرمنصوبہ بندی و ترقی کو سونپی گئی تھی۔جبکہ باقی کمیٹی کے ممبران تھے۔حکومت پاکستان کی خواہش پر اس تاریخ ساز منصوبے کی سیکورٹی کی ذمہ داری پاک فوج کو سونپنے کا فیصلہ کیا گیا ۔جس کو انہوں نے اب تک بطریق احسن نبھایا ہے۔مگر پھر ایک ایسا لمحہ آیا ۔جس نے تناؤ کی فضا پیدا کردی۔مقتدر قوتوں کی خواہش تھی کہ انہیں اقتصادی راہداری میں صرف سیکورٹی تک محدود نہ کیا جائے بلکہ اہم شیئربھی دیا جائے۔اس حوالے سے باضابطہ طور پر خط و کتابت بھی کی گئی۔وزیراعظم نوازشریف جو خود سویلین بالادستی کے داعی ہیں اور مضبوط جمہوری پاکستان کا خواب دیکھتے ہیں۔انہوں نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی ،جو آج تک ہے۔منتخب حکومت کاموقف رہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری سمیت تمام ترقیاتی منصوبوں کا کریڈٹ سیاسی حکومت کو ملنا چاہئےاور وہ کسی دوسرے سے اسے شیئر نہیں کرنا چاہتے۔دیکھا جائے تو انتہائی مناسب بات ہے۔عدلیہ،انتظامیہ و دیگر ادارے سیاسی حکومت کا حصہ ہوتے ہیں۔نہ کہ کوئی ادارہ ہر کسی سے بالاتر۔عدلیہ کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ قانونی معاملا ت میں خودمختار ہوتی ہے مگر تما م مہذب معاشروں میں انتظامی معاملات میں وہ بھی جمہوری حکومت کے ساتھ چلتی ہے۔

آج سول و عسکری قیادت میں جن معاملات کی وجہ سے کچھ دوری ہے تو ان میں اقتصادی راہداری کا معاملہ سر فہرست ہے۔وزیراعظم نوازشریف آ ج کی تاریخ تک کسی کو بھی اس معاملے کا کریڈٹ دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ویسے تو چین میںحالیہ قیام کے دوران کمیونسٹ پارٹی کے صف اول کے رہنماؤں سے نشست رہی۔چین کے نائب وزیراعظم سمیت سب کی رائے وزیراعظم نوازشریف کی رائے سے ملتی جلتی تھی۔اس لئے عمومی طور پر جوتاثر دیا جارہا ہے کہ چین اقتصادی راہداری میں کسی کو حصہ دار بنانا چاہتا ہے اور پاکستان میں سویلین حکومت کے بجائے کسی اور کے ساتھ کام کرنے میں سنجیدہ ہے تو یہ سب باتیں مفروضوں سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔کل کا پتہ نہیں مگر آج کی تاریخ تک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں کسی کے مکمل ساتھ کے حق میں ہے تو وہ صرف پاکستان کی حکمران جماعت ہے۔یہ وہ حقائق ہیں جن کا یہ طالبعلم خود چشم دید گواہ ہے۔اس لئے ہماری ذمہ داری ہے کہ اگر مسلسل تصویر کا ایک رخ پیش کرکے بلاوجہ کا پروپیگنڈا کیا جارہا ہو تو حق بات کہنے میں حکمت یا جھجک سے کام نہیں لینا چاہئے۔

بہر حال آج وزیراعظم کی جس ملاقات کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ حالات ٹھیک نہیں ہیںتو شاید حالات اتنے خراب بھی نہیں ہیں۔ وزیراعظم کی عسکری قیادت سے ہونے والی ملاقات میں نیشنل ایکشن پلان پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ مگر کوئی مثبت چیز سامنے نہیں آئی۔ ویسے تو بیچاری سویلین حکومت کی اوقات ہی کیا ہے۔جس کا جب دل کرے مخصوص موضوعات کو زیر بحث لاکر منتخب وزیراعظم اور ان کی کابینہ کو دباؤ میں ڈال دے۔ مگر وزیراعظم نوازشریف بھی سیاسی شطرنج کے پرانے کھلاڑی ہیں۔ اہم ملاقاتوں کے بعد جنرل(ر) پرویز مشرف کا منترا پڑھنا۔ بہت سوں کے لئے پیغام ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ سویلین و عسکری معاملات میں دونوں ایک دوسرے سے برابر کے محتاط ہوتے ہیں۔ بلکہ اگر کہا جائے کہ سویلین حکومت سے دوسرا ادارہ زیادہ محتاط ہوتا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ دونوں کو یہ خدشہ رہتا ہے کہ پتہ نہیں وہ اب کیا کریں گے۔ جاتے جاتے گزشتہ رات کے ایک ٹاک شو کا تذکرہ کرتا چلوں ۔جس میں ملک کے ایک معروف اینکر اس خاکسار سے کہنے لگے کہ مسلم لیگ (ن) کے اکابرین توسیع کی درخواست لے کر جائیں گے۔ عرض یہ ہے کہ آج کے دن تک وزیراعظم نوازشریف مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے بالکل واضح ہیں۔ کل کا مجھے نہیں پتہ مگر اب تک ان کا یہی فیصلہ ہے کہ کسی کو کسی کے دباؤ میں آکر توسیع نہیں دی جائے گی۔ البتہ مسلم لیگ (ن) کے صف اول کے کئی رہنما اس حق میں ہیں کہ انہیں مدت ملازمت میں توسیع دینے کے حوالے سے لچک کا مظاہرہ کرنا چاہئے، مگر نوازشریف کی رائے ہے کہ 2014کے دھرنوں، مشرف کی روانگی کے بعد جو معاملات ٹھیک نہیں ہوئے وہ توسیع سے بھی ٹھیک نہیں ہوں گے او ر نوازشریف ایک سیاستدان ہیں۔ جنہیں اپنے 2018کے انتخابات کی بھی بھرپور فکر ہے۔ وہ بغیر کسی موثر دلیل(ضمانت) کے اپنے سیاسی کیرئیر کو بند گلی میں نہیں دھکیلنا چاہتے

:دیگر مضامین
(04.08.2016) ایک مرتبہ پھر پاک بھارت تعلقات انتہائی نچلی سطح ہیں
(20.07.2016) ملک چلانے کا یہ کون سا طریقہ ہے؟ایاز امیر
(17.07.2016)  زلزلے جس گھر کے فصیل و در میں رہتے ہیں۔ حسن نثار
(14.07.2016) مستقبل قریب کے موّرخ کا مژدہ ایک مرض الموت سے نجات۔ منو بھائی
(12.07.2016) مولانا عبدالستار ایدھی وفات پا گئے لیکن ایدھی زندہ ہے
(08.07.2016) مدینہ منورہ میں خودکش بم حملہ : سنگینی اور مضمرات
(05.07.2016) مہنگائی کے طوفان کے باوجودعید کی خریداری کا زور
(29.06.2016) پاکستان او ر برطانوی عوام کے رویئے اور نتائج، ڈاکٹر مجاہد منصوری
(26.06.2016) طالبان کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش؟ ۔ بابر ستار
(24.06.2016)  موسٹ وانٹیڈ وفاقی بجٹ ۔۔۔ از؛ محمدثقلین رضا 
(20.06.2016) پیمرا سے خبردار رہیں: سوال کرنا منع ہے۔سید مجاہد علی
(14.06.2016) سوشل میڈیا کی بیماری ،جس کا کوئی علاج نہیں
(06.06.2016) امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی خطرناک خلیج ۔عباس مہکری 
(03.06.2016) زلزلے کیوں آتے ہیں  ۔از:‌ڈاکٹر جہاں آراءلطفی ۔ پاکستان 
(31.05.2016) دل کے پھپھولے جل اُٹھے۔۔۔ از ؛ شاہد جمیل احمد 
(31.05.2016) گوادر، چاہ بہار کی ضرورت کیوں؟ اسرار بخاری
(27.05.2016) ایف سولہ لڑاکا طیاروں کا سودا: امریکہ کی ہارس ٹریڈنگ
(25.05.2016) ملا اختر منصور کی موت اور پاک امریکہ تعلقات پر اثرات
(18.05.2016) ایف سولہ لڑاکا طیاروں کا سودا: امریکہ کی ہارس ٹریڈنگ
(10.05.2016) حلب کب تک تباہی برداشت کر سکتا ہے؟ عبدالرحمان الراشد



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  شمس جیلانی   
  مزید ++
  صفدر ھمٰدانی    
  مزید ++
  ماہ پارہ صفدر   
  مزید ++
  ڈاکٹر نگہت نسیم   
  مزید ++
  زرقا مفتی   
  مزید ++
  سیدہ زائرہ عابدی۰بجو   
  مزید ++
  محمد احمد ترازی   
  مزید ++
  محمد عظیم اعظم   
  مزید ++
  عالم آرا   
  مزید ++
  سیدہ رافیعہ گیلانی   
  مزید ++
  شاہین اشرف علی   
  مزید ++
  اظہرالحق نسیم   
  مزید ++
  فرخندہ رضوی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں