پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں جمعرات کی صبح ہونے والے ایک بم دھماکے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 13 افراد زخمی ہو گئے۔
مرکزی شہر کوئٹہ کے علاقے زرغون روڈ پر جس وقت یہ دھماکا ہوا اس وقت وفاقی شرعی عدالت کے جج ظہور احمد شاہوانی کا قافلہ یہاں سے گزر رہا تھا اور بظاہر اس بم حملے کا نشانہ یہی قافلہ تھا۔دھماکے سے جسٹس شاہوانی تو محفوظ رہے لیکن ان کے قافلے میں شامل پولیس کی ایک گاڑی کو نقصان پہنچا اور اس پر سوار انسداد دہشت گردی فورس کے چار اہلکار زخمی ہو گئے۔
سکیورٹی فورسز اور امدادی کارکنوں نے فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ کر زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔
صوبائی وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ دھماکا ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے کیا گیا۔
"یہ ایک مصروف سڑک ہے جس کا فائدہ دہشت گردوں نے اٹھایا، وہ بم نصب کر کے موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے۔ اس دھماکے کا مقصد بلوچستان میں یوم آزادی کی تقریبات کو سبوتاژ کرنا ہے۔ لیکن اس سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور عوام کو "حقیقی معنوں میں" تبدیلی نظر آئے گی۔
اس واقعے کی تاحال کسی فرد یا گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن بلوچستان میں دہشت گرد گروپوں کے علاوہ علیحدگی پسند تنظیمیں بھی ایسی مہلک کارروائیاں کرتی رہی ہیں۔
یہ دھماکا ایک ایسے وقت ہوا ہے جب بلوچستان میں پیر کو کوئٹہ کے سول اسپتال میں ہونے والے بم حملے میں 70 سے زائد افراد کی ہلاکت پر سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔
پیر کو حملہ آوروں نے پہلے ایک وکیل رہنما بلال انور کاسی کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا اور جب ان کی لاش سول اسپتال منتقل کی گئی تو وہاں وکلا اور ذرائع ابلاغ کی ایک بڑی تعداد بھی جمع ہوگئی تو اسی اثنا میں یہاں ایک خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کی تھی۔
.................
وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق اجلاس میں 20نکاتی پلان کے تمام نکات پر یکساں عملدرآمد یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیاہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاق اورصوبوں کے درمیان انٹیلی جنس میکنزم مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کی منظوری دی گئی جبکہ وفاق صوبوں کو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے تمام وسائل فراہم کرے گا۔
اجلاس میں 20نکاتی پلان کے تمام نکات پر یکساں عملدرآمد یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت سیکورٹی سے متعلق اہم اجلاس میںآرمی چیف جنرل راحیل شریف ، وزیرداخلہ چودھری نثار اوروزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت اہم سیاسی و عسکری حکام نے شرکت کی ۔
اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاق صوبوں کو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے تمام وسائل فراہم کرے گا جبکہ قوانین سے خامی ہر سطح پر دور کی جائے
...................
وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس جاری ہے، جس میں کوئٹہ دھماکے کے بعد نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور ملک کی اندرونی سلامتی کی صورتحال پر غور کیا جارہا ہے۔
اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈی جی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر، ڈی جی ملٹری آپریشنز، ڈی جی انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی شریک ہیں۔
ڈان نیوز کے مطابق اجلاس میں سانحہ کوئٹہ کے بعد کی صورت حال پر غور کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب رواں ہفتے 8 اگست کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بار کونسل کے صدر بلال انور کاسی کے قتل کے بعد سول ہسپتال کے گیٹ پر ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد وکلاء کی تھی جبکہ صحافی برادری بھی اس کی زد میں آئی اور نجی نیوز چینلز آج ٹی وی اور ڈان نیوز کے کیمرہ مین حملے میں ہلاک ہوگئے۔
اس واقعے کے بعد گذشتہ روز قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی نے کہا تھا 'نواز شریف ملک کے چیف ایگزیکیٹو ہیں، انھیں سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کو کوئٹہ حملے کی انکوئری کاحکم دینا چاہیے'۔
کوئٹہ حملے کو انٹیلی جنس کی ناکامی قرار دیتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے مطالبہ کیا تھا کہ ان پر دھماکے کی ذمہ داری عائد کی جائے، 'اگر وہ کوئٹہ حملے میں ملوث عناصر اور اس کے ماسٹر مائنڈ کو تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو نواز شریف کو چاہیے کہ سیکیورٹی اور انٹیلیجنس اداروں کے متعلقہ افسران کو برطرف کردیں'۔
محمود خان اچکزئی نے مزید کہا تھا کہ حکومت ہندوستان کی خفیہ ایجنسی 'را' پر دہشت گردی کے الزامات لگانے کے بجائے اپنے اداروں کی ناکامی پر توجہ دے۔
اس سے قبل کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد سیکیورٹی سے متعلق ایک اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سیکیورٹی ایجنسیوں کو ملک بھر میں اسپیشل کومبنگ آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔
.................
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے ایک بڑے سرکاری اسپتال میں پیر کو ہونے والے خودکش بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 72 ہو گئی ہے جب کہ اب بھی درجنوں زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
بلوچستان بھر خصوصاً کوئٹہ میں منگل کو فضا سوگوار رہی جب کہ ملک بھر میں وکلا نے احتجاجی ریلیاں نکالیں۔
اُدھر پاکستانی کے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے انٹیلی جنس ایجنسیوں سے کہا ہے کہ وہ ملک بھر ’کومبگ آپریشن‘ یعنی تلاشی کی کارروائیاں تیز کرنے کے علاوہ دہشت گردوں کے چھپے ہوئے عناصر کے خاتمے کے لیے ٹارگیٹیڈ کارروائیاں پوری قوت سے بڑھا دیں۔
منگل کو جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس میں کوئٹہ بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ حملہ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔
جنرل راحیل شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیوں کو پاکستان کی مسلح افواج کسی صورت بھی ضائع نہیں ہونے دیں گی۔
اُنھوں نے فوجی کمانڈروں کو ہدایت کی کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے اُنھیں تمام ضروری مدد فراہم کریں تاکہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو مربوط اور موثر بنایا جا سکے۔
وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت منگل کو ہونے والے ایک اجلاس میں ملکی سلامتی کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا، اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں ایک ایسے نظریے کے خلاف جنگ کا سامنا ہے جو ہمارا طرز زندگی بدلنا چاہتا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ حکومت ایسے تمام اقدامات کرے گی جس سے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوئٹہ میں بہنے والا خون رائیگاں نا جائے۔
وکلا تنظیموں کا احتجاج
سول اسپتال کوئٹہ میں خودکش بم دھماکے میں مارے جانے والوں میں اکثریت وکلا تھی، بلوچستان بار کونسل کے صدر بلال انور کانسی کو پیر کی صبح دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا اور جب اُنھیں سول اسپتال منتقل کیا گیا تو بڑی تعداد میں وکیل بھی وہاں پہنچ گئے۔
اسی دوران اسپتال کے شعبہ حادثات کے باہر کھڑے وکلا، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے قریب ایک خودکش بمبار نے اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد دھماکا کر دیا تھا۔
پاکستان بھر میں وکلا کی تنظیموں کی کال پر منگل کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا، جب کہ چھوٹے بڑے شہروں میں وکیلوں نے احتجاجی ریلیاں بھی نکالیں۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیرانتظام ایک ریلی منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھی نکالی گئی، جس میں وکلا نے دہشت گردی کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی ظفر نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ سب سیاسی جماعتوں کو مکمل ہم آہنگی کے ساتھ دہشت گردوں سے نمٹنا ہو گا اور وکلا تنظیمیں اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ سیاسی جماعتیں اس راہ سے نا ہٹیں۔
بلوچستان میں سوگ
صوبائی حکومت نے اس واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا، جس کا آغاز منگل سے ہوا۔ بلوچستان میں تمام سرکاری و نجی عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہے۔
صوبے بھر میں تعلیمی ادارے بند رہے جب کہ اس واقعے کے خلاف شٹرڈاون ہڑتال کی وجہ سے مرکزی شہر کوئٹہ کے تمام کاروباری مراکز بند ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر بتائی جاتی ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ دہشت گرد اس طرح کی کارروائیاں کر کے لوگوں کا عزم کمزور کرنا چاہتے ہیں لیکن اُن کے بقول عسکریت پسند اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
’’ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ کوئٹہ شہر میں کومبگ آپریشن کریں گے اور بلوچستان کے جس بھی کونے میں اگر ایک بھی دہشت گرد موجود ہو گا تو اُس کے خلاف کارروائی کریں گے۔ عوام کو امن دینے کے معاملے پر میری حکومت اور اتحادی کسی صورت سمجھوتا نہیں کریں گے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس طرح کے واقعات کر کے ہمارے حوصلے پست کر دیں گے اور ہم پیچھے ہٹ جائیں گے تو یہ اُن کی بھول ہے۔‘‘
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کچھ گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں لیکن اُنھوں نے اس کی تفصیل بتانے سے معذرت کی۔
صوبائی حکومت نے اس خودکش بم حملے کی تحقیقات کے لیے پولیس سپرٹنڈنٹ ندیم حسین کی سر براہی میں چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
حکومت نے ایک خصوصی مرکز بھی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جہاں اس واقعے کے بارے میں کوئی بھی شخص اطلاع فراہم کر سکتا ہے۔
سول اسپتال میں ہونے والے خودکش حملے میں مارے جانے والے افراد کی تدفیناُن کے آبائی علاقوں چمن، ژوب، لورالائی، پشین، نوشکی اور دیگر اضلاع اور شہروں میں کر دی گئی۔
دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے علیحدہ ہونے والے ایک دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
کوئٹہ میں پیش آنے والا یہ اس سال کا دوسرا ہلاکت خیز واقعہ ہے۔ اس سے قبل مارچ میں لاہور کے ایک پارک میں ہونے والے خودکش بم دھماکے میں 74 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
سول اسپتال بم دھماکے کی امریکہ سمیت مختلف ملکوں، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی طرف سے مذمت کی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک بیان میں پاکستان کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اس واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کو یقینی بنائے
.................
آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا کہنا ہے کہ کوئٹہ دھماکا پاکستان کی عدلیہ پر بزدلانہ حملہ ہے، حملےمیں اسپتال کو نشانہ بنانا آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کو کم کرنا ہے۔
آئی ایس پی آرکے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس میں کوئٹہ دھماکےمیں جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاصل ثمرات ضائع نہیں ہونے دے گی۔
انہوں نے کمانڈرز اور انٹیلی جنس اداروں کو کومبنگ آپریشن بڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں اوران کےخفیہ ٹھکانوں کوپوری قوت سےختم کیا جائے، دہشت گردوں اور ان کے خفیہ ٹھکانوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں تیز کی جائیں۔
آرمی چیف نے کہا کہ کمانڈرز صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تمام ضروری مدد فراہم کریں،صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تربیت، وسائل، پلاننگ میں مدد دیں۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں ملک بھر میں جاری فوجی آپریشن اور انسداد دہشت گردی کے تناظر میں اندرونی و بیرونی سلامتی صور ت حال پر بریفنگ دی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئٹہ کے سول اسپتال میں دہشت گردی اور معصوم انسانی جانوں کے نقصان پر کوئٹہ سمیت ملک بھر کی فضا سوگوار ہے ۔بلوچستان حکومت نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، قومی پرچم سرنگوں ہے، وادی کوئٹہ میں آج فضا سوگوار ہے ۔
صوبائی وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال نے سانحہ کوئٹہ کے سوگ میں آج ضلع بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے، بلوچستان یونیورسٹی ، سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی اور بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی بھی آج بند رہیں گے ۔
وفاق اور پنجاب حکومت کی جانب سے ایک روزہ سوگ کے باعث تمام سرکاری اور نیم سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں ہے۔سانحہ کوئٹہ میں اپنے ساتھیوں کے جانی نقصان پر وکیل بھی غمزدہ ہیں، سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل کی اپیل پر آج یو م سوگ منایا جا رہا ہے۔
لاہور میں سانحہ کوئٹہ پر یوم سوگ میں سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہے۔ لاہور میںسپریم کورٹ رجسٹری اور ہائی کورٹ میں یوم سوگ ہے، وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہے ، صرف ارجنٹ مقدمات کی سماعت کی جا رہی ہے۔
سپریم کورٹ بار نے سات روز ، پاکستان بار ، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز اور لاہور چیمبر نے تین روز کے سوگ کا اعلان کیا ہے ۔ بار ایسوسی ایشنز کی اپیل پر آج ملک بھر میں عدالتی امور کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے، وکلابرادری مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں بھی نکال رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ وکلا سےاظہاریکجہتی کےلیےسٹی کورٹ کراچی پہنچے جہاں ایڈیشنل آئی جی نے سیکیورٹی پر بریفنگ دی،مراد علی شاہ نے سٹی کورٹ کے پارکنگ گیٹ کا معائنہ کیا۔
لاہور اور ڈسٹرکٹ بار ملتان میں سانحہ کوئٹہ کے شہداء کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی، سانحہ کوئٹہ پر پسرور بار ایسوسی ایشن کی ہڑتال جاری ہے، وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہے، پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے بھی آج یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے
.....................
.....................
شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ اور طالبان دونوں نے ہی پاکستانی شہر کوئٹہ میں ہونے والے خودکش بم حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
اس بم حملے میں ستر افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔ ایک مقامی ہسپتال کے مرکزی دروازے کے قریب یہ دھماکا اس وقت ہوا، جب وہاں درجنوں وکلاء اور مقامی میڈیا کے نمائندے موجود تھے۔ بتایا گیا ہے کہ فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہونے والے ایک معروف وکیل کی لاش کو وصول کرنے یہ تمام افراد اس ہسپتال پہنچے تھے۔
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دہشت گردوں کے خلاف خصوصی کومبنگ آپریشن کا حکم دے دیا، جس کے تحت خفیہ ایجنسیاں دہشت گردوں کو کہیں بھی نشانہ بناسکتی ہیں۔ کوئٹہ میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اہم ہدایات اور فیصلے ہوئے، آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں کیے گئے حملے میں بالخصوص سی پیک کو نشانہ بنایا گیا، دہشت گردوں کو خیبرپختونخوا میں شکست دے دی گئی ہے، اب ان کی توجہ کا مرکزبلوچستان بنا ہوا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیرصدارت کوئٹہ میں اہم سیکیورٹی اجلاس ہوا جس کے دوران آرمی چیف نے خصوصی کومبنگ آپریشن کا حکم دے دیا۔
آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری، چیف سیکریٹری اور کمانڈرسدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض بھی موجود تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ آج کا حملہ بلوچستان کی بہتر صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش ہے ، انٹیلی جنس ادارے دہشت گردی میں ملوث کسی بھی شخص کو نشانہ بنائیں گے،آج کا حملہ بلوچستان کی بہتر صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس سے قبل آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سول اسپتال اور بلوچستان ہائی کورٹ کا دورہ کیا، آرمی چیف نے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور دیگر ججز سے انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا جبکہ اسپتال میں زخمیوں کی تیمار داری کی اور ان سے اظہار یکجہتی کیا۔
.........................
سول اسپتال کوئٹہ میں دھماکے سے70افراد جاں بحق اور108سے زائد زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں بلوچستان بار کے سابق صدرباز محمد کاکڑ بھی شامل ہیں۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی آوازدور دور تک سنی گئی، دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔وزیر اعظم نواز شریف نے صوبائی حکومت کو واقعے میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔
کوئٹہ کے علاقے منوجان روڈ پر بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلاول انور کاسی نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے تھے، ان کی میت سول اسپتال لائی گئی تھی ، جس کی وجہ سے وکلا کی بڑی تعداد اسپتال میں موجود تھی کہ اسپتال کی شعبہ حادثات کے بیرونی دروازے پر زور دار دھماکا ہوا، دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
دھماکے کے نتیجے میں52افراد جاں بحق ہوگئے، جاں بحق ہونے والوں میں بلوچستان بار کے سابق صدرباز محمد کاکڑ اورآج نیوزکا کیمرہ مین شہزاد بھی شامل ہے، جبکہ ڈان نیوز کے کیمرہ مین سمیت 108سے زائد افراد زخمی ہیں، زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ شدید زخمیوں کو سی ایم ایچ اور دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
دھماکے کے بعد اسپتال میں افراتفری مچ گئی اورلوگ اپنی جان بچانے ادھر ادھر بھاگنے لگے،اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
سیکورٹی اور ریسکیو ادارے جائے وقوع پر پہنچ گئے اور اسپتال کے داخلی دروازے بند کرکے امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔
وزیر اعظم نواز شریف نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کوواقعے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار ی کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ کسی کو صوبے کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سانحے کے خلاف ملک بھر میں ایک ہفتے سوگ منانے کا اعلان کیا ہے
کوئٹہ دھماکے کے بعد آئی جی سندھ نے صوبے بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ جاری کردیاہے۔ شہر کے اہم مقامات پر گشت بڑھانے کی بھی ہدایت کردی۔
کوئٹہ سول اسپتال کے شعبہ حادثات کے مرکزی دروازےپر دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور دو درجن کے قریب افراد کے زخمی ہونے کے بعد آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے صوبے بھرمیں سیکورٹی ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔آئی جی سندھ نے صوبے کے تمام ایس ایچ اوز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں میں گشت بڑھائیں اور جرائم پیشہ عناصر پر کڑی نظر رکھیں ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس افسران دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مسلسل رابطے میں رہیں اور معلومات کے تبادلے کو موثر بنائیں ۔
صوبے بھرمیں اسنیپ چیکنگ، ریکی کو مزید سخت کیاجائے۔ آئی جی سندھ کے مطابق صوبے کے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی اور سرچنگ سخت کی جائے جبکہ تمام ضلعی ایس ایس پیز، ایس ڈی پی علاقوں میں سیکورٹی کے اقدامات کی مانٹرنگ کو یقینی بنائیں