"چلو نا ہم بهی مرتے ہیں "
سنا ہے آج کل مرنے کے اچهے بهاؤملتے ہیں
علاقے، نسل اور فرقے کی بنیادوں پہ مرتے ہیں
اگر زخمی ہوئے تو کم سہی، کچهہ ہاتهہ آئے گا
اگر اعضا کٹیں گے تو بہت کچهہ پهر بهی پائیں گے ...
محبت، ترس، ہمدردی حکومت بهی جتائے گی
ہمارا ذکر ہو گا اور ... ٹی وی پر بهی آئیں گے
چلو نا ہم بهی مرتے ہیں
کہاں جائیں ؟
پشاور؟ یا کراچی؟ یا کہ پهر ہم گوجرہ جائیں
کوئٹہ بهی اگر ممکن ہے, ناممکن نہیں تهر بهی
بتاو تو !!
کہاں کی اک خبر پر سینکڑوں دلگیر ہوتے ہیں؟
کہاں جائیں؟
کلیسا ؟ یاکہ مسجد ؟ یا اماموں کا در اقدس؟
سنو ! ہم تو مسلماں ہیں،
ہمیں اسلام سے گہری محبت ہے
چلو دارالحکومت اسلام آباد چلتے ہیں
جہاں آباد ہونا تها وہیں برباد ہوتے ہیں
کہاں پہ قتل ہوں کہ پهر ہمارے نام کے آگے
شہید قوم کے اک لفظ کا خونیں اضافہ ہو
سلام قوم مل جائے،
صف ماتم بهی بچهہ جائے
ہر اک قاتل، ہر اک شاہد بهی مالا مال ہو جائے
ہمارا رزق اٹهہ جائے،
کسی کا رزق لگ جائے
ہمارا گهر ہے، بچے ہیں بہت سی ذمہ داری ہے
ہمیں مرنا تو ہے اک دن تو کیوں نا آج مرجائیں
سنا ہے آج کل مرنے کے اچهے بهاوء ملتے
ہیں