14.10.2026, 07:03am , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
صحت/سائینس
 

انسانی ناک کے جراثیم سے نئی اینٹی بایوٹک دریافت
12.08.2016, 11:15pm , جمہ (GMT+1)

جرمنی کے سائنس دانوں نے انسانی ناک میں پایا جانے والا ایک بیکٹیریا دریافت کیا ہےجو اینٹی بایوٹک کا کام دیتا ہے اور اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ اس کا بسیرا ہماری ناک میں ہوتا ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق انسانی ناک کے نتھنوں میں دریافت کیا جانے والا بیکٹریا ایک اینٹی بایوٹک مرکب پیدا کرتا ہے، جو کئی خطرناک پیتھوجینز، سپر بگ سمیت سب سے سخت جان جرثومے 'ایم آر ایس' کو مار سکتا ہے، جن پر تمام اینٹی بایوٹکس ادوایات بے اثر ہیں۔

ابتدائی مرحلے کے نتائج جریدہ 'نیچر' کے تازہ ترین شمارے میں شائع ہوئے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ محققین انسانوں کی ناک میں پائے جانے والے ایک بیکٹیریا کا مطالعہ کر رہے ہیں اور اس علم کو ادویات سے مزاحم انفیکشنز سے لڑنے کے لیے ممکنہ نئی اینٹی بایوٹک دوا 'لگڈنن' بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

تحقیق کی بنیاد:

اینٹی بایوٹک سے مزاحمت ایک عالمی صحت کا مسئلہ ہے اور اس کی معروف مثال ایم آر ایس اے جرثومہ ہے، کیونکہ یہ پینسلین ادویات پر ردعمل ظاہر نہیں کرتا ہے۔

سپر بگ ایسے جراثیم کو کہا جاتا ہے جن کے خلاف متعدد اقسام کی اینٹی بایوٹکس ادوایات اثر نہیں کرتیں، جبکہ ایم آر ایس اے اسپتالوں سے منتقل ہونے والے انفیکشنز میں سے ایک ہے۔

جرمنی کی توبنجن یونیورسٹی کی قیادت میں کی جانے والی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ بیکٹریا قدرتی طور پر ہمارے جسم میں موجود ہیں اور مختلف طرح کےجرثوموں کے ساتھ مسلسل مقابلہ میں ہیں جبکہ نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان میں سےکچھ حریف جرثوموں کو مارنے کے لیے دافع جراثیم یا اینٹی بیکٹیریل قسم کا مادہ تیار کرتے ہیں اور اسی پر نئی تحقیق کی بنیاد ہے۔

محققین نے کیا دریافت کیا:

لیبارٹری مطالعہ کا مقصد اسٹیفالوکوکس اورئیس بیکٹریا گروپ (ایم آر ایس اے انفیکشنز )کو روکنے کے لیے نئی اینٹی بایوٹکس تیار کرنا تھا۔

نئی تحقیق میں محققین کو انسانی جسم میں اسیٹفالوکوکس اورئیس کےخاتمے کے لیے اینٹی بایوٹک کمپاونڈ ملا ہےجو قدرتی طور پر ناک کے نتھنوں ،جلد اور سانس کی نالیوں میں پایا جاتا ہے۔

فیصد آبادی کے ناک میں یہ جرثومہ نہیں ہوتا ہے۔ جبکہ زیادہ تر کیسسز میں یہ بیکٹریا تشویش کا باعث نہیں تھا لیکن حالیہ دہائیوں میں اس جراثیم نے عام استعمال ہونے والی اینٹی بایوٹکس ادویات سے مزاحمت تیار کی ہے۔

محققین کو انسانی ناک میں ایک دوسرا جراثیم اسٹیفالوکوکس لگڈننسس کی قسم بھی ملی ہے، جو اورئیس جراثیم کے ہمراہ ناک میں رہتا ہے اور اپنی بقا کی لڑائی میں مخالف جراثیم کو مارنے کے لیےدافع جراثیم خامروں کی پیداوار کرتا ہے۔

ناک کے جراثیم ہماری مدد کے لیے اینٹی بایوٹک تیار کرتے ہیں:

حیرت انگیز اینٹی بایوٹک لگڈنن ناک کے رہائشی جراثیم اسٹیفالوکوکس لگڈننسس کی طرف سے تیار کی جاتی ہے۔

فیصد میں ممکنہ وبائی بیکٹریا کو پناہ دی تھی۔

فیصد اورئیس بیکٹریا پائے گئے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی ناک میں یہ جراثیم اورئیس جرثوموں سے دور رہنے میں مدد دیتا ہے۔

ایسے وقت میں جب دنیا اینٹی بایوٹکس ادویات کےخلاف مزاحمت رکھنے والے جراثیم کے خلاف جنگ ہار رہی ہے وہیں یہ بلاشبہ ایک حیرت انگیز دریافت ہے۔

سائنس دانوں نے اس معلومات کے ساتھ کیا کیا:

نئے مطالعے میں محققین نے اس کے پیچھے چھپے جینیاتی میکانزم کی نشاندھی کی ہے اور کئی طرح کے لگڈنینس جرثوموں کا استعمال کرتے ہوئے اس کے جینیاتی کوڈ کو پتا لگایا ہے اور اس طریقے سے انھوں نےاس جین کا پتا لگایا ہے جس میں نئی اینٹی بایوٹک کو تیار کرنے کی ہدایات موجود تھی۔

اور وہاں سے جینیاتی انجنیرنگ کے ذریعے ایک مصفا کمپاونڈ 'لگڈنن‘ حاصل کیا ہے۔

کیا انسانی مائیکرو بایوم میں یہ پہلی اینٹی بایوٹک دریافت ہے:

اس کا جواب نہیں ہے کیونکہ پچھلے چند سالوں میں ہم نے یہ سیکھا ہے کہ انسانی مائیکروبایوم میں بیکٹریا اچھے اور برے اثرات والے مرکبات پیدا کرسکتے ہیں۔

سے زائد بیکٹریا کی اقسام کا گھرہے یہی وجہ تھی کہ ہم نے جسم کے اس مخصوص حصے کو دیکھا ہے۔

اور اس مطالعے نے ہمیں کچھ بہت غیر متوقع اور دلچسپ نتائج فراہم کئے ہیں جو اینٹی بایوٹکس کی تیاری کے لیے نئے تصورات کی تلاش میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

میں دریافت ہوئی تھی۔ جبکہ محققین کا کہنا تھا کہ نئی دریافت میں انسانی جسم میں پائے جانے والے مختلف اقسام کےخوردبینی جرثومے جنھیں مائیکرو بایوم کہا جاتا ہے،کی متبادل ذریعے کے طور پر اہمیت پر نظر ڈالی گئی ہے۔

نئی اینٹی بایوٹک کس طرح کام کرتی ہے:

نئی دریافت کو لگڈنن نام دینے سے متعلق جرمن محققین نے بتایا کہ یہ پیپٹائڈ اینٹی بایوٹک کی ایک نئی قسم کی پہلی عام مثال ہے۔

انھوں نے پہلے انسانی خون کے نمونوں اور پھر چوہوں اور ناک کے پھائےکامیاب تجربات کئے اور ثابت کیا کہ لگڈیونین اسٹیفالوکوکس انفیکشنز کو کم کرسکتا ہے۔

چوہوں کے ساتھ تجربات کے دوران محقق اینڈریاس کی ٹیم موثر طریقے سے اس کے ساتھ جلد کے انفیکشن کے علاج کرنے کے قابل تھی۔

انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ یہ اینٹی بایوٹکس ادویات سے مزاحم اسٹیفالوکوکس اورئیس یا ایم آر ایس اے اور مثبت بیکٹریا کی وسیع اقسام کے لیے موثر تھا۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

:دیگر مضامین
(09.08.2016)  انار میں تمام پھلوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ صحت کےفوائد ہیں
(07.08.2016) سورج کی شعاعوں میں چھپا ،ہائی بلڈ پریشر کا مفت علاج ،طبی ماہرین
(02.08.2016) ٹماٹر وٹامن اے ، سی اور فولک ایسڈ سے بھرپور ہوتاہے،ماہرین
(30.07.2016) کاجو بلڈ پریشر سے بچاؤ کے لیے مفید بتایا جاتا ہے
(27.07.2016) ناشتے میں دودھ کا گلاس دن بھرکیلئے توانا ئی دیتا ہے،ماہرین
(25.07.2016) کچھ لوگوں کو بہت زیادہ پسینہ کیوں آتا ہے؟
(22.07.2016) موٹاپے سے بچاﺅ کیلئے کتنی ورزش کی ضرورت؟
(20.07.2016) کمپیوٹر گیمز کھیلنے والے معمر افراد تیز چلتے ہیں: تحقیق
(17.07.2016) امریکی خلائی جہاز 'جونو' کا مشتری کے مدار میں سفر شروع
(15.07.2016) گوشت کا متبادل 'پھلیاں' وزن گھٹانے میں مددگار ہوتا ہے
(13.07.2016) امریکی فنکار نے مونگ پھلی کوخوبصورت فن پاروں میں تبدیل کرڈالا
(10.07.2016) سائنس دانوں نےجسمانی عمر جانچنے کا طریقہ دریافت کرلیا
(07.07.2016) عید اسپیشل : لذیذ شیر خورمہ بنانے کی آسان ترکیب
(05.07.2016) رات کو کتنی نیند صحت کے لیے ضروری ہے؟
(01.07.2016) انار کا چھلکا اور بیج بھی انتہائی فائدہ مند
(28.06.2016) پرتگال کی جھیل میں واقع15سو میٹرگہرا واٹر ہول
(25.06.2016) شدید گرمی میں توانائی . کھجور اس کیلئے اکسیر
(22.06.2016) ذیابیطس ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 میں کیا فرق ہے؟
(18.06.2016) روزانہ ایک پیالہ دلیہ کھانے کی عادت کینسر سے بچانے میں مددگار 
(15.06.2016) .مسواک کرنا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں