بنگلہ دیش کی ایک خصوصی ٹریبونل نے 1971 کی 'جنگ آزادی' میں انسانیت کے خلاف جرائم ثابت ہونے پر جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سابق قانون ساز کو سزائے موت جبکہ 7 دیگر افراد کو عمر قید کی سزا سنادی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹریبونل نے جماعت اسلامی کے سابق رکن اسمبلی سخاوت حسین کو سزائے موت سنا دی۔
سخاوت حسین اور ایک اور ملزم اس موقع پر عدالت میں موجود تھے جبکہ باقی 6 افراد کا ٹرائل ان کی غیر موجودگی میں کیا گیا۔
سخاوت اس وقت جماعت اسلامی کے اسٹوڈنٹ ونگ اسلامی چھترا شنگھا کے کمیٹی ممبر تھے، جن پر الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے گروپ کا ایک مقامی کمانڈر بن کر پاکستانی سپاہیوں کی مدد کی۔
رواں برس مئی میں بھی بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما مطیع الرحمٰن نظامی کو سزائے موت دے دی گئی تھی۔ 73 سالہ رہنما نے صدر سے رحم کی اپیل کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد انہیں پھانسی دی گئی۔
مطیع الرحمٰن نظامی کو 1971 کی جنگ کے موقع پر قتل، ریپ اور ملک کے دانشوروں کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں اکتوبر 2014 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
ان کا مقدمہ متنازع ٹرائل کورٹ میں چلایا گیا تھا، مذکورہ ٹرائل کورٹ بنگلہ دیش کی موجود حکمران جماعت حسینہ واجد کی انتظامیہ نے 2010 میں تشکیل دی تھی۔
ان ٹرائل کورٹس کے حوالے سے جماعت اسلامی اور اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی (بی این پی) کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ان کی قیادت کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔