قومی اسمبلی کے پہلے سپیکر۔ قائداعظم محمد علی جناح
(گیارہ اگست 1947 تا گیارہ ستمبر 1948)
قائداعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اسی شہر سے حاصل کی پھر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انگلستان تشریف لے گئے۔ جہاں انہوں نے 1896ء میں بار ایٹ لاء کا امتحان پاس کیا۔ وطن واپس لوٹنے کے بعد وہ وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوگئے اور پھر 1909ء میں مجلس قانون ساز کے رکن منتخب ہوئے۔
قائداعظم نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کانگریس میں شمولیت سے کیا، پھر کچھ عرصہ تک وہ کانگریس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کے رکن بھی رہے لیکن جب ان پر کانگریس کے انتہا پسند ہندو لیڈروں کے عزائم آشکار ہوئے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مسلم لیگ کے ہوگئے اور اس تنظیم کے پرچم تلے برصغیر کے مسلمانوں کو مجتمع کرنے میں مصروف ہوگئے۔
1929ء میں انہوں نے موتی لال نہرو کو نہرو رپورٹ کے جواب میں اپنے مشہور چودہ نکات پیش کیے۔ جن میں برصغیر کے مسلمانوں کے مسائل کا حل تجویز کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے لندن میں گول میز کانفرنسوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ پھر وہ کچھ عرصے کے لیے سیاست سے دلبرداشتہ ہوکر انگلستان ہی میں مقیم ہوگئے لیکن جب ہندوستان کے مسلمانوں نے انہیں اپنی قیادت کے لیے آواز دی تو وہ اس پر لبیک کہتے ہوئے وطن واپس لوٹ آئے۔
1937ء میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے اور پھر قیام پاکستان تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 1940ء میں ان کی زیر صدارت لاہور میں تاریخی ’’قرارداد پاکستان‘‘ پیش کی گئی جس میں واشگاف الفاظ میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا گیا۔ ان کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں یہ مطالبہ انگریزوں نے بھی تسلیم کیا اوربالآخر 1947ء میں دنیا کے نقشے پر ایک نئی مسلم مملکت ’’پاکستان‘‘ کا اضافہ ہوگیا۔
قیام پاکستان کے بعد قائداعظم، پاکستان کے پہلے گورنر جنرل اور دستور ساز اسمبلی کے صدر منتخب ہوئے۔ وہ پاکستان کے لیے بہت کچھ کرنے کے خواہاں تھے لیکن ان کی بیماری نے ان کے تعمیری منصوبوں کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے دیا اور مسلمانانِ پاکستان 11 ستمبر 1948ء کو اپنے اس عظیم رہنما کی قیادت سے محروم ہوگئے۔
------------------------------------------------------------------------------------------
قائداعظم کی تاریخی تقریر
٭قیام پاکستان سے چار روز قبل پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے قائداعظم محمد علی جناح کو اپنا پہلا صدر منتخب کیا۔ اس موقع پر قائداعظم نے جو تقریر کی وہ پاکستان اور پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے ایک رہنما تقریر سمجھی جاتی ہے۔ اس تقریر میں قائداعظم نے کہاکہ ہم نے جن حالات اور جس پرامن طریقے سے پاکستان کو حاصل کیا ہے وہ انتہائی نایاب و بے مثال ہے اور اب ہمیں پاکستان کو دنیا کے لیے ایک مثالی مملکت بنانا ہے۔ تقریر کے اختتام سے قبل قائداعظم نے پاکستان میں قیام پذیر اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ ترک وطن نہ کریں اور پاکستان کو ہی اپنا وطن بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اب آپ آزاد ہیں، اس مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں ، اپنے مندروں میں جائیں، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں آپ کا تعلق کسی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے ہو کاروبار مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ جیسے جیسے زمانہ گزرتا جائے گا نہ ہندو ہندو رہے گا، نہ مسلمان مسلمان، مذہبی اعتبار سے نہیں کیونکہ یہ ذاتی عقائد کا معاملہ ہے بلکہ سیاسی اعتبار سے اور مملکت کے شہری کی حیثیت سے ۔
کہا جاتا ہے کہ اس وقت کی نوکر شاہی نے قائداعظم کی اس تقریر کے بعض اقتباسات کو اخبارات میں چھپنے سے روکنا چاہتا تھا مگر روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین کی مزاحمت کے باعث ایسا نہ ہوسکا۔
*23 اکتوبر 2008ء کو حکومت پاکستان نے 11 اگست کے دن کو پاکستان کا قومی یوم اقلیت قرار دیا اور اس حوالے سے ملک بھر میں خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں۔ اس دن پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک یادگار ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا جس پر سینٹ پیٹرک کیتھڈرل کراچی، گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور اور ہندو ٹیمپل ٹیکسلا کی تصاویر شائع کی گئی تھیں۔ اس ڈاک ٹکٹ پرWe Care For All کے الفاظ بھی تحریر تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رحمن ورما کی وفات
٭11 اگست 2007ء کو پاکستان کے مشہور فلمی موسیقار رحمن ورما انتقال کرگئے۔
رحمن ورما کا اصل نام عبدالرحمن تھا اور وہ 1927ء میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے انہوں نے بابا جی اے چشتی سے موسیقی کی تربیت حاصل کی اور مشہور فلمی موسیقار خیام کے ساتھ ورما جی شرما جی کے نام سے فلموں کی موسیقی ترتیب دینا شروع کی۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئے اور 1955ء میں انہوں نے دیار حبیب میں ایک نعت ریکارڈ کروا کراپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ بطور سولو موسیقار ان کی پہلی فلم ’’باغی‘‘ تھی جو 1956ء میں ریلیز ہوئی جبکہ ان کی آخری فلم ’’دارا‘‘ 1976ء میں نمائش پذیر ہوئی۔ انہوں نے مجموعی طور پر 32 فلموں میں موسیقی ترتیب دی، جن میں دربار، آخری نشان، عالم آرا، ایک تھی ماں، بیٹا، کالا پانی، خاندان، نبیلہ، غدار، سسی پنہوں، الآصفہ اور فرض اور محبت کے نام سرفہرست ہیں۔
------------------------------------------------------------------------------------------
پاکستان کے چوتھے وزیر اعظم
چوہدری محمد علی 15 جولائی 1905ء کو ننگل انبیا، تحصیل نکودر ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔ 1928ء میں انڈین آئوٹ اینڈ اکائونٹس سروس میں شامل ہوئے اور تیزی سے ترقی کے مراحل طے کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔ قیام پاکستان سے پہلے جب عارضی حکومت میں لیاقت علی خان وزیر خزانہ بنے تو انہوں نے بطور مشیر اعلیٰ ان کاوہ بجٹ تیار کرنے میں بڑی مدد کی جسے غریبوں کا بجٹ کہا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کے پہلے سیکریٹری جنرل اور 1951ء میں وفاقی وزیر خزانہ بنے۔ 1955ء میں دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 11 اگست 1955ء سے 12 ستمبر 1956ء تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ ان کے عہد حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ پاکستان کے پہلے آئین کی منظوری تھا۔
ایوب خان کے مارشل لاء کے نفاذ کے بعد وہ عملی سیاست سے کنارہ کش ہوگئے۔ تاہم محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی انتخابات میں انہوں نے فعال کردار ادا کیا۔انہوں نے تحریک پاکستان کے موضوع پر Emergence of Pakistan
کے نام سے ایک کتاب بھی تحریر کی تھی جس کا ترجمہ ظہور پاکستان کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔
چوہدری محمد علی کا انتقال یکم دسمبر 1980ء کو کراچی میں ہوا۔