ایک اور آخری دن ۔۔۔۔۔۔۔۔ شہناز پروین سحر کی کتاب ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 12.08.2016, 11:32pm , جمہ (GMT+1)
نگہت نسیم ۔سڈنی
آپا شہناز پروین سحر سے جب بھی بات کریں یا ان پر کچھ لکھیں یوں لگتا ہے جیسے کتنے ہی زمانے روبرو ہو گئے ہوں ۔۔ وقت اپنی کلائی انہیں پکڑا دیتا ہے ۔۔ سانسیں انکی شعری تخلیق کو جوں جوں قرات کرتی جاتی ہیں ویسے ویسے محسوس ہوتا ہے جیسے ان کا کہا ہوا ، لکھا ہوا ایک ایک جملہ ، شعر ، نظم ، غزل فضاؤں میں ٹھہرا رہ جاتا ہے ۔۔ مجسم محبت ، میٹھی میٹھی آواز اور دھیمے لہجے میں شہناز آپا کی باتیں یاد کرنا مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے ۔۔
اردو شاعری سے اہل پنجاب کو الگ کر دیا جائے تو اردو کا وجود بے معنی رہ جائے گا ۔۔ پر اس حقیقیت کو تسلیم کرنا پھر اس شاعر یا شاعرہ کو اس کی مکمّل خوبیوں کے ساتھ تسلیم کرنا انتہائی مشکل کام ہو گیا ہے ۔۔۔
جیسے ہیرے کو کبھی مصنوعی چمک کی ضرورت نہیں ہوتی اسی طرح سے آپا شہناز پروین سحر کی شعری چمک کو ہم جیسے کسی بھی تبصرہ نگار کی ضرورت نہیں لیکن ہیرے کے ساتھ جڑے کم حثیت نگینوں کو رشک کرنے کے لیئے ہیرے کے ارد گرد رہناپڑتا ہے ۔ سو ہم بھی انہیں میں سے ایک ہے ۔۔ مجھے یاد ہے میں آپا کا انٹرویو ریڈیو نوترنگ کے لئے مورخہ 6 اپریل 2014 بروز اتوار کیا تھا جس کا زکر آپا نے اپنی کتاب کے پیش لفظ میں بھی کیا ہے ( بہت بہت شکریہ آپا ، یوں لگا جیسے میری محنت وصول ہو گئی ہو ) ۔ آپ سب وہ انٹرویو ٹیوب پر جا کر سن اور دیکھ سکتے ہیں ۔۔ ارے رکئے میں اسی مضمون میں کے آخر میں لگا دیتی ہوں تاکہ آپ کو کسی تکلیف سے ناگزرنا پڑے ۔ ۔۔۔ اس انٹرویو کو جتنا سراہا گیا تھا اتنی آج تک میرے کسی کام کوپذیرائی نہیں ملی ۔۔ ملتی بھی کیسے آپا جیسی برکتوں والا بھی تو کوئی ہو ۔۔۔۔۔
آیئے میں آپ کو انٹرویو کی خاص خاص جھلکیاں بتاتی ہوں ، جو میں نے دوران پروگرام لکھی تھیں ۔۔
انہوں نے کہا “ انہیں لگتا ہے جیسے کتاب ضروری نہیں ۔۔۔ اور خاص طور قاسمی صاحب کے جانے بعد خیال چھوڑ ہی دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر انہوں نے وعدہ کیا تھا ہم سب کے اصرار پر ضرور کتاب کی اشاعت کریں گی “ ۔ اور دیکھئے آج جب میں یہ مضمون لکھ رہی ہوں ان کی کتاب “ ایک اور آخری دن “ آپ سب کے ہاتھ میں ہے ۔
آپ نے یہ بھی بتایا ۔۔۔۔
“ مہدی حسن ، قاسمی صاحب ڈی ایم سے پہلے آپا سے ملنے آتے تھے“
“ منیر نیازی کوئی بدصورت لہجہ برداشت نہیں کر سکتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ اس لیئے منیر نیازی اکثر پی ٹی وی فون کرتے تو آپا سے نیا کلام سنانے کو کہتے اور جی ایم سے بات کیئے بغیر ہی صرف ان کو سن کر فون رکھ دیا کرتے تھے ۔۔۔“
“ نصرت جاوید اور نصرت ٹھاکر نے شہناز پروین سحر کے ڈرامے ڈائریکٹ کئے ۔۔ جن میں “مرگ مسلسل “ اور “پچھلی رات کے تارے “ شامل ہیں “
منو بھائی ۔۔ کے ساتھ کام کیا جب وہ اپنا گھر چلانے کے لئے اخبار کے لیئے کالم لکھا کرتی تھیں “
“ آپا کو اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے " جوش ملیح آبادی ، فیض احمد فیض ، احمدفراز، منیر نیازی ، احمد ندیم قاسمی اور پروین شاکر جیسی ہستیوں کے ساتھ مشاعرے پڑھے “
آپا کوہیپاٹائیٹس سی تھا جو انہیں دانتوں کے علاج کرواتے ہوئے ہوا ۔۔ ان دنوں وہ بہت بیمار تھیں ۔۔ بہت جلد تھک جاتی تھیں ۔ ۔ لیکن انہوں نے انٹرویو کے لیئے مسلسل دو گھنٹہ مجھ اور میرے "سامعین سے باتیں کیں ۔۔ ۔۔ آپا نے کتنا سچ کہا تھا اس دن ، بے شک ، " خدا بڑے لوگوں کو حوصلے بھی بڑے دیتا ہے “
مشکل زندگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا “ مشکلات انسان خود اپنے لیئے پیدا کرتا ہے “
آپا شہناز پروین سحر کا لہجہ انتہائی دلپذیر ، ان کا اظہار درد بھرا ، ان کا کلام ان کی شخصیت کی عملی تفسیر ہے اور ان کی شخصیت خود پر بیتی کا عندیہ دیتا ہوا کلام جیسا پراثر ہے ۔ انہوں نے بڑی محبت سے مجھےلکھا تھا “ اف نگہت پہلے تم نے انٹرویو کے لیئے خود کو ہلکان رکھا ۔۔۔ اب اس کے بعد بھی خود کو تھکائے دے رہی ہو ۔۔۔ وہ بھی میرے لیئے ۔۔۔ اتنی اہم نہیں ہوں میں ۔۔۔پلیز تم اپنی صحت کا خیال رکھو ۔۔۔ بہت دکھی ہوں میں یہ جان کر کہ ابھی یکم کو تمھارا آپریشن ہوا ۔۔۔ اور تم نے بلکل بھی اپنا خیال نہیں رکھا ۔۔“
آپا کاش میں آپ کوبتاسکتی کہ آپ مجھے کتنی محترم اور پیاری ہیں ۔۔آپ ایسی مہربان ہیں کہ اگر میں فون کرنے میں سستی کر جاؤں تو آپ کو فکر ہو جاتی ہے کہ میں کیسی ہوں ۔۔ نظموں غزلوں کی خبر گیری میں دیر کردوں تو آپ خود میری خبر گیری کے لئے فون کرلیتی ہیں ۔۔ مجھے دن رات دعاؤں میں یاد رکھتی ہیں ۔۔ میری کامیابی کے لئے دعاگو رہتی ہیں ۔ میرے گھر کی سلامتی اور خیر کو اپنی دعاؤں میں رکھتی ہیں ۔ اف اتنی خالص انسان اور گاڑھی معصومیت ہے آپ میں کہ میں حیران رہ جاتی ہوں ۔۔ سوچتی ہوں آپ سے ، آپ کے بارے میں جتنی بھی باتیں ہوں کم ہیں ..لگتا ہے بہت کچھ ہے ابھی کہنے کے لئے اور نہ کہنے کے لئے بھی ۔۔
آپا آپ کے اشعار مجھے اپنے دل کے بہت قریب لگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ سناؤں آپ کو ۔۔۔۔
اتنا معدوم ہوا وہ کہ نظر سے بچھڑا
لمس کی یاد بھی پوروں سے اٹھا لی اس نے
میں سماعت کا ہنر بھول ہی جاؤں نہ سحر
چھو کے دیکھی ہے میرے کان کی بالی اس نے
----------------------
یونہی بس وہ مجھکو چھوڑ کے سب سے ملتا رہتا ہے
بچہ بھی تو غلط کتابیں رکھ لیتا ہے بستے میں
------------------
وفا پسند تھا لیکن وفا شعار نہ تھا
وہ کچھ بھی تھا ہمیں اس سے محبتیں تھیں بہت
کبھی وہ لوٹ بھی آیا تو کیا ملے گا اسے
وجودِ خاک کو درپیش ہجرتیں تھیں بہت
---------------------
بس ایک مٹھی ستاروں کی دان کر آقا
میری زمین کو بھی آسمان کر آقا
دوستو !
ہر قلمکار کا مقام پڑھنے والوں کا دل ہوتا ہے ۔۔ اور آپا آپ کا مقام ہم سب کا دل ہے ۔۔ جس میں آپ کے لیئے بہت محبت ۔۔ بے حد عقیدت ہے ۔۔ آپا آپ کا ایکبار پھر شکریہ کہ آپ نے ہمیں ایک اتنی خوبصورت اور قیمتی" ایک اور آخری دن " دے کر اس پر مجھے لکھنے کے قابل جانا ۔۔۔ اللہ پاک آپ کو برکتوں والی لمبی عمر عطا فرمائے ۔۔۔ مجھے یقین ہےکہ ابھی کئی اور آخری دن ہیں جو ہم نے گننے ہیں ۔۔ پڑھنے ہیں ۔۔۔ یاد رکھنے ہیں ۔۔
آپا شہناز پروین سحرآپ کی صحت سلامتی کی ہزاروں دعائیں اللہ پاک کے حضور قبول ہوں ۔۔
عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے
ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور
ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور
بے لاگ صحافت ہے۔ . رابطہ ٹیلی فون: لندن447796515479+ ، آسٹریلیا
61425201035+ ، ای میل:
رابطہ@عالمی
اخبار۔کوم۔ جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں