14.10.2026, 09:21am , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

جنرل محمد ضیا الحق 12 اگست 1924 ء کوجالندھر میں پیدا ہوئے
12.08.2016, 04:03am , جمہ (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی
جنرل محمد ضیا الحق کی پیدائش

پاکستان کی مسلح افواج کے آٹھویں سربراہ جنرل محمد ضیا الحق 12 اگست 1924 ء کو میں جالندھر میں ایک غریب کسان محمد اکبر کے ہاں پیدا ہوئے۔ جالندھر اور دہلی میں تعلیم حاصل کی۔ 1945ء میں فوج میں کمیشن ملا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران برما ، ملایا اور انڈونیشیا میں خدمات انجام دیں۔ آزادی کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔ 1964ء میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پائی اور سٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر مقرر ہوئے۔ 1960ء تا 1968ء ایک کیولر رجمنٹ کی قیادت کی۔ اُردن کی شاہی افواج میں خدمات انجام دیں۔ مئی 1969ء میں آرمرڈ ڈویڑن کا کرنل سٹاف اور پھر بریگیڈیر بنا دیا گیا۔ 1973 میں میجر جنرل اور اپریل 1975ء میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کور کمانڈر بنا دیا گیا۔ یکم مارچ 1976ء کو جنرل کے عہدے پر ترقی پا کر پاکستان آرمی کے چیف آف سٹاف مقرر ہوئے۔
1977ء میں پاکستان قومی اتحاد نے عام انتخابات میں عام دھاندلی کا الزام لگایا اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ایک ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یوں ملک میں سیاسی حالت ابتر ہو گئی۔ پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے درمیان کئی مرتبہ مذاکرات ہوئے اور 4 جولائی 1977 کی شام مذاکرات کامیاب ہوئے اور پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے درمیان 17 نشستوں پر دوبارہ انتخابات کرانے کا معاہدہ ہوا۔ تاہم ضیاالحق جوپس پردہ حکومت کو غیرمستحکم کرنے اور مارشل لاء لگانے کی منصوبہ بندی کررہے تھے، کو یہ معاہدہ منظور نہیں تھا۔ انہوں نے یہ  خبر اخبارات کی زینت بننے سے پہلے  5 جولائی 1977 کوشب خون مار کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔
ضیا الحق نے آئین معطل نہیں کیا اور  اعلان کیا کہ آپریشن فیئر پلے کا مقصد صرف ملک میں 90 دن کے اندر انتخابات کروانا ہے دوسرے فوجی حکمرانوں کی طرح یہ نوے دن گیارہ سال پر محیط ہو گئے۔ مارشل لاء کے نفاذ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے شدید مزاحمت کی جس کے نتیجہ میں ان کو گرفتار کر لیاگیا۔ ان پر ایک قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔ ہائیکورٹ نے ان کو سزا موت سنائی اور سپریم کورٹ نے بھی اس کی توثیق کر دی۔ یوں 4 اپریل 1979ء کو بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ آج بھی ان کی پھانسی کو ایک عدالتی قتل قرار دیا جاتا ہے۔یوں ایک عوامی لیڈر کی موت کے بعد مارشل لاء کو دوام حاصل ہوا۔ اس کے بعد ضیاء الحق کی یہ کوشش رہی کہ پیپلز پارٹی کو اقتدار سے دور رکھاجائے اس مقصد کے لیے انہوں نے منصفانہ عام انتخابات سے گریز کیا۔ اور بار بار الیکشن کے وعدے ملتوی ہوتے رہے۔ دسمبر 1984 میں اپنے حق میں ریفرنڈم بھی کروایا۔
فروری 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات کرانے کااعلان کیا۔ پیپلز پارٹی نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ یوں محمد خان جونیجو کے وزیر اعظم بننے کی راہ نکل آئی۔ باہمی اعتماد کی بنیاد پر 30 دسمبر 1985ء کو مارشل لاء اٹھالیاگیا اور بے اعتمادی کی بنیاد پر آٹھویں ترمیم کے تحت جنرل ضیاء الحق نے 29 مئی 1988ء کو جونیجو صاحب کی حکومت برطرف کر دی۔ ان پر نااہلی اور بدعنوانی کے علاوہ بڑا الزام یہ تھا کہ اسلام نظام نافذ کرنے کے کی ان کی تمام کوششوں پر پانی پھر گیا ہے۔
*17 اگست 1988ء کو جنرل ضیاالحق بہاول پور کے قریب ایک فضائی حادثے کا شکار ہوگئے ۔ وہ اسلام آباد میں فیصل مسجد کے نزدیک آسودئہ خاک ہیں ۔
------------------------------------------------------------------------------------------

طفیل احمد جمالی کی وفات

٭12 اگست 1974ء کو اردو کے ممتاز صحافی، شاعر اور ادیب طفیل احمد جمالی کراچی میں وفات پاگئے۔
طفیل احمد جمالی 1919ء میں بنارس میں پیدا ہوئے تھے۔ گریجویشن کے بعد منشور دہلی سے منسلک ہوئے اور قیام پاکستان کے بعد جنگ کراچی، امروز کراچی، نگار کراچی اور لیل و نہار کراچی سے وابستہ رہے۔ اسی دوران انہوں نے انجام کراچی اور چین با تصویر(پیکنگ) کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیئے۔
وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
------------------------------------------------------------------------------------------
قومی اسمبلی کے سپیکر۔ عبدالوہاب خان


(بارہ اگست 1955 تا سات اکتوبر1958)
عبدالوہاب خان پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے تیسرے اسپیکر تھے جو 12 اگست 1955ء سے 7اکتوبر1958ء تک اس منصب پر فائز رہے۔
عبدالوہاب خان کا تعلق مشرقی پاکستان کے ایک متوسط گھرانے سے تھا۔ پاکستان کا پہلا آئین انھی کے دور میں منظور ہوا تھا۔
------------------------------------------------------------------------------------------

علی احمد کی وفات

٭12 اگست 1996ء کو ممتاز ڈرامہ نگار اور اسٹیج ڈائریکٹر علی احمد کراچی میں ایک ناگہانی حادثے میں وفات پاگئے۔
علی احمد 2 فروری 1927ء کو کانپور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور آگرہ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر انڈین پیپلز تھیٹر اکیڈمی سے منسلک ہوگئے اور پوری زندگی موسیقی، رقص، اداکاری اور تھیٹر کی ترویج کے لئے وقف کردی۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پہلے لاہور میں سکونت اختیار کی اور وہاں تھیٹر آرٹس سینٹر کے نام سے تھیٹر آرٹ گروپ قائم کرکے متعدد اسٹیج ڈرامے پیش کئے۔ 1957ء میں وہ کراچی آگئے اور یہاں پہلے ایوانت گارڈی آرٹ تھیٹر اور پھر نیشنل اکیڈمی فار تھیٹر اینڈ آرٹس (ناٹک) کی بنیاد ڈالی۔ خواجہ معین الدین کی طرح وہ خود ڈرامہ لکھتے تھے، خود پیش کرتے تھے، خود ڈائریکٹ کرتے تھے اور اس میں اداکاری بھی کرتے تھے۔ ان کے لکھے ہوئے مشہور ڈراموں میں ذاتِ شریف،صبح ہونے تک، آدھی روٹی ایک لنگوٹی، شیشے کے آدمی، شامت اعمال، قصہ جاگتے سوتے کا،سونے کی دیواریں، روشنی، کاغذی شیر، نیا بخار اور خوابوں کی کرچیاں شامل ہیں۔ 

:دیگر مضامین
(11.08.2016)  گیارہ اگست کے دن کو پاکستان کا قومی یوم اقلیت قرار دیا 
(10.08.2016) فضل الٰہی چوہدری10 اگست کو صدر پاکستان منتخب ہوئے
(09.08.2016) جنرل یحیی خان 9  اگست 1980ء کو خالق حقیقی سے جاملے
(08.08.2016) ٭پاکستان کے معروف مزاحیہ اداکار نرالا کی تاریخ پیدائش 8 اگست 1937ء  ہے۔
(07.08.2016) میجر طفیل محمد نے 7 اگست 1958ء کو جام شہادت نوش کیا تھا۔
(06.08.2016)  عزیز بھٹی شہید (نشان حیدر)  6 -اگست  1923ء کو ہانگ کانگ میں پیدا  ہوئے
(05.08.2016) ٭ اردو کے نامور مزاح نگار اور مترجم کرنل محمد خان کی تاریخ پیدائش 5۔ اگست 1910ء ہے
(04.08.2016) صوفی غلام مصطفی تبسم 4 اگست 1899ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے
(03.08.2016) ٭3 اگست 1962ء کو اداکارہ شبنم کی پہلی فلم ’’چندا‘‘ ریلیز ہوئی
(02.08.2016) ٭ پاکستان کے نامور انقلابی رہنما حسن ناصر کی تاریخ پیدائش  2اگست1928ء ہے
(01.08.2016) ن۔م۔ راشد یکم اگست 1910ء کواکال گڑھ ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے
(31.07.2016) ٭31 جولائی 1893ء مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی تاریخ پیدائش ہے۔
(30.07.2016) اُردو سوسائٹی ریڈنگ کے تحت پاک و ہند مشاعرہ
(30.07.2016) ٭30 جولائی 1978ء کو زیارتریذیڈنسی کا نام تبدیل کرکے ’’قائداعظم ریذیڈنسی‘‘ رکھ دیا۔
(29.07.2016)  پاکستان  کے  نامور براڈ کاسٹر مصطفی علی ہمدانی کی تاریخ پیدائش 29 جولائی1909ء ہے
(28.07.2016) ٭28 جولائی 1994ء کو منور الزماں کراچی میں  وفات پاگئے۔
(27.07.2016)  نشان حیدر حاصل کرنے والے کیپٹن محمد سرور کا یوم شہادت 27جولائی 1948ء ہے۔
(26.07.2016) چھبیس جولائی 1967ء کومینار پاکستان کی تعمیر مکمل ہوئی
(25.07.2016) ٭25 جولائی 1985ء کو مشہور فلمی ہدایت کار سبطین فضلی دنیا سے رخصت ہوئے
(24.07.2016) ٭24 جولائی 1986ء کو قدرت اللہ شہاب اسلام آباد میں وفات پاگئے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں