16.10.2026, 12:00pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » شمس جیلانی
 

 دعا کیجئے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ پاکستان کو محفوظ رکھے۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
13.08.2016, 03:40am , ہفتہ (GMT+1)

از۔۔ شمس جیلانی
 آجکل ایسا لگ رہا ہے کہ شاید ہم خلافت عباسیہ کے آخری دور میں ہیں ۔ اس سے نتیجہ آپ خود اخذ کرلیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے؟ کیونکہ نئی نسل بشمول ماں اور اولاد کے اپنی تاریخ سے زیادہ، ہالی ووڈ اور بالی وڈ کی فلموں سے دلچسپی رکھتی ہے۔ جبکہ مخلوظ خاندانی نظام ختم ہو چکا ہے جس میں نانیاں اور دادیاں رات کو بچوں کو گھیر کر بیٹھ جاتی تھیں اور ان کو اسلام اور تاریخِ اسلام سے روشناس کراتی تھیں۔ بچوں کے کانوں میں شروع سے ہی اللہ اور رسول (ص) کانام پڑتا تھا۔ اور ان میں لگن پیدا ہوتی تھی کہ وہ بھی ویسے ہی بنیں جیسے کہ حضور (ص) کے راستے پر چل کر صحابہ کرام  (رض)اور اصفیائے عظام متقی بنےاور جیسا کہ ہر مسلمان کو اللہ سبحانہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے؟ اس لیے ہمیں اب یہ بھی بتانا پڑے گا کہ اس وقت کی صورت ِ حال کیا تھی؟  “خدا خدا کرکے خلافت پھر سے بہال ہوئی تو خلیفہ کو ایک غدار مشیر کی شکل میں مل گیا جس کا نام ابن ِ الفمی یا ابن ِ علقمی تھا ؟ نام کو جانے دیجئے اس میں کیا رکھا ہے غدار ، غدار ہی ہوتا چاہیں اس کانام کچھ بھی ہو۔بظاہر وہ مشیر تھا مگر وہ خلیفہ سے بھی زیادہ طاقتور تھا۔ اس نے پہلا کام تو یہ کیا کہ اپنے ہی وزیر خارجہ کو جو کہ بہت ہی ایماندار شخص تھا ۔جب وہ ایک سفارتی مشن پر جا رہا تھا تو اغوا کر کے اپنے ذاتی قید میں ڈالدیا ، پھراس نے ہلاکو کو دعوت دی کہ اب وہ بغداد پر حملہ کر دے۔ جبکہ وہ اس کے لیے پہلے ہی راستہ ہموار کر چکا تھا ،خلیفہ کو یہ یقین دلا کر کہ ہلاکو سے اب ہم نے معاہدہ کر لیا ہے وہ ہمارا دوست بن چکا ہے ،اب اتنی بڑی فوج رکھنے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے فوج کو نصف کردیا جا ئے جو اس کی ایما کے مطابق ہوچکی تھی ؟ ملک میں یکجہتی کے بجا ئے فرقے وارانہ فسادات ہورہے تھے۔ فضا ہر طرح اس کے لیے ساز گار تھی۔ جب ا سے مشیر کی طرف سے اشارہ ملا تو وہ بغداد پر چڑھ دوڑا اور پلک جھپکتے ہی اس نے بغداد فتح کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ؟ خلیفہ عبرت ناک انجام سے دو چار ہوا ؟ اس کے بعد جوبھی شخص جس نے اس کی بغدادفتح کرنے میں مدد دی تھی اس کے پاس انعام لینے آیا تو اس نے ان میں کسی کو بھی نہیں بخشا سب کو یہ کہہ کر دار پر چڑھا دیا کہ جب تم اپنو ں کے نہیں ہوئے تو میرے کیا ہوگے؟ اس میں بہت بڑا سبق ہے ان کے لیے جو قر آنی تعلیمات کے خلاف جا کر کے اوراپنوںکو چھوڑ کر کے غیروں کو اس امید پر “ ولی“ بنا تے ہیں کہ وہ ہماری مدد کریں گے؟ میں نے یہاں لفظ “ ولی “کا وہ ترجمہ نہیں کیا جو کہ اکثر لوگ اردو میں “ دوست “کرتے ہیں ؟ جبکہ معنوں کے اعتبار دوست اور ولی میں بڑا فرق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے جو کہ قادر الکلام ہے، جو لفظ جہاں استعمال کیا ہے؟ وہ اپنے معنوں کے اعتبار سے اتنا جامع ہے کہ قیامت تک کے لیے کا فی ہے؟ جبکہ ہمارا اردو زبان یاکسی اور زبان میں اختیارکردہ ترجمہ اس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا اور کسی مخلوق کے لیے اس کمی کو پورا کرنا ناممکن ہے؟ میرے خیال میں غیر وں سے دوستی کے سلسلہ میں اسلام منع نہیں کرتا بلکہ اچھے اخلاق اور اچھے بر تا ؤ کی تاکید کر تا ہے؟ ہاں غیروں کو ولی نہیں بنا سکتے کیونکہ بعض فرائض اگر کوئی صاحب ِایمان نہ ہو تو توانجام نہیں دے سکتا؟ جیسے کہ کسی اسلامک ٹرسٹ کا منتظم یا رکن ، کسی بچی یا یتیم بچے کا ولی وغیرہ ہونا۔
 آج ہمارے یہاں اس دور سے بڑی مماثلت ہے یوں ہے کہ لوگ کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ پڑوسیوں سے دوستی کر کے فوجی اخراجات کم کر لیے جا ئیں؟۔ وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ جنہوں نے دوستی کی ان کا انجام کیا ہوا کشمیر کی مثال بھی انہیں نظر نہیں آتی جو دوستی کے ذریعہ سے ڈسا گیا؟ ۔ وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ اگر ہم من حیثیت القوم اچھے ہوتے تو تمام ادارے بھی اچھے ہو تے اور کسی کو کسی سے شکایت ہی نہ ہوتی ؟ اس کے با وجود اپنی اس کمی کو نہ ہی ہم میں سے کو ئی محسوس کرتا ہے اور نہ ہی من حیثیت القوم اس کے تدارک کے لیے سوچتاہے؟نئی نسل اپنی تاریخ سے ناواقفیت کی بنا پر مان لے تو مان لے، مگر میں یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ادارے اس کے ذمے دار ہیں؟ کیونکہ میں نے جو دیکھا وہ یہ تھا کہ پاکستان جس دن بنا اس سے پہلے سے لوگ اپنا سب کچھ اس پر نثارکرنے کو تیار تھے۔ یہ وہ وقت تھا کہ اہلکاروں کے لیے رہنے کو جگہ نہیں تھی، دفاتر قائم کرنے کے لیے عمارتیں نہیں تھیں وہ زیادہ تر فوجی بیرکس میں قائم کیئے گئے تھے؟ ہزاروں مکان بمع سامان تارک ِ وطن تالے لگا کر چھوڑ گئے تھے۔ کہیں تالے نہیں ٹوٹے ، رشوت نہیں چلی؟ پاکستان آپٹ کرنے والے فوجیوں کو ایک منصوبے کے تحت دوسری جنگ عظیم کے دو سال پہلے ختم ہو جانے کے باوجود واپس نہیں بلا یا گیا، انہیں ابھی تک باہر ہی رکھا گیا۔ اس کے با وجود جو تھوڑی سی نفری موجودتھی اس نے لوگوں کو جلتے ہو ئے شہرو ں اور خطرناک راستوں سے گزار کر مسلمانوں کو بھارت سے نکال کر پاکستان کی سرحدوں تک پہونچا یا مگر ِ کہیں سے کوئی شکایت نہیں ملی۔ لوگوں کو پاکستان آکر ایک عرصہ تک تنخواہیں نہیں ملیں، انہوں نے اپنے زیورات فروخت کر کے کام چلا یا اور ہر حالت میں ادارے چلا تے رہے؟
 جبکہ اس کے برعکس اس وقت بھی کچھ لوگ اپنے حلقہ انتخاب بچا نے کے لیے پریشان نظر آئے اور پولس اور فوج کے کام میں حائل ہوئے ۔ زبردستی پاکستان میں مشرقی پنجاب سے آنے والوں کو اپنے علاقوں میں آباد ہو نے سے روکا ، اور ٹرینوں پر بٹھاکر سندھ اور بھالپور کی طرف روانہ کروادیا ، اس سلسلہ ملتان میں مہاجر وں پرگولی بھی چلائی گئی۔ اس طرح اداروں کو اپنے مفاد کے لیے سیاست میں ملوث کیا گیا، سوچئے اس کاا ذمہ دار کون تھا ۔ پھر یہ کیسے ہوسکتاہے کہ کوئی لنگر خانے کاا انچارج ہو وہ خود بھوکا رہے اور دوسروں کے مفادات بچانے کے لیے لوگوں پر ظلم کرے اور اپنے لیے کچھ نہ کرے؟ بگاڑ یہیں سے شروع ہوا، حالات یہاں سے خراب ہوئے؟ اسے معلوم کرنے کے لیے کہ اس صورت ِ حال کا ذمہ دار کون تھا؟ ایک کمیشن بننا چاہیے تاکہ قوم کی آنکھیں کھل سکیں ؟ کہیں سیاست داں تو نہیں تھے کہ انہوں نے اپنے اقتدار کا تکیہ انہیں پر رکھا اور اس طرح انہوں ہی نے اداروں کو سیاست میں ملوث کیا؟ جواب آپ پر چھو ڑتا ہوں؟ میرا مشورہ ہے کہ تاریخ غور سے اور غیر جانبدر ہو کر کے پڑھیئے تاکہ آپ کسی نتیجہ پر پہونچ سکیں ؟
آج جو پوزیشن ہے اس میں پاکستان کی بقا کا انحصار فوج پر ہے ورنہ جو حالت آج سے دو سال پہلے سندھ، کراچی ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا کی تھی۔ وہی پھرہو جا ئے گی۔ اور اس تمام کیے کرا ئے پر پانی پھر جا ئے گا؟ جو قوم اور فوج نے قر بانیاں دے کر ان دو سال میں حاصل کیا ہے سب ضائع ہوجا ئےگا؟ جبکہ دستور میں ترامیم کرکے اسے پہلے ہی نا کارہ بنا دیا گیا ہے ۔جس میں مرکز کو کمزور کردیاگیا ہے اور صوبوں کو پوری خود مختاری حاصل ہے؟ جبکہ یہ طرز حکومت ان کے لیے ہے جو اپنے ملک کے خیر خواہ ہوں، ان کے لیے نہیں جن کے لیے ا قتدار کما ئی کا ذریعہ ہو ؟ ایسے لوگو کے لیے جو جمہوریت کے چمپین کہلاتے وہ بھی آج کل اتنے نرم نہیں ہیں جتنے کہ ہم ہیں ۔ جب کے ہم میں بہت سے ایسے ہیں بھی جن کے ساتھ آج سے نہیں برطانیہ کے زمانے سے یہ ہی کاروبار چلا آرہا ہے جنہیں سندھ میں پتھاریدار کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ رابطہ ہیں سماج دشمن عناصر اور اشرافیہ کے درمیان؟ ایسے میں فوج کیا کرستی ہے، پولیس کیا کر سکتی ہے کیونکہ یہاں تو ہر ایک دونوں ہاتھوں میں لڈو رکھنا چاہتا ہے۔ جب کہ آئی جی سندھ نے چند دن پہلے بڑی حسرت اور یاس  سےکہا کہ ً اس کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ آئندہ نہیں ہوگا جیسے پہلے ہو کہ ایک دفعہ کرا چی پولس نے ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی انجام دی مگر ہوا یہ کہ بعد میں  200پولس آفیسروں میں سے 199شہید کردیے گئے جبکہ حکومت بدل گئی؟  کل کمانڈر انچیف کا تجزیہ پڑھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہوا؟ آخر یہ با اختیار لوگ مجبور ہیں تو قانون نافذ کیسے ہوگا کون کریگا۔ جس سے پوچھو وہ اپنی مجبوریاں گناتا ہے۔ ہر ایک اپنی جگہ مجبور ہے جو کچھ جہاںکہیں بھی ہو رہا وہ کسی نہ کسی کی زیرِ سرپرستی ہو رہا ہے۔ اب نوبت بہ ایں جا رسید کہ عدلیہ کو دباؤ میں لانے کی کوششیں ہورہی ہیں ؟ تاکہ عدلیہ اپنے فرائض آزادی سے نہ ادا کر سکے ؟ یہ کوئٹہ کا واقعہ وکیلوں پر حملہ سماج دشمن عناصر کی طرف سے ایک ٹریلر ہو سکتا یہ دکھانے کے لیے ابھی تووکیلوں کی باری آئی ہے، جو عدلیہ کے ہاتھ پیر ہیں جبکہ عدلیہ بنتی ہے انہیں میں سے؟ پھر اور ں کی باری بھی آسکتی ہے؟دعا کیجئے کہ للہ سبحانہ تعالیٰ ملک کو محفوظ رکھے (آمین) 

:دیگر مضامین
(06.08.2016) یوں وفا اٹھ گئی زمانے سے؟ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(30.07.2016) کاش ہم مانتے کہ نبی (ص) کامقام کیا ہے۔۔۔از ۔۔شمس جیلانی
(23.07.2016) زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(16.07.2016) کشمیر جل رہا ادھر کا روبار چل رہا ہے۔۔ شمس جیلانی
(15.07.2016) کشمیر جل رہا ادھر کا روبار چل رہا ہے۔۔ شمس جیلانی
(09.07.2016) اب بد زبانوں کو لگام دینے کی ضرورت ہے۔ از۔۔ شمس جیلانی
(02.07.2016) پچاس مفتیان ِ کرام کا ایک جرات مندانہ فیصلہ۔۔۔ شمس جیلانی
(25.06.2016) ظالمو رمضان المبارک میں تو انسان بن جاؤ ۔۔۔از۔۔ شمس جیلانی
(19.06.2016) سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ کو جھٹلائے۔۔ شمس جیلانی
(11.06.2016) تمام نائبان رسول (ص) کے لیے لمحہ فکریہ! از۔۔۔ شمس جیلانی
(04.06.2016) وہ ہلاک ہوا جس نے ماہ ِ رمضان گنوادیا؟ ۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(28.05.2016) کیا  کسی نے جھوٹ سے ہے فیض پایا اب تلک؟ از۔۔۔ شمس جیلانی
(21.05.2016)  آئیں، بائیں ،شائیں از ۔۔ شمس جیلانی
(14.05.2016) شامتِ اعمال ما صورت ِ نادر گرفت؟ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(07.05.2016) وہی پرانی کمیشن کہانی ۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(30.04.2016) یہ وبال ِ شخصیت پرستی۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی
(23.04.2016) انہونی بات ہوگئی جو پہلے نہیں سنی۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(16.04.2016) صراط مستقیم سے کجروی کی طرف مراجعت۔۔از ۔۔شمس جیلانی
(09.04.2016) وکی لیکس کے بعد اب پنامہ لیکس؟ از ۔۔۔شمس جیلانی
(03.04.2016) ان میں سچا کو ن ہے اور جھوٹا کون ہے؟از ۔۔۔شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں