16.10.2026, 11:00am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » عالم آرا
 

میری زمین لہو لہو ہے ،مگر کچھ خون سفید بھی ہیں ۔از؛ عالم آرا 
14.08.2016, 02:05am , اتوار (GMT+1)

تین سال کا عرصہ اور اس سے پہلے پانچ سال ہم بس خبروں میں رہے دھماکے خونچکاں حادثات ،خوفناک مناظر اور بلا تمیز چھوٹے بڑے جوان بوڑھے اور ادھیڑ جنازے ،جن کی کوئی تعداد نہیں ۔خون بہت قیمتی ہوتا ہے اور جہاں بہتا ہے وہاں ایک سُرخ اور اآگ کی طرح روشن تاریخ لکھ جاتا ہے کہ صدیوں پر محیط ہو جاتا ہے وہ ایک لمحہ جو زندگی کو موت میں بدل دیتا ہے ۔موت جو طبعئی بھی ہو تو نا قابلِ برداشت ہوتی ہے صبر اآنے میں سالوں لگ جاتے ہیں نہ کہ ایسی حادثاتی اور اچانک اموات جن کا تصور بھی کلیجہ دِہلا دیتا ہے ۔مگر حیرتناک بات کہ سارے ادارے ناکام ہو جاتے ہیں سوائے تاویلیں سننے اور ان پر بھروسہ کرنے کے ہمارے بَس میں کچھ نہیں ہوتا ۔پھر چاہے کراچی ہو کوئٹہ ہو یا پشاور ۔

حکومت معصوم ہے اُس کا خون کس رنگ کا ہے ہمیں نہیں پتہ کیونکہ سب چیزوں پر سفیدی چھاتی جارہی ہے ،بے حسی کی ۔کوئٹہ دھماکہ ہو یا معصوم بچوں کے اسکول کا دھماکہ وقت بہت دیکھ بھال کر چُنا جاتا ہے ۔گھر میں بھی چوری ہو تو سب سے پہلے گھر کی ماسی اور چوکیدار اور مالی ،کام کرنے والے شاملِ تفتیش ہوتے ہیں اور اُن میں ہی سے کوئی ایک گھر کا بھیدی ہوتا ہے ،ہم جب تک اُن لوگوں کی نشاندہی نہیں کرینگے جو ہماری صفوں میں گُھس کر ہماری مشکل کا سبب بن رہے ہیں جب تک ہم کوئی بھی صحیح فیصلہ نہیں کر سکتے ۔جن جن پر شک ہو جن کے نام سامنے اآئیں انہیں کٹہرے میں لانا چاہئے مگر ہماری حکومتیں تو اُن لوگوں کو جہاز میں بٹھا بٹھا کر بیرونِ ملک روانہ ہونے میں مدد کر دیتی ہیں ،اور یہ نہیں دیکھتیں کہ کون لوگ اُن کے آلہ کار بنتے ہیں جو الزامات لگتے ہی اُڑن چھُو ہو جاتے ہیں اور پھر کوئی انہیں واپس لانے کی کوشش نہیں کرتا ۔پہلے خون کا رنگ یا تو سفید سمجھا جاتا تھا یا لال ہوتا تھا مگر اب تو ہمیں لگتا ہے کہ خون کالا بھی ہوتا ہے جو اندھا کر دیتا ہے اپنے مفادوں کے سامنے انسان کو کہ کوئی بھی سچ نہ بولو جو بولے اُسے کُھڈے لائن لگا دو اآوازیں دبا دو کہ یہ اگر بلند ہوئیں تو جائے پناہ نہیں ملے گی ۔
ہم اُن تمام باتوں کو بڑے دُکھی اور دردمند دِل کے ساتھ دیکھ رہے ہیں جو ہمارے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں ۔کوئی بھی قدم ایسا نہیں اُٹھ رہا جو ملک و قوم کی بحالی اور اُسکی ترقی کا معاون بنے ۔ہم یہ سنتے سنتے تھک گئے ہیں کہ سب کو معلوم ہے کون ملوث ہے ؟ سب کو معلوم ہے کون یہ کام کر رہا ہے ؟ سب کو معلوم ہے دھماکوں کے پیچھے کون ہے ؟

خدا را اگر معلوم ہے تو کیوں نہیں لٹکا دیتے اُن سب کو جنہوں نے ہمیں زہنی مریض بنا دیا ہے ،جنہوں نے گھروں کی روشنیاں گُل کر دی ہیں ۔جنہوں نے معصوم بچوں سے اُن کے باپ چھین لئے ہیں جنہوں نے ماؤں سے اُن کے لعل چھین لئے ہیں جنہوں نے سہاگنوں کے سہاگ اُجاڑ دئیے جنہوں نے بہنوں سے بھائیوں جیسا پیارا رشتہ چھین لیا ہے ۔کیوں یہ لوگ حرکت میں نہیں اآتے کیوں کہتے ہو دوسروں سے کہ زرداری کے بارے میں پوچھو تم حکومت میں ہو تمہارے ہاتھوں میں کیوں چوڑیاں ہیں تم کیوں بزدل بنتے ہو پکڑو نہ ان سب کو جن کو تم حکومت میں آنے سے پہلے کیفرِ کردار تک پہنچانے کی باتیں کرتے تھے ۔کہاں ہیں تمہارے دعوے کہ حکومت چھوڑ دوگے اگر لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہوئی ؟ کہاں ہیں تمہاری بڑھکیں کہ سڑک پر گھسیٹوگے پیٹ پھاڑ کر نکال لاؤگے سب کچھ ،کیا سب بیان بازی تھی اب جب خود حکومت کرپشن کی چھری تلے اپنی ہی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے تو وقت گزارا جا رہا ہے تاکہ پہلے کی طرح سب سیاہ ہوجائے کہ کچھ نظر ہی نہ آئے ۔

جب بھی کہیں اندھیرا ہوتا ہے تو پیچھے سیاہ رنگ ہی ہوتا ہے جو شاید اب خون میں شامل ہورہا ہے ورنہ جو کچھ آج کل ہم سُن اور دیکھ رہے ہیں وہ تو توبہ کرنے اور استغفار پڑھنے کا تقاضہ کر رہا ہے ۔کہ کس طرح حکومت میں رہنے اور اُسے چلانے کے لئے ہر وقت ساس بہو بلکہ اُن سےبھی بدتر لڑائی لڑی جاتی ہے ۔جو حکومت میں ہیں وہ دوسروں سے بھیک مانگ رہے ہیں کہ زرا یہ پوچھ لو زرا یہ معلوم کر لو ۔بھائی تم حکومت میں کیوں ہو ؟؟ اگر تم کچھ کر نہیں سکتے تو کیوں پاکستانی عوام کا پیسہ اور وقت برباد کر رہے ہو ؟؟

ہمیں تو بس اتنا معلوم ہے کہ اگر ٹھیک کرنا ہے اپنے ملک کے حالات تو کھڑے ہو جاؤ اب ان مفاد پرستوں اور ان ابن الوقت حضرات کے خلاف ورنہ یہ جھوٹ ،یہ کرپشن ،یہ بے حسی پھیل جائیگی اُمر بیل کی طرح ہماری نسلوں پر اور کھا جئیگی خدانخواستہ ہماری نئی نسل کی سوچ اور سچائی کو ۔وہ نسل جو بہت بہادر ہے جو سچ سننا اور سچ دیکھنا چاہتی ہے ،جو اب ہر قسم کی لیت ولعل کو نا قابلَ برداشت سمجھتی ہے ۔اس سے پہلے کہ وہ اپنے ہاتھ لے آئیں گردنوں تک اُن کی ،جنہوں نے اُن کے ملک و قوم کی قسمت کو گروی رکھ دیا ہے سنبھل جاؤ کہ گھڑیال منادی کرتا ہے اور پھر کھینچ لیتا ہے ایسی طرف کہ سوائے اندھیرے اور رسوائی کے کچھ نہیں بچتا ۔
ہم نے سالوں گزار دئے جن میں کچھ سالوں کے علاوہ ہم صرف خاندانوں کی حکومت اور ان کا جلال دیکھ رہے ہیں جو کسی صورت نہ جمہوریت ہے نہ کسی ملک کی تقدیر۔ کہ آزمائے جاؤ آزمائے ہوؤں کو تو اب ہاتھ میں ہے ّصرف اور صرف عوام کے جو ہر نئے لیڈر کے پیچھے نکلتے ہیں پورے طمطراق کے ساتھ ،لیکن اُسے کامیاب نہیں کرا پاتے کیونکہ نظر ہو جاتے ہیں پیسے کے اب کوشش یہ کرو کہ پیسہ تمہیں خرید نہ سکے چاہے بھوکے رہو ۔اور جو کوئی تمہیں خریدے خدا را کھڑے ہو جاؤ کہ بس بہت ہو چکا اور ثابت کردو کہ تمہارا خون لال ہے ۔ نہ سفید ہے نہ کالا ۔

آوازوں پر پابندی لگائی جارہی ہے جو آواز نا پسند ہے اُسے دنوں کے لئے بند کیا جارہا ہے اگر تم اتنے ہی ٹھیک کام کر رہے ہو تو ڈر کیسا ؟؟ کیوں بند کرتے ہو وہ زبانیں جو تمہارے سامنے آئینہ رکھتی ہیں ۔ تم سب ہمارے ہو ہم تمہیں اچھا دیکھنا چاہتے ہیں ایماندار دیانتدار اور مُخلِص دیکھنا چاہتے ہیں ۔ہم تمہیں ایک دوسرے کا اچھائی میں دوست اور برائی میں ناقد دیکھنا چاہتے ہیں ۔لیکن قوم کی رُسوائی کی قیمت پر نہیں ،اپنی غُربت کی قیمت پر نہیں اپنے ملک کے قرضوں کے اضافے کی شکل میں نہیں ۔اپنی صنعتوں کے زوال کی شکل میں نہیں اپنے کسانوں کے فاقوں کے تسلسُل پر نہیں ۔اپنے مزدور کے پیٹ پر پتھر کی صورت میں نہیں ۔بلکہ جاگتے اور ترقی یافتہ پاکستان کی صورت میں ۔تعلیم یافتہ اور مُہزَب پاکستان کی شکل میں ،ترقی کرتے اور آگے بڑھتے پاکستان کی شکل میں ،امن اور سکون کے حامل پاکستان کی شکل میں ۔کاش یہ سب کچھ لوٹا دو اس پاکستان کو اس آزادی کے مہینے میں جو ہماری پہچان ہے جو ہماری شان ہے جو ہماری جان ہے ۔کہ وطن سے محبت ہی سب سے بڑا اعزاز ہے جس کو ان کالے خون والوں نے ہم سے چھین لیا ہے بس پاکستانی بن جاؤ مدد اللہ کرے گا جیسے آزادی دے کر کی تھی انشاء اللہ۔ 
پاکستان زندہ باد پاکستانی قوم پائیندہ باد 

:دیگر مضامین
(15.07.2016) کاش ہم عراق لیبیا اور دوسرے تمام ممالک میں امن دیکھ سکیں 
(04.07.2016) افسوس ،دُکھ،تکلیف سب لفظ چھوٹے لگنے لگے ہیں:‌عالم آرا ، وینکور 
(22.06.2016) انتظار ہے صدر کب بیان واپس لینگے یا منحوس چہروں کے نام لینگے 
(22.02.2016) کیا واقعی کچھ بڑے گردش میں آئینگے؟ از؛ عالم آرا ۔ وینکوور 
(22.12.2015) ہم بڑی منفرد اور آنکھ بند رکھنے والی قوم ہیں ۔از؛ عالم آرا ۔ کینیڈا 
(19.11.2015) جو گرجتے ہیں برستے نہیں ۔۔از؛ عالم آراء ۔ وینکوور
(26.10.2015) عوام کے دوست ہی عوام کے سب سے بڑے دشمن !! از؛ عالم آرا ۔ وینکوور
(29.09.2015) کچھ کردار ہونا چاہئے ،کچھ اخلاق ہونا چاہئے ۔از؛ عالم آرا ۔ وینکوور 
(02.09.2015)  کا روائی قانونی بھی اور غیر قانونی بھی ۔ از؛ عالم آراء ۔ وینکوور
(07.07.2015) اول تو کوئی پکڑا نہیں جاتا !!!از:‌ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(30.06.2015) کمال ہو گیا ،واقعہ کا نوٹس لے لیا ۔۔از:‌عالم آرا۔ وینکوور
(08.06.2015) پھول میرا وطن چاند میری زمیں ۔۔ عالم آرا ، وینکوور
(14.05.2015) ھوئے تم دوست جس کے!!!۔۔ از:‌عالم آرا۔ وینکوور ۔ کینیڈا 
(23.04.2015) اجنبی دنیا اجنبی لوگ!! ۔۔۔ از: عالم آرا ۔ وینکوور۔ کینیڈا
(05.04.2015) گولی بندوق کی ہو یا حکومت کی ۔از؛ عالم آرا ۔وینکوور 
(02.02.2015) شرم ہم کو کیوں نہیں آتی ؟؟ از:‌عالم آرا ۔ وینکوور 
(26.01.2015) بِل منظور ،تحفظات نا منظور ۔۔۔ از:‌عالم آرا ۔ وینکوور 
(22.12.2014) کیا واقعئی ہم زندہ ہیں ۔۔۔۔۔۔ ؟ از؛ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(01.12.2014) ڈاکو بھی  احتجاج کرنے لگے ؟؟ از:‌ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(14.11.2014) وہ اُجالے لینے گئے ہیں ۔۔۔ از:‌ عالم آرا ، وینکور، کینیڈا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں