دو قومی نظریے کی بنیاد پر ’’پارٹیشن آف انڈیا‘‘ او ر ’’قیام پاکستان‘‘ برصغیر ہی نہیں بنتی جدید عالمی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ درجہ بندی کا کوئی بھی قائدہ کلیہ بنا لیا جائے ’’ظہور پاکستان‘‘ 20ویں صدی کے 5سے ٹاپ ٹین ہسٹری میکرز ایونٹس میں ضرورشامل ہوگا۔ یوں یہ (پارٹیشن) ہندوستان کی قدیمی سے اب تک کی ہزاروں سال کی تاریخ سازی کے عمل کی اہم ترین کہانی ہے۔
پاکستان نے اپنی ستر سالہ تاریخ میں جتنی ترقی کی، بلاشبہ اتنے ہی ڈیزاسٹر بھی ساتھ ساتھ ہوئے۔ اس کا ارتقائی عمل پھر بھی کیا خوب ہے۔ مہا بھارت رہا نہ متحدہ ہندوستان۔ برصغیر کی جگہ، اب جنوبی ایشیائی تشخص زیادہ واضح ہوتا جارہا ہے، جس میں پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیپ اور نیپال و بھوٹان الگ الگ مملکت ہیں۔ آزاد و خودمختار، نئی دہلی، پارٹیشن کے متفقہ ایجنڈے پر مکمل عملدرآمد میں رکاوٹ ڈال کر جموں و کشمیر پر قابض نہ ہوتا تو شاید آج بھارت میں ہندو بنیاد پرستی کا غلبہ ہوتا، نہ ری پبلک آف انڈیا میں حق خودارادیت کے جوش میں خالصتان، ناگا لینڈ، میزولینڈ اورمنی پور جیسی تحاریک کی کچھڑی بن رہی ہوتی۔ اس کی جگہ جنوبی ایشیا، ترقی پذیر دنیا کا (تیل نکلے بغیر) سب سے زیادہ ترقی یافتہ خطہ ہوتا۔ اقتصادی خوشحالی اور برصغیر کی رنگا رنگ ثقافتیں اور ایک مرکزی ثقافت بھی اسے دنیا کے پرامن اور پرکشش خطے میں تبدیل کردیتی۔ ایسے میں اس پر نئی عالمی طاقتوں کا اثر انداز ہونا بھی ممکن نہ ہوتا۔ یہ دو طرفہ تنازعات سے آزاد رہتے۔ ترقی پذیر دنیا کے لیے سورس آف انسرپریشن ہوتا۔ نئے تشخص کے ساتھ ایسی تصویر کشی کا اشارہ حضرت قائداعظم نے بھی کیا تھا، جب انہوں نے ایک اخباری انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں اپنی اس نیک اور مبنی برامن، نیت کا اظہار یوں کیا تھا کہ نئی مملکت پاکستان اور بھارت کے تعلقات ویسے ہی ہوں گے جیسے امریکہ اور کینیڈا کے ہیں۔
بدنصیبی، ہندو بنیاد پرستی کی طرف تیزی سے مائل نئی بھارتی نسل جسے ان کے انتہا پسند سیاست دانوں نے ہماگیر انسانی تہذیبی عمل کی ارتقائی شکل و کیفیت سے غافل رکھتے ہوئے ’’پارٹیشن آف انڈیا‘‘ کی فطری حقیقت کوتسلیم کرنے کا سبق دینے کی بجائے، مہا بھارت اور پنج شیلا کے قدیم ہندو استعماری نظریات کا نشہ چڑھا دیا۔ آج ستر سال میں کانگریس کی بھارت کی (علاقائی) بالادستی کی مسلسل جاری پالیسی ’’برصغیر ایک پرامن و پرکشش خطہ‘‘ کے خواب کو چکنا چور کر کے، خود ری پبلک آف انڈیا میں ہندو بنیاد پرستی کے غلبے اور عالمی امن کی خواہش کے مقابل، کشمیر کو ہر حال میں قبضے میں رکھنے کی تگ و دو میں، جنوبی ایشیاء کو ’’فلیش پوائنٹ‘‘ بنانے کی موجب بنی۔ مسئلہ کشمیر کے تناظر میں حساس پاک۔ بھارت تعلقات اور مسلسل متنازع کی کیفیت کو’’فلیش پوائنٹ‘‘ کوئی پاکستان نے نہیں بلکہ سابق امریکی صدر کلنٹن نے قراد دیا تھا۔ مقبوضہ کشمیر کی انتہائی تشویشناک صورتحال اسی کی تصدیق کررہی ہے۔ پارٹیشن کے بعد کانگریس کے پچاس پچپن سال پر محیط ادوار میںبھی ہندو مسلم، ہندو سکھ اور ہندو عیسائی اور اونچی و نیچی جاتی کے فسادات کی تعداد ہزاروں میں ریکارڈڈ ہے۔ آج ہندو انتہا پسندوں کے برسراقتدار آنے پر مسلمانوں کا گائے کے قریب جانا بھی موت کودعوت دینے کے مترادف ہوچکا ہے۔ رہ گیا کانگریسی اور ہندو بنیاد پرستوں، ہر دو ادوار میں علاقے پر غلبہ پانے کی متفقہ و مشترکہ پالیسی، وہ ناکام ہو کر پٹ چکی۔ خود بھارت ہندو انتہا پسندی کے غلبے میں آگیا۔ سری لنکا سے اس کے انتہائی متنازع تعلقات، نیپال کی تنگی اور مجبوریوں، پاکستان سے مسلسل چپقلش اور مالدیپ میں بھی ختم ہوتے بھارتی اثر سے سفارتی دنیا بخوبی واقف ہے۔ عوامی لیگ کی سیاسی موت کے بعد دنیا دیکھے گی کہ بھارت کے بنگلہ دیش سے تعلقات، سری لنکا سے زیادہ کشیدہ ہوں گے۔ بھارت اپنے کسی قومی مفاد کی نشاندہی کے بغیر جس طرح افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف استعمال ہورہا ہے اور جس طرح بلاجواز امریکہ کو بھارت میں جگہ دے رہا ہے، حقیقت پسند بھارتیوں کے سمجھنے کی بات ہے اس کا سب سے زیادہ دوررس خسارہ خود بھارت کو ہوگا۔ بلاشبہ اب بھی اجتماعی بھارتی دانش کے لئے یہ سمجھنا آسان نہیں جو یہ سمجھ نہیں پا رہی کہ مسئلہ کشمیر نے پورے برصغیر کو خوشحالی و استحکام سے دور کر کے بھارت اور پاکستان کو بھی اسلحے کی دوڑ پر لگائے ہوئے ہے اس کے بینی فشری فقط اسلحہ فروخت کرنے والے ہیں۔
رہا پاکستان، جس کی سلامتی، خوشحالی اور استحکام و امن بھارت کا مسلسل ہدف رہا اور مودی سرکار اسے حاصل کرنے میں بے چین ہے، ماضی کی طرح ناصرف یہ کہ وہ نئی دہلی کی مستقل پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ اب سبز ہلالی پاکستانی پرچم میں لپٹ جانے والی کشمیر میں آزادی کی تحریک نے اسے اور بوکھلا دیا ہے، تاہم پاکستان کے خلاف بھارت اور اس کے پاکستان مخالف حلیفوں کے حربے بھی مسلسل ناکام ہورہے ہیں اور بدلتے حالات میں ہوتے رہیں گے۔
پاکستانیوں کے لئے نوید وہی ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے انہیں ’’آئین نو‘‘ کے ذریعے سنائی جارہی ہے کہ، ’’بالآخر پاکستان کا مستقبل۔ تابناک پاکستان ہے‘‘ جو اپنی ہی نہیں پورے خطے کی خوشحالی کا ذریعہ بننے کو ہے۔ بھارت میں اور دائیں بائیں جتنی بھی پاکستانی مخالف سازشیں ہورہی ہیں جیسے ضرب عضب کی کامیابیوں میں رختہ ڈالنے کی علت، پاکستان میں اقتصادی انقلاب کو روکا جاسکتا ہے، نہ پاکستانیوں کے اجتماعی حوصلے کوشکست دی جاسکتی ہے۔ وہ بے پناہ ہی نہیں، بے مثال بھی ہے سانحہ کوئٹہ کے بعد نظر تو آگیا ہوگا کہ پاکستانیوں کی اپنی سلامتی اور اس کی حفاظت کا جذبہ کس قدر ہے۔ خصوصاً بلوچستان میں جو اس کی لہر آئی پاکستان میں اقتصادی انقلاب اور اس کے پورے خطے میں خوش گوار اثرات مرتب ہونے کے جو امکانات ہماری انتہائی بحرانی کیفیت میں بھی نظر آئے ہیں وہ ضرب عضب کی راہ میں تمام تر بیرونی رکاوٹوں، رخنوں اور اندرونی عدم تعاون کے باوجود معدوم نہ ہوسکے، ان کا رنگ بڑھتا ہی گیا۔ پاکستان نائن الیون کے تناظر میں دہشت گردی کی جنگ میں ملوث ہو کر جس تکلیف اور اذیت سے گزرا ہے ہم نے اپنی تمام تر داخلی کمزوریوں کے، بے پناہ قربانیاں دیتے ہوئے، ایک انتہائی پیچیدہ اورطویل و نازک صورتحال کو مینج کیا ہے اور اس میں سے جس طرح خوشحال و امن اور قومی استحکام کی راہ نکالی ہے، ایسے میں پاکستان کی تابناکی کے سوا پاکستان کا کوئی دوسرا مستقبل نہیں۔ ایک بڑھتا، بنتا، نکھرتا اور پرامن خوشحالی اور گردونواح میں خوشحالیاں بکھیرتا پاکستان۔
آج پاکستان اپنی سلامتی کو یقینی بنانے (شکر الحمدللہ) کے بعد اپنی کتنی ہی داخلی خامیوں سے بھی مخاطب ہے، یہ خطاب مسلسل قابل عمل حل میں تبدیل ہونے کو ہے۔ حقیقی جمہوریت کا تصور واشگاف ہوتا جارہا ہے۔ آئین و قانون پر انحصار بڑھتا جارہا ہے۔ انتشار کی بجائے دلیل، لاجک اور قانونی جدوجہد کی اہمیت واضح ہوتی جارہی ہے۔ احتساب پوری قوم کا ایجنڈا بن گیا ہے۔ایک سیاسی نعرے کے طورنہیں بلکہ ناگزیر قومی ضرورت کی طرح۔ سیاسی و جمہوری اورانتخابی عمل کو شفاف بنانے کی بات شدت پکڑ رہی ہے۔ انتخابی دھاندلی کے حربے بے نقاب ہورہے ہیں۔ جمہوریت بمقابلہ ملوکیت، میں ملوکیت کی مذمت ہورہی ہے۔ ساتھ اقرباء پروری اور درباریت کی اس کی جگہ عوامی شرکت کے ساتھ حقیقی جمہوری حکومتی عمل کی بات ہورہی ہے۔ مقامی حکومتوں کا خودمختار نظام جس میں گلی، محلے اور گائوں گوٹھ کے پاکستانی گردونواح کے انتظامی و فلاحی امور خود سنبھالے گے، قائم ہو کر رہے گا۔ آئین کی سلائی گئی شقوں کو جگا دیا گیا ہے، ان کا اطلاق ہونے کو ہے حلف رسمی نہیں رہ گیا قوم، ملک اور عوام و آئین سے وفا نبھانی پڑے گی۔ اس کار عظیم میں اب عشرے نہیں لگیں گے چند سال کی بات ہے مشن شروع اور جاری ہے۔ ایسے میں پاکستان کا مستقبل تابناک کیوں نہیں ہوگا؟
بشکریہ جنگ