یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے
اس چمن کے پھولوں پر رنگ و آب تم سے ہے
اس زمیں کا ہر ذرہ آفتاب تم سے ہے
یہ فضا تمہاری ہے، بحر و بر تمہارے ہیں
کہکشاں کے یہ جالے، رہ گزر تمہارے ہیں
اس زمیں کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
ارضِ پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا
نظم و ضبط کو اپنا میرِ کارواں جانو
وقت کے اندھیروں میں اپنا آپ پہچانو
یہ زمیں مقدس ہے ماں کے پیار کی صورت
اس چمن میں تم سب ہو برگ و بار کی صورت
دیکھنا گنوانا مت، دولتِ یقیں لوگو
یہ وطن امانت ہے اور تم امیں لوگو
میرِ کارواں ہم تھے، روحِ کارواں تم ہو
ہم تو صرف عنواں تھے، اصل داستاں تم ہو
نفرتوں کے دروازے خود پہ بند ہی رکھنا
اس وطن کے پرچم کو سربلند ہی رکھنا
پاکستان ہمارا وط عزیز جسکے حصول کے لیئے برصغیر کے مسلمانوں نے بیش بہا قربانیاں دیں اور پھر جا کر کہیں ہمیں یہ خطہ زمین نصیب ہوا۔
پاکستان 14 اگست 1947 کو آزاد ھوا پاکستان کا مطلب پاک لوگوں کی سرزمین ھے ،14 اگست کے تاریخ ساز دن ایک خود مختار اور آزاد ملک کی سرزمین کی حیثیت سے جب ریڈیو پاکستان سے مصطفی علی ھمدانی کی اواز گونجی تو ھر آنکھ میں خوشی اور شادمانی کے انسو تھے ۔ آزادی بہت بڑی نعمت ھوتی ھے ،پاکستان اسلامی دنیا کا واحد اور جنوب ایشیا کی دوسری ایٹمی طاقت ھے
پاکستان 20 کڑور آبادی والا دینا کی چھٹی بڑی آبادی کا حامل ملک ھے
پیارا وطن پاکستان اپنے خوبصورت نظاروں اپنے پرجوش لوگوں اور محتلف تہذیبوں کے حوالے سے ایک مضبوط و منفرد ملک ھے ،پاکستان کا یوم آزادی دینا بھر میں موجود اور مقیم پاکستانی بڑے جوش و خروش سے ہر سال مناتے ھیں
کویت میں بھی جشن آزادی روائتی جوش جذبے سے منایا گیا 14 اگست کی سہانی صبح سب سے پہلی و پیاری تقریب سفارت خانے پاکستان میں منعقد کی گی اس تقریب میں کویت میں مقیم پاکستانی بڑے وقار اور پرجوش تیاریوں کے ساتھہ شریک ھوتے ھیں سبز پر چم ھاتھوں میں اٹھاۓ سبز رنگ جو خوشی اور مسرت آزادی و شادمانی کا رنگ ھے اس رنگ کے کپڑے پہنے چہرروں پر وطن سے محبت کی روشنی بچوں کی خوشی دیدنی ھوتی ھے پرچم کے ساۓ ساۓ مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجاۓ ان پیارے بچوں نے ملی نغموں پر بہت شاندار پرفارمنس دی
ان کے چہروں پر اپنے پیارے وطن کی محبت کی سرخی اور عزم تھا
اس تقریب میں خواتین وحضرات اور بچوں کی کثیر تعداد موجود تھی کیہں بھی کھڑے ھونے کی جگہ باقی نہ تھی مگر یہ بات بہت خوش آئند ھے کہ آزادی کی تقریب میں سب نے شامل ھوکر اس تقریب میں چار چاند لگاۓ
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سفیر محترم غلام دستگیر صاحب نے صدر اور وزیراعظم کے پیغام پڑھ کر سنائے
اپنے خطاب میں ان قربانیوں و مشکلات کا بھی ذکر کیا جو پاکستان بنے کے وقت درپیش آئیں، ھمشیہ کی طرح تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سالمیت و سلامتی کے لیے دعا کرائی گئی اور روائتی کیک کا ٹا گیا مزیدار کھانے سے سارے پاکستانیوں کی تواضع کی گئی اس تقریب کے انعقاد کے لیے پاکستان سفارت خانے کا عملہ اور سفیر محترم غلام دستگیر صاحب بہت مبارک باد کے مستحق ھیں
کویت میں جشن آزادی کا بڑا پروگرام 14 اگست کی شام کو ھالیڈے ان ھوٹل میں ھوا
اس یادگار وشاندار پروگرام کے روح رواں اور پاکستانی حلقوں میں اپنی وطن دوستی شاندار ادبی دینی اور انتہائ منظم طریقے سماجی تقریبات کے انعقاد کے لیے دیناۓ ادب میں بھی بہت مشہور ھیں جناب رانا منیر احمد صاحب بڑی خوش اسلوبی اور پر جوش طریقے سے اپنی تقریبات کے کینوس میں اتنے دلکش و دلفریب رنگوں کا انتخاب کرتے ھیں کہ لوگ مدتوں ان پرجوش پروگرامز کی یاد سے محظوظ ھوتے ھیں
خوب سے خوب تر کی جستجو ھمیشہ رانا منیر کو متحرک و پرجوش رکھتی ھے پاکستانی کمیونٹی ان کویت میں شامل و شریک انکے پرجوش رفقاءکار و محب الوطن ساتھی جناب ریاض الحق صاحب جو ھمیشہ اپنی سرپرستی سے ھر تقریب کو بہت خاص بناتے ھیں ، محترم عتیق الرحمان صاحب ،محترم اشتیاق ملک صاحب اور خاص طور پر جناب عتیق عدنان صاحب جو ھمیشہ قومی بیداری و یک جہتی کے لیے ھر عمل و کوشش کا ساتھ دیتے ھیں اور آصف جمال صاحب جو اپنی جگہ انجمن ھیں
سفارت خانے پاکستان کے اشتراک سے 14 اگست کی شام کو بہت شان دار اور بے مثال رنگا رنگ تاریخ سازپروگرام کیا گیا جس میں سفیر پاکستان غلام دستگیر صاحب مہمان خصوصی تھے خواتین و حضرات کی کویت میں موجود مختلف تنظیموں کے صدر اور خاص طور پر پاکستان ویمن فورم کی صدر ثمینہ مجتبی نے بھی اس پروگرام میں خاص طور پر شرکت کی
حب الوطنی کے رنگ اورپاکستان سے محبت کی روشنی ھر چہرے سے عیاں تھی ،اسٹیج بہت خوبصورتی و محنت سے تیار کیا گیا تھا ،ھر زبان پر صرف دل دل پاکستان کا نغمہ تھا ،اسکول کے بچوں نے بہت پیارے طریقے ملی نغمعات پر شاندار پر فارمنس کا مظاھرہ کیا
تقریب کی نظامت کے فرائض دھمیے لہجے میں اپنی بات مضبوطی سے ادا کرنے والی مس نادیہ محمد اور انکے ساتھہ ماھین مظہر اور میدان نظامت میں خاص مقام رکھنے والے حکیم طارق محمود نے کی۔۔ گاھے بگاھے خوبصورت اشعار سے تقریب میں موجود شرکاء میں بہت جوش بھر دیتے تھے
شاعر و ادیب کسی بھی معاشرے کا سرمايہ ھوتے ھیں کویت میں بھی موجود پاکستانی شعراء نے دیناے ادب میں اپنا بہت خاص مقام بنایا ھے اور کویت کے شعراء کی اواز دور تک پہنچ چکی ھے اس تقریب میں بھی سید صداقت علی ترمذی اور معروف صاحب کتاب شاعر بدر سیماب اور شاھین رضوی نے اپنے کلام سے سماں باندھا اور بہت ساری داد سمیٹی
اس پروگرام میں دو ملی نغمے جناب گلوکار زاغر حسین نے بڑے خوبصورت طریقے سے گا یے اور ھال میں موجود سارے لوگوں نے انکےگاۓ ملی نغموں کو پسند کیا اس دوران اسکول کے بچے پاکستانی پرچم ھاتھوں میں لیے ھال میں نظر آۓ یہ چھوٹے بچے جو پاکستان کی تیسری نسل ھے ان کو کل پاکستان کی باگ دوڑ سنبھالنی ھے ان کے دل میں پاکستان کی محبت کا چراغ روشن ھے
تقریب کے مقررین میں ملک اشتیاق عتیق الرحمان اور عیتق عدنان صاحب تھے پروگرام کے آخر میں جناب رانا منیر صاحب نے اپنے خطاب میں اپنے ھر ساتھی کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے اس تقریب کو اتنا کامیاب اور یادگار بنانے میں انکا ساتھ دیا اور انھوں نے سفیر پاکستان جناب غلام دستگیر صاحب کو خطاب کی دعوت دی ۔۔
سفیر محترم نے اپنی تقریر میں اتنی خوبصورت تقریب کے انعقاد پر منتظیمن کی تعریف کی اور کہا کہ ھم کو اپنے سارے اختلافات بھلا کر صرف پاکستانی بن کر پاکستان کے لیے بہت کچھ کرنا ھے اور پاکستانی ٹیم کی کامیابی کی مبارک باد بھی دی تقریب کا آختتام 14 اگست جشن آزادی کے لے خاص طور پر بنے ھوۓ بہت خوبصورت اور بڑے کیک کو کاٹ کر کیا گیا اپنے دوستوں اور پرجوش رفقاء کی خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈ بھی پیش کی گئں
تقریب تقریبا پانـچ ساڑھے پانچ گھنٹے تک جاری رھی ۔۔۔ ملی نغموں کی روح پرور آوازوں سے ھال گونج رھا تھا آخر میں شاندارو مزیدار بوفے ڈنر سے مہمانوں کی تواضع کی گئی
اس خاص اور شاندار تقریب کے انعقاد کے لیے بلا شبہ رانا منیر احمد صاحب اور انکے رفقا ء کار بہت بہت مبارک باد کے مستحق ھیں
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو
خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو
ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو
پاکستان زندہ باد
کویت میں یوم آزادی کی تقریبات کی منتخب تصاویر