1۔سرطانِ پستان صرف عمر رسیدہ عورتوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے !
نہیں۔ ۔ ۔ یہ سچ ہے کہ مختلف تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عمررسیدگی کے ساتھ ساتھ کسی عورت کا سرطان
پستان میں مبتلا ہونے کے امکانات میںواضح اضافہ ہوتاہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سرطان کسی بھی عمر میں کسی بھی عورت کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔پیدائش سے لیکر انتالیس(39) برسوں کی عمر تک دو سو اکتیس عورتوں میں سے ایک عورت چالیس سے انسٹھ برس کی عمر کے درمیان پچیس عورتوں میں سے ایک عورت اور ساٹھ برس سے اناسی برس کی عمر کے درمیان پندرہ میں سے ایک عورت اس بیماری میں مبتلا ہو سکتی ہے۔اگر یہ مان لیا جائے کہ ایک عورت نوے برس تک زندہ رہتی ہے تو اس کے اس سرطان میں مبتلا ہونے کے امکانات 12.5%ہے۔
2۔اگر سرطانِ پستان میں مبتلا ہونے کے محرکات میں سے صرف ایک محرک موجود ہو تواس بیماری میں مبتلا ہونے کا امکان یقینی ہے۔
نہیں۔ ۔ ۔ ہر عورت کا سرطان پستان میں مبتلا ہونا یقینی یا حتمی نہیں ہے۔ اگر کسی عورت میں اس بیماری میں مبتلا ہونے کے محرکات میں سے صرف ایک محرک موجود ہو جیسے کہ موروثیت (جینزکے نقائص)یعنی اگر کسی عورت کو بی آر سی Iاور بی آر سیII جینز کے نقائص وارثت میں ملے ہوں تو بھی صرف چالیس سے اسی فیصد اپنی پوری عمر کے دوران اس سرطان میں مبتلا ہوسکتی ہیں جب کہ بیس سے ساٹھ فیصد عورتیں اس بیماری میں مبتلا نہیں ہوسکتی ہیں۔
3۔اگر سرطانِ پستان خاندان کی کسی عورت میں نہیں ہے تو اس خاندان کی عورت کو یہ بیماری لاحق نہیں ہوسکتی۔
نہیں۔ ۔ ۔ ہر عورت کے سرطانِ پستان میں مبتلا ہونے کے امکانات کم وبیش موجود ہوتے ہیں۔ جن اسی فیصد عورتوں
کو یہ بیماری اپنی گرفت میں لے لیتی ہے ان کے خاندانوں میں اسکی کوئی ’’شہادت‘‘ نہیں ہوتی۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ عورت کے جسمانی نسیجوں میں جو توڑ پھوڑ ہوتی ہے ، وہ سب سے اہم محرک ہے۔ ہاں جن عورتوںکے خاندانوں میں کسی عورت کو یہ مرض لاحق ہوتاہے ، اس خاندان سے تعلق رکھنے والی عورتوں کے لئے اس بیماری میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی وہم، شک یا تضاد کے شکار ہیں تو اپنے معالج سے مشورہ کرکے اپنی پریشانی سے چھٹکارہ پالیں۔
4۔سرطان کی ہسٹری ماں کے خاندان میں ہو یا باپ کے خاندان میں۔
آپ کے اس بیماری میں مبتلا ہونے کے خطرات مساوی طور اثر انداز ہوتے ہیں وہ اس لئے کہ آپ آدھے جینز ماں سے اور آدھے جینز باپ سے آئے ہیں۔ اگر مرد کے جین ناقص ہو تو سرطان میں مبتلا ہونے کے امکانات بہت ہی کم یا یوں کہئے نفی کے برابر ہوتے ہیں اور اگر عورت(ماں) کے جینز ناقص ہوں تو سرطان کے خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اسلئے اگرآپ باپ کاشرح احوال خانوادگی(فیملی ہسٹری)جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ کو اپنے باپ کے خاندان سے وابستہ تمام عورتوں کی ذاتی زندگی میں جھانکنے کی کوشش کرنا ہوگی۔
5۔ضدِعرق ریزدوائیاں ، پوڈر،لوشن وغیرہ استعمال کرنے سے سرطانِ پستان ہوسکتاہے نہیں۔
ابھی تک ایسی کوئی شہادت وجود نہیں جس سے یہ بات ثابت ہوکہ بغلوںکی بْو کم کرنے کے لئے ضد عرق ریز دوائیاں پوڈر،لوشن ، ضد بو دوائیاں وغیرہ استعمال کرنے سے اس بیماری میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس باطل عقیدہ کی وجہ یہ ہے کہ عام عورتوں کو اپنے پستانوں کی ساخت وبافت اور طرزِ کارکردگی کے بارے میں علمیت نہیں ہوتی ہے۔ ہر عورت کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے پستانوں کے متعلق مکمل جانکاری رکھتی ہو۔
6۔ قرصِ مانع حمل(برتھ کنٹرول پلز)استعمال کرنے سے سرطانِ پستان کا خطرہ لاحق ہوتاہے۔
نہیں۔ ۔ ۔ خاندانی منصوبہ بندی پروگرام کے تحت ساخت شدہ قرص ہائے مانع حمل میں ایسٹروجن اور پروجسٹروں ہارمونوں کی مقدار قلیل ہوتی ہے اور ان کا سرطان پستان سے کوئی خاص ربط نہیں ہے۔ گزشتہ برسوں میں جو مانع حمل ادویات استعمال کی جاتی تھیں ، وہ شاید سرطان میں مبتلا ہونے کے امکانات میں اضافہ کرتے تھے مگر آج کل جو ادویات مانع حمل کے لئے استعمال کی جاتی ہیں وہ غام عقیدہ کے برعکس سرطانِ تخم دان کے امکانات میں نمایاں کمی کرتے ہیں اور ان کا سرطان پستان سے ربط نہیں ہے۔
7۔ زیادہ چربی والی غدائیں کھانے سے سرطان پستان لاحق ہوتاہے۔
نہیں۔ ۔ ۔ بڑے پیمانے پر کی گئی تحقیقات سے یہ بات ثابت نہیں ہوسکتی ہے کہ زیادہ چربی والی غذائیں کھانے اور اس سرطان میںمبتلا ہونے کے درمیان کوئی ربط ہے۔ اس وقت مزید تحقیقات جاری ہے اور محققین اس مسئلے پر نئے سرے سے روشنی ڈالنے کی سر توڑ کوشش کررہے ہیں۔لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ زیادہ چربی والی غدائیں کھانے سے مجموعی طور جسم پر مضر اثرات پڑتے ہیں۔ اس بات پر زور دیا جاتاہے۔ جسم میں بْرے کولسٹرول کی سطح کم اور اچھے کولسٹرول کی سطح زیادہ ہوتا کہ بدن کی چربی میں ایک خاص توازن برقرار رہ سکے اور وزن اعتدال میں رہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہر عورت زیادہ چربی والی غذائیںکھانے سے پرہیز کرے اور اپنے جسم میں اضافی چربی کی تہوں کو جمنے نہ دے۔
وزن کو قابو میں رکھنے کیلئے ایک مناسب وموزوں غذااستعمال کرے۔جس میں تازہ سبزیوں اور میوہ جات کی وافر مقدار موجود ہو۔ موٹاپا نہ صرف متعدد بیماریوں اور جسمانی وذہنی نقائص کو دعوت دیتاہے بلکہ سرطان میں مبتلا ہونے کے امکانات میں بھی اضافہ کرتاہے کیونکہ موٹاپا جیسی عجیب وغریب اور مہلک بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد جسم طبعی حد سے زیادہ چربی جمع ہونے کی وجہ سے زنانہ ہارمون ایسٹروجن کی پیداوار میں اضافہ ہوتاہے۔ اس طرح جسم میں پہلے سے موجود ہارمون کی مقدار میں خاطر خواہ اضافہ ہوتاہے ، جس سے سرطان میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس لئے اگر آپ موٹاپا جیسی بیماری میں مبتلاہیں اور آپ کا وزن زیادہ ہے تو اضافی چربی والی غدائیں کھانے سے پرہیز کریں۔ باقاعدہ ورزش کریں اور اپنے موٹاپا اور اضافی وزن کو کم کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔
8۔ہر مہینے خود ہی پستانوں کا معائنہ کرنے سے سرطانِ پستان تشخیص دیا جاسکتاہے۔
نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابتدائی مراحل میں سرطانِ پستان تشخیص دینے کا بہترین ذریعہ اہم تشخیصی طریقہ کار میموگرافی (Mammography) ہے۔ اس ٹیسٹ سے پستانوں کا ایکسرے کرکے سرطان کا اْس مرحلے میں اندازہ لگایا جاسکتاہے جب وہ صددرصد قابل علاج ہوتاہے۔ جب سرطان ٹیومر یارسولی کی شکل اختیار کرتا ہے اور پستان دبانے سے محسوس کیا جاسکتاہے اْس وقت یہ حجم میں بڑا ہوا ہوتاہے اور مرحلہ دوم یا سوئم میں داخل ہو چکاہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ ہر عورت ہر ماہ اپنے پستانوں کا ازخود معائنہ کرتی رہے اور اگر کسی وقت کسی بھی قسم کی خرابی یا نقص کا پتہ لگا سکے تو فوری اپنے معالج سے صلاح مشورہ کرے۔ لگ بھگ پچیس فیصد سرطانوں کا صرف پستانوں کے ظاہری اور خارجی معائنے سے پتہ لگایا جا سکتاہے اور 35% سرطانوں کا میموگرافی سے اور چالیس فیصد میموگرامی اور معائینہ سے پتہ لگایا جاسکتاہے۔ اس لئے معائینہ کے بعد میموگرافی کے علاوہ معالج سے مشورہ بھی ضروری ہے۔
9۔کسی عورت کا یہ کہنا ’’ میرے سرطان میں مبتلا ہونے کے خطرات بہت زیادہ ہیں اور میں کچھ نہیں کرسکتی۔ ۔ ۔ ‘‘
نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن عو رتوں میں سرطانِ پستان میں مبتلا ہونے کے سبھی امکانات یا خطرا ت موجود ہیں ان میں ان کو اگر یکسر ختم نہیں پر کم تو یا جاسکتاہے۔انہیں اپنا طرزِ زندگی بدلنا پڑتاہے۔ ایک منظم ومرتب طرزِ زندگی اپنانے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ورزش کی عادت ڈالنی چاہئے۔چونکہ آزاد خیال طبقہ کی کئی خواتین شراب نوشی اور سگریٹ نوشی کی عادی ہوتی ہیں لہٰذا انہیں اسے فوراً ترک کرنا چاہئے۔ ڈاکٹری صلاح مشورہ کے بعد ادویات (ٹیموکسفین ۔Tamoxifen) کااستعمال کرنا چاہئے اور ضرورت پڑے تو اس بیماری میں ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرکے پستانوں کی احتیاطی جراحی کے بارے میں صلاح لینی چاہئے۔ احتیاطی یا بچا? جراحی میں دونوں پستانوں کے علاوہ تخم دانیوں کو بھی جسم سے جْدا کرنا پڑتاہے۔ یہ بات یقینی بنائیں کہ اگر کوئی عورت بہت زیادہ خطرات میں مبتلا ہے تو کسی ماہرِ جینز سے مشورہ کرکے یہ بات واضع کرلے کہ وہ کتنے خطرات میں مبتلا ہے اوراْس کے بچا? کے لئے کیا کیا جاسکتاہے۔
10۔سرطانِ پستان بذات خود مریض کی موت کا اعلان ہے۔
نہیں۔ ۔ ۔ اگر سرطان پستان ابتدائی مراحل میں تشخیص دیا جائے اور ادویات یا ’’جراحی وادویات‘‘ پر عمل کیا جائے تو اِس بیماری میں مبتلا عورت ایک نارمل زندگی گذار سکتی ہے۔ اسلئے وہم ، ڈر اور خوف کو چھوڑ کر علاج ومعالجہ کرنے کی ضرورت ہے تا کہ اس بیماری سے نجات ملے۔ اسّی فیصد سرطانِ پستان میں مبتلا عورتوں میں یہ بیماری جسم کے دوسرے اعضائ[L:4 R:4] میں سرایت کرجانے کی نشانیاں موجود نہیں ہوتی ہیں۔ جس کا مطب یہ ہے کہ سرطان جسم میں پھیلا ہوا نہیں ہوتاہے اور ابھی قابو میں ہے۔ علاوہ ازیں اسّی فیصد عورتیں سرطان کے پھیل جانے کے بعد بھی پانچ برس سے زائد زندہ رہتی ہیں اور کچھ عورتیں اس مدت سے زیادہ بھی نارمل زندگی گزار سکتی ہیں اور پھر انسان اور ڈاکٹروں ،دونوں کا فرض ہے کہ بیماری میں مبتلا انسان آخری دَم تک اپنا علاج ومعالجہ کرتارہے کیونکہ زندگی بہر حال زندگی ہے
(یواین این)