چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے شیریں جناح کالونی سےآئل ٹرمینل کی ذوالفقارآباد منتقلی کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں آنےوالےآئل ٹینکرزشہریوں کیلئےدردسر اورتکلیف کاباعث ہیں،یہاں جوکام شروع ہوجائے ختم نہیں ہوتا، جتنےآرڈرپاس کردیں عمل درآمد نہیں ہوتا۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے آئل ٹرمینل کی منتقلی کے لیے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری سے مہلت طلب کرلی۔
ٹرمینل کی منتقلی کیس کی سماعت چیف جسٹس ، جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے کی۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہاں جو کام شروع ہوجائے ختم نہیں ہوتا،جتنے آرڈر پاس کردیں عمل درآمد نہیں ہوتا،ٹریٹمنٹ پلانٹ کا کیس 1992 ءسے چل رہا ہے مگر آج تک حکومت بہانے بنا رہی ہے۔
جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ شہر میں آنے والے آئل ٹینکرز شہریوں کیلئے تکلیف کا باعث ہیں۔
اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات کے بعد کے ایم سی رپورٹ پیش کرسکے گی۔
عدالت نے کمشنر کراچی کو جامع رپورٹ پیش کرنے کیلئے ستمبر تک کی مہلت دے دی۔