امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر کہتے ہیں کہ افغانستان میں مختلف گروپ کے داعش سے منسلک ہورہےہیںجن کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ طالبان کے مختلف دھڑوں میں لڑائی اور ان کے کمزور ہونے سے افغان شہریوں کے تحفظ میں بہتری کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔
امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کو امید ہے کہ طالبان کے دھڑوں میں ہونے والی لڑائیاں انہیں کمزور کردیں گے۔ اس پر مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ دھڑوں میں بٹنے سے طالبان کی افغان شہریوں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت کم ہوگی تاہم اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ طالبان اس بات کو سمجھیں کہ افغان مسئلے کا حل طویل جنگ نہیں ہے۔
ٹونر کا کہنا تھا کہ طالبان کو چاہیے کہ وہ ہتھیار رکھ دیں، آئین کو تسلیم کریں اور افغان امن عمل میں شرکت کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے داعش اورالقاعدہ کی فنڈزتک رسائی روکنے کیلئے بڑے اقدامات کیے، دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنا اب بھی بڑا چیلنج ہے۔