14.10.2026, 08:13am , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

٭19 اگست 1963ء کو مولوی تمیز الدین ڈھاکا میں وفات پاگئے 
19.08.2016, 03:20am , جمہ (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی
مولوی تمیز الدین کی وفات

٭19 اگست 1963ء کو پاکستان آئین کی بالادستی کے پہلے علم بردار مولوی تمیز الدین ڈھاکا میں وفات پاگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔
مولوی تمیز الدین مارچ 1889ء میں فرید پور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1914ء میں انہوں نے قانون کی ڈگری حاصل کی ۔ 1926ء میں وہ پہلی مرتبہ بنگال کی مجلس قانون کے رکن بنے۔ 1937ء میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے نہ صرف بنگال کی مجلس قانون کے رکن بنے بلکہ غیر منقسم بنگال کی کابینہ میں میں بھی شامل کئے گئے۔ 1945ء کے انتخابات میں وہ ہندوستان کی مرکزی مجلس قانون ساز کے رکن اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ 1948ء میں قائداعظم کی وفات کے بعد آپ مجلس دستور کے صدر منتخب کرلئے گئے۔
1954ء میں جب غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کے احکام صادر کئے تو مولوی تمیز الدین نے اسے سندھ چیف کورٹ میں چیلنج کردیا۔ ہائی کورٹ نے مولوی تمیز الدین کے حق میں فیصلہ دیا مگر حکومت نے فیڈرل کورٹ میں اپیل دائرکردی جہاں فیصلہ گورنر جنرل کے حق میں ہوا اور یوں دستور اسمبلی توڑنے کا قدم جائز قرار دے دیا گیا۔
کچھ عرصہ سیاست سے کنارہ کش رہنے کے بعد 1962ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن اور بعدازاں اسپیکر منتخب ہوئے۔ انتقال کے وقت بھی وہ اسی عہدے پر فائز تھے۔
------------------------------------------------------------------------------------------

سید شوکت حسین رضوی کی وفات

٭19 اگست 1998ء کو مشہور فلم ساز اور ہدایت کار سید شوکت حسین رضوی لاہور میں وفات پاگئے۔
سید شوکت حسین رضوی 1913ء میں میرزا پور (یوپی، بھارت) میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی فلمی زندگی کا آغاز کلکتہ کے میڈن تھیٹر سے کیا جہاں انہوں نے بحیثیت تدوین کار اپنے کام میں مکمل دسترس حاصل کی۔ لاہور کے مشہور فلم ساز سیٹھ دل سکھ پنچولی انہیں کلکتہ سے لاہور لے آئے جہاں انہوں نے گل بکائولی ، خزانچی اور کچھ دیگر فلموں کی تدوین بڑے ہنر مندانہ طریقے سے کی، جس کے بعد سیٹھ پنچولی نے اپنی پہلی مسلم سماجی فلم ’’خاندان‘‘ کی ہدایت کاری ان کے حوالے کردی اور انہوں نے اپنی اس اولین فلم سے ایک کامیاب ہدایت کار کی حیثیت سے اپنا لوہا منوالیا۔ اس فلم کی کہانی امتیاز علی تاج نے تحریر کی تھی اوریہی وہ فلم تھی جس میں انہوں نے نورجہاں کو پہلی مرتبہ پران کے مقابلے میں ہیروئن کے طور پر پیش کیا۔اسی فلم کے دوران سید شوکت حسین رضوی اور نورجہاں کے درمیان معاشقے کے آغاز ہوا اور انہوں نے شادی کرلی۔ کچھ عرصے کے بعد یہ فلمی جوڑا بمبئی منتقل ہوگیا جہاں سید شوکت حسین رضوی نے دوست، نوکر، زینت اور جگنو نامی فلموں کی ہدایات دیں۔ قیام پاکستان کے بعد سید شوکت حسین رضوی لاہور میں قیام پذیر ہوئے جہاں انہیں پہلے شیش محل نامی ایک وسیع و عریض عمارت اور پھرسیٹھ دل سکھ پنچولی کا فلم اسٹوڈیو الاٹ ہوا۔ سید شوکت حسین رضوی نے اس اسٹوڈیو کو شاہ نور اسٹوڈیو کا نام دیا۔ پاکستان میں ان کی پہلی فلم ’’چن وے‘‘ تھی۔ اس فلم پر بطور ہدایت کار نورجہاں کا نام دیا گیا تھا۔ یوں نور جہاں کو پاکستان کی پہلی ہدایت کار خاتون ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ چن وے کے بعد سید شوکت حسین رضوی نے گلنار، جان بہار، عاشق اور بہو رانی کی ہدایات دیں۔ سید شوکت حسین رضوی کے ساتھ نورجہاں کی ازدواجی زندگی زیادہ عرصے نہ چل سکی جس کے بعد نور جہاں نے اعجاز درانی سے اور سید شوکت حسین رضوی نے یاسمین سے شادی کرلی۔ سید شوکت حسین رضوی لاہور میں شاہ نور اسٹوڈیو کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔
------------------------------------------------------------------------------------------

شریف نیرّ کی پیدائش

٭ پاکستان کے سینئر فلمی ہدایت کار شریف نیرّ ّ 19 اگست 1922ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گریجویشن تک تعلیم حاصل کی اور ہدایت کار نذیر کے معاون کی حیثیت سے فلم لیلیٰ مجنوں سے اپنی فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس فلم میں لیلیٰ کا کردار سورن لتا نے اور مجنوں کا کردار نذیر نے ادا کیا تھا۔ بحیثیت ہدایت کار،شریف نیرّ کی پہلی فلم یادگار تھی۔ اس فلم میں بھی اداکار نذیر نے ہیرو کا کردار ادا کیا تھا جبکہ اس کی ہیروئن اداکار جیوتی تھی۔
قیام پاکستان کے بعد شریف نیرّ لاہور آگئے جہاں انہوں نے نذیر کے ساتھ اپنی وابستگی برقرار رکھتے ہوئے 1952ء میں ان کی فلم بھیگی پلکیں سے اپنے پاکستانی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انہوں نے لاتعداد فلموں کی ہدایات دیں جن میں محفل، معصوم، عشق پر زور نہیں، نائلہ، لاڈو، ناز، دوستی، ایک تھی لڑکی، شیریں فرہاد اور جھومر چور کے نام سرفہرست تھے۔
شریف نیرّ کی یادگار فلموں میں نائلہ اور دوستی کے نام سرفہرست ہیں۔  1965ء میں ریلیز ہونے والی ان کی فلم نائلہ نے بہترین اردو فلم اور بہترین ہدایت کار سمیت 8 نگار ایوارڈز حاصل کئے جبکہ 1971ء میں ریلیز ہونے والی فلم دوستی نے بھی بہترین اردو فلم اور بہترین ہدایت کار سمیت 8 نگار ایوارڈز حاصل کئے۔
شریف نیرّ نے بھارتی فلموں کی معروف رقاصہ ککو کی بہن سے شادی کی تھی۔ پاکستان کے مشہور فلم ساز اور ہدایت کا اعجاز درانی ان کے داماد تھے۔
*24 اپریل 2007ء کو ہدایت کار شریف نیرّ لاہور میں وفات پاگئے۔وہ لاہور میں گارڈن ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

:دیگر مضامین
(18.08.2016) ٭ پاکستان کے سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو 18 اگست 1932ء کوسانگھڑ میں پیدا ہوئے
(17.08.2016) ٭17 اگست 1988ء جنرل محمد ضیاء الحق ایک فضائی حادثے میں جاں بحق
(16.08.2016) ٭16 اگست 1997ء کواستاد نصرت فتح علی خان لندن میں وفات پاگئے
(15.08.2016) شاعر اختر حسین جعفری 15 اگست 1932ء کو ہوشیار پور میں پیدا ہوئے
(14.08.2016) مصورہ ناہید چٹھہ کے برش اور رنگوں کی نظر سے یوم آزادی
(13.08.2016) ٭ 14گست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خود مختارملک پاکستان ابھرا
(13.08.2016) نازیہ حسن 13 اگست 2000ء کو لندن میں وفات پاگئیں
(12.08.2016) جنرل محمد ضیا الحق 12 اگست 1924 ء کوجالندھر میں پیدا ہوئے
(11.08.2016)  گیارہ اگست کے دن کو پاکستان کا قومی یوم اقلیت قرار دیا 
(10.08.2016) فضل الٰہی چوہدری10 اگست کو صدر پاکستان منتخب ہوئے
(09.08.2016) جنرل یحیی خان 9  اگست 1980ء کو خالق حقیقی سے جاملے
(08.08.2016) ٭پاکستان کے معروف مزاحیہ اداکار نرالا کی تاریخ پیدائش 8 اگست 1937ء  ہے۔
(07.08.2016) میجر طفیل محمد نے 7 اگست 1958ء کو جام شہادت نوش کیا تھا۔
(06.08.2016)  عزیز بھٹی شہید (نشان حیدر)  6 -اگست  1923ء کو ہانگ کانگ میں پیدا  ہوئے
(05.08.2016) ٭ اردو کے نامور مزاح نگار اور مترجم کرنل محمد خان کی تاریخ پیدائش 5۔ اگست 1910ء ہے
(04.08.2016) صوفی غلام مصطفی تبسم 4 اگست 1899ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے
(03.08.2016) ٭3 اگست 1962ء کو اداکارہ شبنم کی پہلی فلم ’’چندا‘‘ ریلیز ہوئی
(02.08.2016) ٭ پاکستان کے نامور انقلابی رہنما حسن ناصر کی تاریخ پیدائش  2اگست1928ء ہے
(01.08.2016) ن۔م۔ راشد یکم اگست 1910ء کواکال گڑھ ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے
(31.07.2016) ٭31 جولائی 1893ء مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی تاریخ پیدائش ہے۔



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں