روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے جزیرہ نما کریمیا کے حوالے سے روس اور یوکرائن کے درمیان کشیدگی میں شدت آنے کے ایک ہفتے بعد یوکرائن کی مغرب نواز قیادت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حالات کو جان بوجھ کر خراب کر رہی ہے۔ پوٹن آج کریمیا میں ہیں، جہاں اُن کی قیادت میں قومی سلامتی کونسل کا ایک اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اس اجلاس میں کریمیا پر حفاظتی انتظامات کو مزید بہتر بنانے پر بات ہو رہی ہے۔ روس نے 2014ء میں اس جزیرہ نما کو زبردستی اپنے ساتھ ملا لیا تھا جبکہ دَس اگست کو روس نے یوکرائن پر کریمیا میں سبوتاژ کارروائیوں اور دہشت گردی کا الزام عائد کیا تھا۔ اس کے بعد یوکرائن نے اپنی فوجوں کو چوکس رہنے کا حکم دیے دیا تھا جبکہ پوٹن نے جوابی اقدامات کی دھمکی دی تھی۔ مغربی دنیا اس ساری صورتحال کو تشویش کی نظروں سے دیکھ رہی ہے۔