مقبوضہ کشمیر میں میں 43روزسے کرفیولگاہے؟کشمیر کے گھروں میں کھانے پینے کا سامان ختم ہوگیا ، بچے دودھ سے محروم ہیں ، اسپتال بھارتی فوج کے مظالم کے شکار زخمیوں سے بھر گئے۔
اس صورتحال میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کا صبر جواب دےگیا،جس نے عالمی برادری سے فریاد کرتے ہوئے سوال کیا ہےکہ آخرہم پربھارتی مظالم کاخاتمہ کب ہوگا؟۔
ریاستی حکومت نے کرفیو کی صورتحال میں سرکاری ملازمین کو دفاتر آنے کی ہدایت کی ہےاور دھمکی دی ہے کہ دفتر نہ پہنچنے والے ملازمین کو تنخواہیں اد ا نہیں کی جائیں گی۔
بھارت کی اپوزیشن جماعتیں آج کشمیر کی صورتحال پر صدر پرناب مکھرجی سے ملاقات کریں گی۔بھارتی اخبار نے اعتراف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیرکی صورتحال بریکنگ پوائنٹ پرآگئی ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی فوج کےہاتھوں نوجوان برہان وانی کی9جولائی کوہلاکت کےبعدسےوادی میں کرفیوہے،ان 43دنوں میں 83کشمیری شہید اور 8ہزار سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔